Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Fath

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا )

بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔

۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ١٤ سو کے قریب صحاب اکرام رضوان علیہم اجمعین عمرے کی نیت سے مکہ تشریف لے گئے، لیکن مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا عمرہ نہیں کرنے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ کو اپنا نمائندہ بنا کرمکہ  بھیجا تاکہ قریش کے سرداروں سے گفتگو کر کے انہیں مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ کریں کفار مکہ نے اجازت نہیں دی اور مسلمانوں نے آئندہ سال کے وعدے پر واپسی کا ارادہ کر لیا وہیں اپنے سر بھی منڈوا لئے اور قربانیاں کرلیں۔

نیز کفار سے بھی چند باتوں کا معاہدہ ہوا جنہیں صحابہ کرام کی اکثریت ناپسند کرتی تھی لیکن نگاہ رسالت نے اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے، کفار کی شرائط پر ہی صلح کو بہتر سمجھا۔

 حدیبیہ سے مدینے کی طرف آتے ہوئے راستے میں یہ سورت اتری، جس میں صلح کو فتح مبین سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ یہ صلہ فتح مکہ کا ہی پیش خیمہ ثابت ہوئی اور اس کے دو سال بعد ہی مسلمان مکے میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔

 اسی لئے بعض صحابہ اکرام کہتے تھے کہ تم فتح مکہ کو شمار کرتے ہو لیکن ہم حدیبیہ کی صلح کو فتح شمار کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کی بابت فرمایا کہ آج کی رات مجھ پر وہ سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ما فیہا سے زیادہ محبوب ہے۔  (صحیح بخاری)

لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا )

تاکہ جو کچھ تیرے گناہ آگے ہوئے اور پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے (۱) اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے (۲)

اور تجھے سیدھی راہ چلائے ۔(۳)

۱۔ اس سے مراد ترک اولی والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فہم واجتہاد سے کیے لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورہ عبس کا نزول ہوا یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں لیکن آپ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کوتاہیاں شمار کر لیا گیا جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے۔

 لیغفر میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور حسنات وبلندی درجات میں بھی ۔

۲۔  اس دین کو غالب کر کے جس کی تم دعوت دیتے ہو، یا فتح وغلبہ عطا کر کے۔

اور بعض کہتے ہیں کہ مغفرت اور ہدایت پر یہی تمام نعمت ہے ۔ (فتح القدیر)

۳۔  یعنی اس پر استقلال نصیب فرمائے۔ ہدایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازے۔

وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا )

اور آپ کو ایک زبردست مدد دے۔‏

هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ ۗ

وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون اور اطمینان ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں

یعنی اس اضطراب کے بعد جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی جس سے ان کے دلوں کو اطمینان سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا۔

 یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے ۔

وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا )

اور آسمانوں اور زمین کے (کل) لشکر اللہ ہی کے ہیں (۱) اور اللہ تعالیٰ دانا با حکمت ہے۔‏

یعنی اگر اللہ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلاً فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مؤمنوں کو قتال و جہاد کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے آگے اپنی صفت علیم و حکیم بیان ہے۔

یا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کے فرشتے اور اس طرح دیگر ذی شوکت و قوت لشکر سب اللہ کے تابع ہیں اور ان سے جس طرح چاہتا ہے کام لیتا ہے۔ بعض دفعہ وہ ایک کافر گروہ کو ہی دوسرے کافر گروہ پر مسلط کر کے مسلمانوں کی امدادکی صورت پیدا فرما دیتا ہے۔

مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ اے مؤمنو! اللہ تعالیٰ تمہارا محتاج نہیں ہے وہ اپنے پیغمبر اور اپنے دین کی مدد کا کام کسی بھی گروہ اور لشکر سے لے سکتا ہے۔ ابن کثیر و ایسر التفاسیر

لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ

تاکہ مؤمن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن (۱) کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

اور ان سے ان کے گناہ دور کردے،

حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں نے سورہ فتح کا ابتدائی حصہ سنا لیغفرلک اللہ تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک ہو ہمارے لیے کیا ہے جس پر اللہ نے آیت لیدخل المؤمنین نازل فرما دی۔  (صحیح بخاری باب غزوہ الحدیبیۃ)

وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا )

 اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‏

وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۚ

اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے

جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں۔

یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر مہتم کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہو جائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا ۔(ابن کثیر)

عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۖ

 (دراصل)  انہیں پر برائی کا پھیرا ہے   

یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں، وہ تو انہی کا مقدر بننے والی ہے

وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا )

اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‏

وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا )

اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت ومشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا )

یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔‏

لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا )

تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام۔‏

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ

جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں (١) ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے (۲)

۱۔ یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا ہے اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا:

یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے۔ سورۃ  التوبہ ۔۱۱۱

یہ اسی طرح ہے جیسے:

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔ سورۃ النساء ۸۰

۲۔  آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان شہادت کی خبر سن کر ان کا انتقام لینے کے لئے حدیبیہ میں موجود ١٤ یا ١٥ سو مسلمانوں سے  لی تھی۔

فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ ۖ

تو جو شخص عہد شکنی کرے وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے

نَكَثَ ، (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔

وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (۱۰)

اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے (۱) تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا۔‏

کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرے گا، ان کے ساتھ ہو کر لڑے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی فتح و غلبہ عطا فرما دے۔

سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ

دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے رہ گئے

 پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے ۔

اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے غفار مزینہ جہینہ اسلم اور وئل مراد ہیں۔

 جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھنے کے بعد (جس کی تفصیل آگے آئے گی) عمرے کے لیے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی مذکورہ قبیلوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لیے ساز گار نہیں ہیں وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لیے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جا سکتے اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے اس وقت مکے جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے چنانچہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرے کے لیے نہیں گئے ۔

اللہ تعالیٰ ان کی بابت فرما رہا ہے کہ یہ تجھ سے مشغو لیتوں کا عذر پیش کر کے طلب مغفرت کی التجائیں کریں گے ۔

يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ

یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے،

یعنی زبانوں پر تو یہ ہے کہ ہمارے پیچھے ہمارے گھروں کی اور بیوی بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہمیں خود ہی رکنا پڑا لیکن حقیقت میں ان کا پیچھے رہنا نفاق اور اندیشہ موت کی وجہ سے تھا ۔

قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ

آپ جواب دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے (۱)

یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے ، (۲)

۱۔ یعنی اگر اللہ تمہارے مال ضائع کرنے اور تمہارے اہل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لے تو کیا تم سے کوئی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اللہ کو ایسا نہ کرنے دے۔

 یعنی تمہیں مدد پہنچانا اور تمہیں غنیمت سے نوازنا چاہے تو کوئی روک سکتا ہے۔

 ۲۔ یہ دراصل مذکورہ متخلفین پیچھے رہ جانے والوں کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تو نقصان سے محفوظ اور منافع سے بہرہ ور ہوں گے حالا نکہ نفع وضرر کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔

بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (۱۱)

بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے ۔‏

یعنی تمہیں تمہارے عملوں کی پوری جزا دے گا۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ

نہیں بلکہ تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے

 اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا

 اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا۔ ی

ہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔

وَكُنْتُمْ قَوْمًا بُورًا (۱۲)

دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے۔

بُورًا ، بائر کی جمع ہے ہلاک ہونے والا

یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے اگر دنیا میں یہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جا سکتے وہاں تو عذاب ہے ہر صورت میں بھگتنا ہوگا ۔

وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا (۱۳)

اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو ہم نے بھی ایسے کافروں کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔‏

وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ

وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (۱۴)

اور زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے

 اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

اس میں متخلفین کے لیے توبہ وانابت الی اللہ کی ترغیب ہے کہ اگر وہ نفاق سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ

جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے،

اس میں غزوہ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی

 نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے چنانچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کی وجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لیے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا جسے منظور نہیں کیا گیا۔

آیت میں مَغَانِمَ سے مراد مَغَانِمَ خیبر ہی ہیں ۔

يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں ۔

اللہ کے کلام سے مراد، اللہ کا خیبر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے، منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے وعدے کو بدلنا چاہتے تھے۔

قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِنْ قَبْلُ ۖ

 آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے

یہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے۔

فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ

وہ اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو

یعنی یہ متخلفین کہیں گے کہ تم ہمیں حسد کی بنا پر ساتھ لے جانے سے گریز کر رہے ہو تاکہ مال غنیمت میں ہم تمہارے ساتھ شریک نہ ہوں۔

بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا  (۱۵)

 (اصل بات یہ ہے) کہ وہ لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں

یعنی بات یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں، بلکہ یہ پابندی ان کے پیچھے رہنے کی پا داش میں ہے۔ لیکن اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔

قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ

آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے

 کہ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے

اس جنگجو قوم کی تعیین میں اختلاف ہے بعض مفسرین اس سے عرب کے ہی بعض قبائل مراد لیتے ہیں مثلا ہوازن یا ثقیف جن سے حنین کے مقام پر مسلمانوں کی جنگ ہوئی یا مسیلمۃ الکذاب کی قوم بنو حنیفہ اور بعض نے فارس اور روم کے مجوسی وعیسائی مراد لیے ہیں

 ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہا جا رہا ہے کہ عنقریب ایک جنگجو قوم سے مقابلے کے لیے تمہیں بلایا جائے گا اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو تمہاری اور ان کی جنگ ہوگی۔

فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ

پس اگر تم اطاعت کرو (۱) گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا (۲)

۱۔  یعنی خلوص دل سے مسلمانوں کے ساتھ ملکر لڑو گے۔

۲۔  دنیا میں غنیمت اور آخرت میں پچھلے گناہوں کی مغفرت اور جنت۔

وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (۱۶)

اور اگر تم نے منہ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منہ پھیر چکے ہو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا ۔‏

یعنی جس طرح حدیبیہ کے موقع پر تم نے مسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے سے گریز کیا تھا، اسی طرح اب بھی تم جہاد سے بھاگو گے، تو پھر اللہ کا دردناک عذاب تمہارے لئے تیار ہے۔

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ ۗ

اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے،

بصارت سے محرومی اور لنگڑے پن کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذوری۔ یہ دونوں عذر لازمی ہیں۔ ان اصحاب عذر یا ان جیسے دیگر معذورین کو جہاد سے مستثنٰی کر دیا گیا ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں وہ عارضی عذر ہیں۔

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَمَنْ يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا (۱۷)

جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرما نبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں

 اور جو منہ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا۔‏

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ

یقیناً اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے

 یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لیے رضائے الہی اور ان کے پکے سچے مؤمن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے ۔

فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا  (۱۸)

ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کرلیا (۱) اور ان پر اطمینان نازل فرمایا (۲) اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔ (۳)‏

۱۔ یعنی ان کے دلوں میں جو صدق و صفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ اکرام کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔

۲۔  یعنی وہ نہتے تھے جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے اس لیے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے اس کے باوجود جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ کا بدلہ لینے کے لیے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنی ٰتامل سب لڑنے کے لیے تیار ہوگئے یعنی ہم نے موت کا خوف ان کے دلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر و سکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔

۳۔  اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔

وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (۱۹)

اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وہ حاصل کریں (۱) گے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‏

یہ وہ غنیمتیں ہیں جو خیبر سے حاصل ہوئیں یہ نہایت زرخیز اور شاداب علاقہ تھا اسی حساب سے یہاں سے مسلمانوں کو بہت بڑی تعداد میں غنیمت کا مال حاصل ہوا جسے صرف اہل حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا ۔

وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ

اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے (١) جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی (۲)

۱۔ یہ دیگر فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی غنیمتوں کی خوشخبری ہے جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہونے والی ہیں۔

۲۔ یعنی فتح خیبر یا صلح حدیبیہ کیونکہ یہ دونوں تو فوری طور پر مسلمانوں کو حاصل ہوگئیں ۔

وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (۲۰)

اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے (۱) تاکہ مؤمنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے، (۲) تاکہ وہ تمہیں سیدھی راہ چلائے (۳)۔‏

۱۔  حدیبیہ میں کافروں کے ہاتھ اور خیبر میں یہودیوں کے ہاتھ اللہ نے روک دیئے یعنی ان کے حوصلے پست کر دیئے اور وہ مسلمانوں سے مصروف پیکار نہیں ہوئے ۔

۲۔  یعنی لوگ اس واقعے کا تذکرہ پڑھ کر اندازہ لگا لیں گے کہ اللہ تعالیٰ قلت تعداد کے باوجود مسلمانوں کا محافظ اور دشمنوں پر ان کو غالب کرنے والا ہے یا یہ روک لینا تمام موعودہ باتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی نشانی ہے ۔

۳۔  یعنی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے یا اس نشانی سے تمہیں ہدایت میں اور زیادہ کرے۔

وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا(۲۱)

اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا اللہ تعالیٰ نے انہیں قابو کر رکھا ہے (١) اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔‏

یہ بعد میں ہونے والی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والی غنیمت کی طرف اشارہ ہے۔

وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (۲۲)

اگر تم کافروں سے جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ تو کوئی کارساز پاتے نہ مددگار ۔

یہ حدیبیہ میں متوقع جنگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ قریش مکہ صلح نہ کرتے بلکہ جنگ کا راستہ اختیار کرتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، کوئی ان کا مددگار نہ ہوتا۔

سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا  (۲۳)

اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے چلا آیا ہے تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا  

یعنی اللہ کی یہ سنت اور عادت پہلے سے چلی آ رہی ہے کہ جب کفر و ایمان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ آرائی کا مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرما کر حق کو سر بلندی عطا کرتا ہے، جیسے اس سنت اللہ کے مطابق بدر میں تمہاری مدد کی گئی۔

وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَ كُمْ عَلَيْهِمْ ۚ

وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا

 اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا تھا

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے ٨٠ آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر ان کو موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام کے خلاف کاروائی کریں چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تغیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کر کے تمام آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کر دیا۔ ان کا جرم شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا پھر جنگ ناگزیر ہو جاتی۔ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا۔ صحیح مسلم

وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا (۲۴)

 اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔‏

هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا (۱) اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاہ میں پہنچنے سے روکا

 وَالْهَدْيَ  اس جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی یا معتمر عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ مکے لے جاتا تھا یا وہیں سے خرید کر ذبح کرتا تھا

 مَحِلَّهُ سے مراد وہ قربان گاہ ہے جہاں ان کو لے جا کر ذبح کیا جاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں یہ مقام معتمر کے لیے مروہ پہاڑی کے پاس اور حاجیوں کے لیے منیٰ تھا اور اسلام میں ذبح کرنے کی چگہ مکہ منیٰ اور پورے حدود حرم ہیں۔

مَعْكُوفًا حال ہے یعنی یہ جانور اس انتظار میں رکے ہوئے تھے کہ مکے میں داخل ہوں تاکہ انہیں قربان کیا جائے

مطلب ہے کہ ان کافروں نے ہی تمہیں بھی مسجد حرام سے روکا اور تمہارے ساتھ جو جانور تھے انہیں بھی اپنی قربان گاہ تک نہیں پہنچنے دیا ۔

وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوهُمْ أَنْ تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُمْ مِنْهُمْ مَعَرَّةٌ بِغَيْرِعِلْمٍ ۖ

اور اگر ایسے بہت سے مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی (۱) یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بےخبری میں ضرر پہنچتا ) تو تمہیں لڑنے کی اجازت دی جاتی (۳) لیکن ایسا نہیں کیا (۴)

۱۔ یعنی مکہ میں اپنا ایمان چھپائے رہ رہے تھے۔

۲۔ کفار کے ساتھ لڑائی کی صورت میں ممکن تھا کہ یہ بھی مارے جاتے اور تمہیں ضرر پہنچتا

مَعَرَّةٌ  کے اصل معنی عیب کے ہیں

 یہاں مراد کفارہ اور وہ برائی اور شرمندگی ہے جو کافروں کی طرف سے تمہیں اٹھانی پڑتی یعنی ایک تو قتل خطا کی دیت دینی پڑتی اور دوسرے کفار کا یہ طعنہ سہنا پڑتا کہ یہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو بھی مار ڈالتے ہیں ۔

۳۔  یہ لَوْلَا کا محذوف جواب ہے

یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو تمہیں مکے میں داخل ہونے کی اور قریش مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دی جاتی ۔

۴۔  بلکہ اہل مکہ کو مہلت دے دی گئی تاکہ جس کو اللہ چاہے قبول اسلام کی توفیق دے دے۔

لِيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (۲۵)

تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو دردناک سزا دیتے

تَزَيَّلُوا بمعنی تمیزوا ہے

 مطلب یہ ہے کہ مکے میں آباد مسلمان اگر کافروں سے الگ رہائش پذیر ہوتے تو ہم تمہیں اہل مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمہارے ہاتھوں ان کو قتل کرواتے اور اس طرح انہیں دردناک سزا دیتے عذاب الیم سے مراد یہاں قتل قیدی بنانا اور قہر اور غلبہ ہے۔

إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ  

جب کہ (۱) ان کافروں نے اپنے دلوں میں غیرت کو جگہ دی اور غیرت بھی جاہلیت کی،

إِذْ کا ظرف یا تو لعذبتا ہے یا واذکرو محذوف ہے یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ ان کافروں نے

فَأَنْزَلَ اللَّهُ  سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ  

سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مؤمنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی

 کفار کی اس حمیت جاہلیہ (عار اور غرور) سے مراد اہل مکہ کا مسلمانوں کو مکے میں داخل ہونے سے روکنا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور باپوں کو قتل کیا ہے لات وعزی کی قسم ہم انہیں کبھی یہاں داخل نہیں ہونے دیں گے یعنی انہوں نے اسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنا لیا اسی کو حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے۔کیونکہ خانہ کعبہ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا قریش مکہ کے اس معاندانہ رویے کے جواب میں خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی شدت آ جاتی اور وہ بھی اسے اپنے وقار کا مسئلہ بنا کر مکے جانے پر اصرار کرتے جس سے دونوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی اور یہ لڑائی مسلمانوں کے لیے سخت خطرناک رہتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی یعنی انہیں صبر وتحمل کی توفیق دے دی اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حدیبیہ میں ہی ٹھہرے رہے جوش اور جذبے میں آ کر مکے جانے کی کوشش نہیں کی

 بعض کہتے ہیں کہ اس حمیت جاہلیہ سے مراد قریش مکہ کا وہ رویہ ہے جو صلح کے لیے اور معاہدے کے وقت انہوں نے اختیار کیا یہ رویہ اور معاہدہ دونوں مسلمانوں کے لیے بظاہر ناقابل برداشت تھا لیکن انجام کے اعتبار سے چونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہترین مفاد تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت ناگواری اور گرانی کے باوجود اسے قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرما دیا ۔

اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی یہ بات تسلیم کر لی کہ اس سال مسلمان عمرے کے لیے مکہ نہیں جائیں گے اور یہیں سے واپس ہو جائیں گے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ کو معاہدہ لکھنے کا حکم دیا انہوں نے آپ کے حکم سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھی انہوں نے اس پر اعتراض کر دیا کہ رحمٰن رحیم کو ہم نہیں جانتے ہمارے ہاں جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کے ساتھ یعنی باسمک اللھم اے اللہ تیرے نام سے لکھیں چنانچہ آپ نے اسی طرح لکھوایا۔

پھر آپ نے لکھوایا یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے مصالحت کی ہے قریش کے نمائندوں نے کہا اختلاف کی بنیاد تو آپ کی رسالت ہی ہے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان  لیں تو اس کے بعد جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے پھر ہمیں آپ سے لڑنے کی اور بیت اللہ میں جانے سے روکنے کی ضرورت ہی کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھیں چنانچہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ کو ایسا ہی لکھنے کا حکم دیا۔

 یہ مسلمانوں کے لیے نہایت اشتعال انگیز صورت حال تھی اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سکینت نازل نہ فرماتا تو وہ کبھی اسے برداشت نہ کرتے حضرت علی رضی اللہ نے اپنے ہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ مٹانے اور کاٹنے سے انکار کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ لفظ کہاں ہے بتانے کے بعد خود آپ نے اسے اپنے دست مبارک سے مٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ تحریر کرنے کو فرمایا اس کے بعد اس معاہدے یا صلح نامے میں تین باتیں لکھیں گئیں۔

 ۱۔ اہل مکہ میں سے جو مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے گا اسے واپس کر دیا جائے گا ۔

۲۔ جو مسلمان اہل مکہ سے جا ملے گا وہ اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہوں گے ۔

۳۔ مسلمان آئندہ سال مکے میں آئیں گے اور یہاں تین دن قیام کر سکیں گے تاہم انہیں ہتھیار ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔(صحیح مسلم کتاب الجہاد)

اور اس کے ساتھ دو باتیں اور لکھی گئیں ۔۔

۱۔ اس سال لڑائی موقوف رہے گی ۔

۲۔ قبائل میں سے جو چاہے مسلمانوں کے ساتھ اور جو چاہے قریش کے ساتھ ہو جائے ۔

وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ

اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا (۱) اور وہ اس کے اہل اور زیادہ مستحق تھے

اس سے مراد کلمہ توحید و رسالت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے، جس سے حدیبیہ والے دن مشرکین نے طواف و عمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس خواب میں یہ تعین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان، اس بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے، عمرے کے لئے فوراً ہی آمادہ ہوگئے اور اس کے لئے عام منادی کرا دی گئی اور چل پڑے۔ بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی، جس کی تفصیل ابھی گزری، دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی، جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔

وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (۲۶)

اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو خوب جانتا ہے۔‏

لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ

لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ

یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچ کر دکھایا

کہ انشاء اللہ تم یقیناً پورے امن و امان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہو گے سر منڈواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر ،

واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھا گیا ۔نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرے کے لیے فوراً ہی آمادہ ہوگئے اور اس کے لیے عام منادی کرا دی گئی اور چل پڑے بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی جس کی تفصیل ابھی گزری دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا ۔

فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا (۲۷)

وہ ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے (۱) پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی ۔‏(۲)

۱۔ یعنی اگر حدیبیہ کے مقام پر صلح نہ ہوتی تو جنگ سے مکے میں مقیم کمزور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا صلح کے ان فوائد کو اللہ ہی جانتا تھا۔

۲۔  اس سے فتح خیبر و فتح مکہ کے علاوہ، صلح کے نتیجے میں جو بکثرت مسلمان ہوئے وہ بھی مراد ہے، کیونکہ وہ بھی فتح کی ایک عظیم قسم ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ڈیڑھ ہزار تھے، اس کے دوسال بعد جب مسلمان مکے میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو ان کی تعداد دس ہزار تھی۔

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے،

اسلام کا یہ غلبہ دیگر ادیان پر دلائل کے لحاظ سے تو ہر وقت مسلم ہے تاہم دنیاوی اور عسکری لحاظ سے بھی قرون اولی اور اس کے مابعد عرصہ دراز تک جب تک مسلمان اپنے دین پر عامل رہے انہیں غلبہ حاصل رہا اور آج بھی یہ مادی غلبہ ممکن ہے بشرطیکہ مسلمان مسلمان بن جائیں۔

وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ (۳:۱۳۹)

یہ دین غالب ہونے کے لیے ہی آیا ہے مغلوب ہونے کے لیے نہیں ۔

وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (۲۸)

 اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے والا۔‏

تفسیر صلاح الدین

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ۚ

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں

وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ

اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں،

تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ

تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں،

سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ

 ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے،

ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ

 ان کی یہی مثال تورات میں ہے

وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ

اور ان کی مثال انجیل میں ہے (۱) مثل اس کھیتی کے جس نے انکھوا نکالا (۲) پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سید ھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا (۳) تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے ، (٤)

۱۔  انجیل پر وقف کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں جو قران میں بیان ہوئی ہیں ان کی یہی خوبیاں تورات وانجیل میں مذکور ہیں اور آگے كَزَرْعٍ میں اس سے پہلے ھم محذوف ہوگا اور بعض فِي التَّوْرَاةِ پر وقف کرتے ہیں یعنی ان کی مذکرورہ صفت تورات میں ہے اور وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ کو كَزَرْعٍ کے ساتھ ملاتے ہیں یعنی انجیل میں ان کی مثال مانند اس کھیتی کے ہے ۔ فتح القدیر

۲۔  شَطْأَهُ  سے پودے کا پہلا ظہور ہے جو دانہ پھاڑ کر اللہ کی قدرت سے باہر نکلتا ہے۔

۳۔  یہ صحابہ کرام کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ ابتدا میں وہ قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگئے، جیسے کھیتی ابتدا میں کمزور ہوتی ہے، پھر دن بدن قوی ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ مضبوط تنے پر وہ قائم ہو جاتی ہے۔

۴۔  یا کافر غیظ وغضب کا باعث تھی اس لیے کہ اس سے اسلام کا دائرہ پھیل رہا اور کفر کا دائرہ سمٹ رہا تھا

 اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض أئمہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض وعناد رکھنے والوں کو کافر قرار دیا ہے علاوہ ازیں اس فرقہ ضالہ کے دیگر عقائد بھی ان کے کفر پر ہی دال ہیں ۔

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (۲۹)

ان ایمان والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔

اس پوری آیت کا ایک ایک جز صحابہ کرام کی عظمت و فضیلت، اخروی مغفرت اور اجر عظیم کو واضح کر رہا ہے، اس کے بعد بھی صحابہ کرام کے ایمان میں شک کرنے والا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کیوں کر دعوائے مسلمانی میں سچا سمجھا جا سکتا ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com