Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Taghabun

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ

 (تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں

یعنی آسمان و زمین کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہر نقص وعیب سے تنزیہ وتقدیس بیان کرتی ہے زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔

لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ۖ

اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے

یہ دونوں خوبیاں بھی اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کسی کو کوئی اختیار حاصل ہے تو وہ اسی کا عطا کردہ ہے جو عارضی ہے، کسی کے پاس کچھ حسن و کمال ہے تو اسی مبدأ فیض کی کرم گستری کا نتیجہ ہے، اس لئے اصل تعریف کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔

وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(1)

اور وہ ہر ہرچیز پر قادر ہے۔‏

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ ۚ

اسی نے تمہیں پیدا کیا سو تم میں سے بعضے تو کافر ہیں اور بعض ایماندار ہیں

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(2)

اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے۔

یعنی انسان کے لیے خیروشر، نیکی اور بدی اور کفروایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ واختیار کی جوآزادی دی ہے اس کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا ہے۔ اگر وہ جبر کرتا تو کوئی بھی شخص کفر کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا۔

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ

اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو عدل و حکمت سے پیدا کیا

اور وہ عدل و حکمت یہی ہے کہ محسن کو احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چنانچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔

وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ

اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں

تمہاری شکل وصورت، قدو قامت اور خدوخال نہایت خوبصورت بنائے۔ جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔

وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ(3)

اور اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔‏

کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مؤاخذے سے بچاؤ ہو جائے۔

يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۚ

وہ آسمان و زمین کی ہر ہرچیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ظاہر کرو وہ (سب کو) جانتا ہے

وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ(4)

اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے والا ہے ۔‏

یعنی اس کا علم کائنات ارضی و سماوی سب پر محیط ہے بلکہ تمہارے سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے،

 اس سے قبل جو وعدے اور وعیدین بیان ہوئی ہیں، یہ ان کی تاکید ہے۔

أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ

کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا

یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔

 وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ(5)

اور جن کے لئے دردناک عذاب ہے

یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔

ذَلِكَ بِأَنَّهُ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوْا ۚ

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا

پس انکار کر دیا (١) اور منہ پھیر لیا (٢)

۱۔  چنانچہ اس بنا پر انہوں نے رسولوں کو رسول ما ننے سے اور ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔

۲۔  یعنی ان سے اعراض کیا اور جو دعوت وہ پیش کرتے تھے، اس پر انہوں نے غور و تدبر ہی نہیں کیا۔

وَاسْتَغْنَى اللَّهُ ۚ

اور اللہ نے بےنیازی کی

یعنی ان کے ایمان اور ان کی عبادت سے۔

وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ(6)

اور اللہ تو ہے بےنیاز (١) سب خوبیوں والا۔ )‏

۱۔ اس کو کسی کی عبادت سے کیا فائدہ اور اس کی عبادت سے انکار کرنے سے کیا نقصان؟

۲۔ یا محمود ہے تمام مخلوقات کی طرف سے یعنی ہر مخلوق زبان حال وقال سے اس کی حمد وتعریف میں رطب اللسان ہے۔

زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا ۚ

ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوبارہ زندہ نہ کئے جائیں گے

یعنی یہ عقیدہ کہ قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یہ کافروں کا محض گمان ہے جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں ۔

 زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔

قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ

آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (۱) پھر جو تم نے کیا اس کی خبر دیئے جاؤ گے (۲)

۱۔  قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورہ یونس، اور دوسرا مقام سورہ سبا ہے۔

۲۔ یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرے گا؟ تاکہ وہاں پر ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔

وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ(7)

اور اللہ پر یہ بلکہ آسان ہے ۔‏

یہ دوبارہ زندگی، انسانوں کو کتنی ہی مشکل نظر آتی ہو، لیکن اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔

فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا ۚ

سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کے نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نازل ہونے والا یہ نور قرآن مجید ہے، جس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور ایمان کی روشنی پھیلتی ہے۔

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ(8)

اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے۔‏

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ

جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن  جمع کرے گا

قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔

ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ

وہی دن ہے ہار جیت کا

یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔

وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ

اور جو شخص اللہ پر ایمان لا کر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا

اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ(9)

یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‏

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی (سب) جہنمی ہیں (جو) جہنم میں ہمیشہ رہیں گے،

وَبِئْسَ الْمَصِيرُ(10)

وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔‏

مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ

کوئی مصیبت اللہ کے بغیر نہیں پہنچ سکتی

یعنی اس کی تقدیر اور مشیت سے ہی اس کا ظہور ہوتا ہے۔

بعض کہتے ہیں اس کے نزول کا سبب کفار کا یہ قول ہے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو دنیا کی مصیبتیں انہیں نہ پہنچتیں ۔

(فتح القدیر)

وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ

جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے

یعنی وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہی پہنچا ہے پس وہ صبر اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ کرتا ہے۔

 وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ(11)

اور اللہ ہرچیز کو خوب جاننے والا ہے۔‏

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۚ

(لوگو) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو۔

فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ(12)

پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمے صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔‏

یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔

امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے ۔ (فتح القدیر)

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ(13)

اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہیئے۔

یعنی تمام معاملات اسی کو سونپیں، اسی پر اعتماد کریں اور صرف اسی سے دعا والتجا کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ہی نہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ

اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں (١) پس ان سے ہوشیار رہنا (٢)

۱۔  یعنی جو تمہیں عمل صالح اور اطاعت الٰہی سے روکیں، سمجھ لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں، دشمن ہیں۔

۲۔ یعنی ان کے پیچھے لگنے سے بچو، بلکہ انہیں اپنے پیچھے لگاؤ تاکہ وہ بھی اطاعت الٰہی اختیار کریں، نہ کہ ان کے پیچھے لگ کر اپنی عاقبت خراب کر لو۔

وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ(14)

اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔‏

اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکے میں مسلمان ہونے والے بعض مسلمانوں نے مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ اس وقت ہجرت کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے بیوی بچے آڑے آگئے اور انہوں نے انہیں ہجرت نہیں کرنے دی پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں نے دین میں بہت زیادہ سمجھ حاصل کر لی تو انہیں اپنے بیوی بچوں پر غصہ آیا، جنہوں نے انہیں ہجرت سے روکا تھا، چنانچہ انہوں نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں انہیں معاف کرنے اور درگذر سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ

تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں

جو تمہیں کسب حرام پر اکساتے ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے سے روکتے ہیں پس اس آزمائش میں تم اسی وقت سرخرو ہوسکتے ہو جب تم اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرو۔

 مطلب یہ ہوا کہ مال واولاد جہاں اللہ کی نعمت ہیں وہاں انسان کی آزمائش کا ذریعہ بھی ہیں اس طرح اللہ دیکھتا ہے کہ کون میرا فرمانبردار ہے اور کون نافرمان۔

وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ(15)

اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے۔

یعنی اس شخص کے لئے جو مال و اولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتا ہے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ ۗ

پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ (١)

اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لئے بہتر ہے

یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لئے کہ صرف سن لینا بےفائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔

وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(16)

جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے۔‏

إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ

اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو گے) (١) تو وہ اسے بڑھاتا جائے گا

اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا (٢)

۱۔   یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔

 ۲۔  یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔

وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ(17)

اللہ بڑا قدردان اور بڑا برد بار ہے ۔‏

وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر و ثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔

عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(18)

وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے زبردست حکمت والا (ہے)۔‏

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com