Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Zumar

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ(۱)

اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب با حکمت کی طرف سے ہے۔‏

إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ

یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ (١) نازل فرمایا ہے

یعنی اس میں توحید و رسالت، معاد اور احکام و فرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔

فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (۲)

پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے

دين کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔

آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کر دی گئی ہے کہ

اِنَّمَا الاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ

عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے

 یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔

أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ

خبر دار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے

یہ اسی اخلاص عبادت کی تاکید ہے۔ جس کا حکم اس سے پہلی آیت میں ہے کہ عبادت و اطاعت صرف ایک اللہ ہی کا حق ہے نہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا جائز ہے نہ اطاعت ہی کا اس کے علاوہ کئی حق دار ہے۔ البتہ رسول ﷺ کی اطاعت کو چونکہ خود اللہ نے اپنی ہی اطاعت قرار دیا ہے اس لیے رسول ﷺ کی  اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے کسی غیر  کی نہیں تا ہم عبادت میں یہ بات بھی نہیں۔ اس لیے عبادت اللہ کے سوا کسی بڑے سے بڑے رسول کی بھی جائز نہیں ہے۔ چہ جائیکہ عام افراد و اشخاص کی جنہیں لوگوں نے اپنے طور پر خدائی اختیارات کا حامل قرار دے  رکھا ہے۔ اللہ کی طرف سے اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى

اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا ء بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم  ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری     رسائی کرا دیں (١)‏۔

اس سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ ہی کو خالق رازق اور مدبر کائنات مانتے تھے۔ پھر وہ دوسروں کی عبادت کیوں کرتے تھے؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے  تھے جو قرآن نے یہاں نقل کیا ہے کہ شاید ان کے ذریعے سے  ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہو جایے یا اللہ کے ہاں یہ ہماری سفارش کر دیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا:

هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ

یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ (۱۰:۱۸)

إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ

یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا سچا فیصلہ اللہ خود کرے گا

کیونکہ دنیا میں تو کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ وہ شرک کا ارتکاب کر رہا ہے یا وہ حق پر نہیں ہے۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ فرمائے گا اور اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ (۳)

جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راہ نہیں دکھاتا

یہ جھوٹ ہی ہے کہ ان معبودان باطلہ کے ذریعے سے ان کی رسائی اللہ تک ہو جائے گی یا یہ ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کو چھوڑ کر بے اختیار لوگوں کو معبود سمجھنا بھی بہت بڑی ناشکری ہے ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کو ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے۔

لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لَاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ

اگر اللہ تعالیٰ ارادہ اولاد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔

سُبْحَانَهُ ۖ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (۴)

 (لیکن) وہ تو پاک ہے، وہ (١) وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت والا۔‏

یعنی پھر اس کی اولاد لڑکیاں ہی کیوں ہوتیں؟ جس طرح مشرکین کا عقیدہ تھا۔ بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا، وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو اس نقص سے ہی پاک ہے۔ابن کثیر

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ ۖ    

نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمان اور زمین کو بنایا وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے

رات کو دن پر لپیٹ دینے کا مطلب رات کا دن کو ڈھانپنا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی روشنی ختم ہو جائے اور دن کو رات پر لپیٹ دینے کا مطلب دن کا رات کو ڈھانپنا ہے حتیٰ کہ اس کی تاریکی ختم ہو جائے۔  یہ وہی مطلب ہے جو       يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ  (۷:۵۴) کا ہے۔

وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ (۵)

اور اس نے سورج چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقررہ مدت تک چل رہا ہے یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے والا ہے۔

خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ

اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے (١) پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا (٢)

اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر و مادہ) اتارے (٣)

۱۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔

۲۔  یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔

۳۔  یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے، جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہو جاتے ہیں جن کا ذکر سورہ انعام میں گزر چکا  ہے۔

يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ۚ

 وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا (١) ہے تین تین اندھیروں (٢) میں،

۱۔  یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار گزارتا ہے،

پہلے، نطفہ، پھر عَلَقَۃَ پھر مُضْغَۃَ پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر گوشت کا لباس۔ ان کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کامل تیار ہوتا ہے۔

۲۔ ایک ماں کے پیٹ کا اندھیرااور دوسرا رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا اس جھلی یا پردہ جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔

ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۖ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (۶)

 یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اس کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو۔‏

یا کیوں تم حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف پھر رہے ہو؟

إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۖ

‏اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو) کہ اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بےنیاز ہے

اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورہ ابراہیم آیت ٨ کا حاشیہ۔

وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ

اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔

یعنی کفر اگرچہ انسان اللہ کی مشیت سے ہی کرتا ہے کیونکہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم کفر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔ اس کی رضا حاصل کرنے کا راستہ تو شکر ہی کاراستہ ہے نہ کہ کفر کا۔ یعنی اس کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا اور چیز ہے جیسا کہ پہلے بھی اس نکتے کی وضاحت بعض مقامات پر کی جا چکی ہے۔

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ۗ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ

اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وہ بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔

إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۷)

یقیناً وہ دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے۔‏

وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ

اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے،

ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ

پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے(١)‏

اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راہ سے بہکائے

یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سے دعا کرتا تھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارتا تھا اور پھر شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ (۸)

آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائدہ کچھ  دین اور اٹھا لو (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے والا ہے۔

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ

بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزراتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو

اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتاہو (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں)

مطلب یہ ہے کہ ایک یہ کافر و مشرک ہے جس کا یہ حال ہے جو ابھی مذکور ہوا اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی اور خوشی میں  رات کی گھڑیاں اللہ کے سامنے عاجزی اور فرماں برداری کا اظہار کرتے ہوئے سجود و قیام میں گزارتا  ہے۔ آخرت کا خوف بھی اس کے دل میں ہے اور رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے۔ یعنی خوف و رجا دونوں کیفیتوں سے وہ  سرشار ہے جو اصل ایمان ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟

نہیں یقیناً نہیں۔

 خوف و رجا کے بارے میں حدیث ہے حضرت انس   فرماتے ہیں:

رسول ﷺ ایک شخص کے پاس گئے جبکہ اس پر سکرات الموت کی کیفیت  طاری تھی آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اپنے آپ کو کیسے پاتا ہے

اس نے کہا میں اللہ  سے امید  رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرتا ہوں۔

رسول ﷺ نے فرمایا:

 اس موقعے پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس سے اسے بچا لیتا ہے جس سے وہی ڈرتا ہے۔ ترمذی

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ

بتاؤ تو علم والے اور بےعلم کیا برابر ہیں

یعنی وہ جو جانتے ہیں کہ اللہ نے ثواب و عقاب کا وعدہ کیا ہےوہ حق ہے اور وہ جو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ دونوں برابر نہیں۔ ایک عالم ہے اور ایک جاہل۔ جس طرح  علم و جہل میں فرق ہے اسی طرح عالم و جاہل برابر نہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالم و غیر عالم کی مثال سے یہ سمجھانا مقصود ہو کہ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں اللہ کا فرمانبردار اور اس کا نافرنان دونوں برابر نہیں۔

 بعض نے اس کا مطلب  یہ بیان کیا ہے کہ عالم سے مراد وہ شخص ہے جو علم کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔ کیونکہ وہی علم سے فائدہ حاصل کرنے والا ہے اور جو عمل نہیں کرتا وہ گویا ایسے ہی ہے کہ  اسے علم ہی نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ عامل اور غیر عامل کی مثال ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں۔

إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ (۹)

یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔

اور یہ اہل ایمان ہی ہیں، نہ کہ کفار۔

گو وہ اپنے آپ کو صاحب دانش و بصیرت ہی سمجھتے ہوں۔ لیکن جب وہ اپنی عقل و دانش کو استعمال کرکے غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور عبرت و نصیحت ہی حاصل نہیں کرتے تو ایسے ہی ہے گویا وہ چوپایوں کی طرح عقل و دانش سے محروم ہیں۔

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ

کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو

اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت و اطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔

لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ

جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے

یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔

 نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔

 بعض اس کا مفہوم یہ کرتے ہیں، کہ جو نیکی کرتے ہیں ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے ' یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت و عافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔

لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ

اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے

یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر اپنے وطن میں ایمان و تقویٰ پر عمل مشکل ہو تو وہاں رہنا پسندیدہ نہیں بلکہ وہاں سے ہجرت اختیار کر کے ایسے علاقے میں چلا جانا چاہیے جہاں انسان احکام الہٰی کے مطابق زندگی گزار سکے اور جہاں ایمان و تقویٰ کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو۔

إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۱۰)

صبر کرنے والے ہی کو ان کا پورا پورا بیشمار اجر دیا جاتا ہے۔ 

اسی طرح ایمان و تقویٰ کی راہ میں مشکلات بھی ناگزیر اور شہوات و لذات نفس کی قربانی بھی لابدی ہے جس کے لیے صبر کی ضرورت ہے۔ اس لیے صابرین کی فضیلت بھی بیان کر دی گئی ہے کہ ان کو ان کے صبر کے بدلے میں  اس طرح پورا پورا اجر دیا جائے گا کہ اسے حساب کے پیمانوں سے ناپنا ممکن ہی نہیں ہو گا۔یعنی ان کا اجر غیر متناہی ہو گا۔ کیونکہ جس چیز کا حساب ممکن ہو اس کی تو ایک حد ہوتی ہے اور جس کی کوئی حد اور انتہا نہ ہو وہ وہی ہوتی ہے جس کو شمار کرنا ممکن نہ ہو۔

صبر کی یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اس لیے کہ جزع اور بے صبری سے نازل شدہ مصیبت ٹل نہیں جاتی جس خیر اور فائدے سے محرومی ہو گئی ہو وہ حاصل نہیں ہو جاتا اور جو ناگوار صورت حال پیش آ چکی ہوتی ہے اس کا اندفاع ممکن نہیں۔ جب یہ بات ہے تو انسان صبر کر کے وہ اجر عظیم کیوں نہ حاصل کرے جو صابرین کے لیے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (۱۱)

آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت خالص کرلوں۔‏

وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (۱۲)

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں

پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کرکے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔

قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (۱۳)

کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے۔‏

قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي (۱۴)

کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کرکے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں۔‏

فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ ۗ

تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو

قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ (۱۵)

 کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جو اپنے آپکو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے۔‏

لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ

انہیں نیچے اوپر سے آگ کے شعلے مثل سائبان کے ڈھانک رہے ہونگے

یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہونگے، جو ان پر بھڑک رہے ہونگے۔  فتح القدیر

ذَلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ (۱۶)

یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے (٢) اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو۔‏

 یعنی مذکور خسران مبین اور عذاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔

وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ (۱۷)

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وہ خوشخبری کے مستحق ہیں،

 میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔‏

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ

جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو (١) اس پر عمل کرتے ہیں۔

أَحْسَنَهُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا سب سے اچھی بات، یا عقوبیت کے مقابلے میں درگزر اختیار کرتے ہیں۔

أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ (۱۸)

یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی اور یہی عقلمند بھی ہیں

کیونکہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ (۱۹)

بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ہے(١)‏ تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں (۲)‏

۱۔ یعنی قضا و تقدیر کی رو سے اس کا استحقاق عذاب ثابت ہو چکا ہے اس طرح کہ کفر و ظلم اور جرم و عدوان میں وہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا جہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں رہی۔ جیسے ابوجہل اور عاص بن وائل وغیرہ۔ اور گناہوں نے اس کو پوری طرح گھیر لیا اور وہ جہنمی ہو گیا۔

۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ آپ کی قوم کے سب لوگ ایمان لے آئیں اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور آپ کو بتلایا کہ آپ کی اپنی جگہ بالکل صحیح اور بجا ہے لیکن جس پر اس کی تقدیر غالب آگئی اور اللہ کا کلمہ اس کے حق میں ثابت ہوگیا، اسے آپ جہنم کی آگ سے بچانے پر قادر نہیں ہیں۔

لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ

ہاں وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں (١) جن کے اوپر بھی بنے بنائے بالا خانے ہیں

 اور ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں

اس کا مطلب ہے کہ جنت میں درجات ہوں گے ایک کے اوپر ایک۔ جس طرح یہاں کثیرا لمنازل عمارتیں ہیں جنت میں بھی درجات کے حساب سے ایک دوسرے کے اوپر بالاخانے ہونگے جن کے درمیان سے اہل جنت کی خواہش کے مطابق دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں چل رہی ہوں گی۔

وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ (۲۰)

 رب کا وعدہ ہے (١) اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‏

جو اس نے مؤمن بندوں کے لئے کیا ہے اور جو یقیناً پورا ہوگا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے

یعنی بارش کے ذریعے سے پانی آسمان سے اترتا ہے، پھر وہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے پھر چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا تالابوں اور نہروں میں جمع ہو جاتا ہے۔

ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ

 پھر اسی کے ذریعے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے(١)  پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ میں دیکھتے ہیں

پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے (٢)

۱۔ یعنی اس پانی سے جو ایک ہوتا ہے انواع و اقسام کی چیزیں پیدا فرماتا ہے جس کا رنگ ذائقہ خوشبو ایک دوسرے  سے مختلف  ہوتی ہے۔

۲۔  یعنی شادابی اور ترو تازگی کے بعد وہ کھیتیاں سوکھ جاتی اور زرد ہو جاتی ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں۔ جس طرح لکڑی کی ٹہنیاں خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ (۲۱)

اس میں عقلمندوں کیلئے بہت زیادہ نصیحت ہے

یعنی اہل دانش اس سے سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا کی مثال بھی اسی طرح ہےوہ بھی بہت جلد زوال و فنا سے ہمکنار ہو جائے گی۔ اسکی رونق و بہجت اس کی شادابی و زینت اور اسکی لذتیں اور آشائشیں عارضی ہیں جن سے انسان کو دل نہیں لگانا چاہیے۔ بلکہ اس موت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے۔ جس کے بعد کی زندگی دائمی ہے جسے زوال نہیں۔

 بعض کہتے ہیں کہ یہ قرآن اور اہل ایمان کے سینوں کی مثال ہے اور مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن اتارا جسے وہ مؤمنوں کے دلوں میں داخل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعے سے دین باہر نکالتا ہے۔ جو ایک دوسرے سے بہتر ہوتا ہےپس مؤمن تو ایمان و یقین میں زیادہ ہو جا تاہے اور جس کے دل میں روگ ہوتا ہے وہ اس طرح خشک ہو جاتا ہے جس طرح کھیتی خشک ہو جاتی ہے۔ فتح القدیر

أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ

کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور ہے

یعنی جس کو قبول حق اور خیر کا راستہ اپنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے پس وہ اس شرح صدر کی وجہ سے رب کی روشنی پر ہو، کیا یہ اس جیسا ہو سکتا ہے جس کا دل اسلام کے لئے سخت اور اس کا سینہ تنگ ہو اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو۔

فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (۲۲)

اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اثر نہیں لیتے) بلکہ سخت ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔‏

اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ

اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے

أَحْسَنَ الْحَدِيثِ سے مراد قرآن مجید ہے،

 ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصے حسن کلام، اعجاز و بلاغت صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

 یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کے مشابہ ہے

مَثَانِيَ ، جس میں قصص و واقعات اور مواعظ و احکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔

تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ

جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں

کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف و تہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔

ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ۚ

آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں

یعنی جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے ذکر میں  مصروف ہو جاتے ہیں۔

حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے انکے دل کانپ اٹھتے انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ مدہوش اور حواس باختہ ہو جائیں اور عقل ہوش باقی نہ رہے کیونکہ بدعتیوں کی صفت ہے اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ ابن کشیر

امام کثیر فرماتے ہیں اہل ایمان کا معاملہ اس بارے میں کافروں سے باوجوہ مختلف ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان کا سماع قرآن کریم کی تلاوت ہے جب کہ کفار کا سماع بے حیا مغنیات کی آوازوں میں گانا بجانا سننا ہے۔

 دوسرے یہ کہ اہل ایمان قرآن سن کر ادب و خشیت سے رجاہ و محبت سے اور علم و فہم سے رو پڑتے ہیں اور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ جبکہ  کفار شور کرتے اور کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں۔

تیسرے اہل ایمان سماع قرآن کے وقت ادب و تواضع اختیاار کرتے ہیں جیسے صحابہ کرام کی عادت مبارکہ تھی جس سے انکے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے تھے۔ ابن کثیر

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (۲۳)

‏یہ ہے اللہ تعالیٰ کہ ہدایت جس کے ذریعے جسے چاہے راہ راست پر لگا دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راہ بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں۔‏

أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ (۲۴)

بھلا جو شخص قیامت کے دن انکے بدترین عذاب کی (ڈھال) اپنے منہ کو بنائے گا (ایسے) ظالموں سے کہا جائے گا اپنے کئے کا (وبال) چکھو

یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بےخوف اور امن میں ہوگا؟

 یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا مفہوم ہوگا۔

كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ (۲۵)

ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا

اور انہیں ان عذابوں سے کوئی نہیں بچاسکا۔

فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (۲۶)

اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزہ چکھایا(١)‏ اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں۔‏

یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ گزشتہ قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو انکا یہ حال ہوا اور تم اشراف الرسل اور افضل الناس کی تکذیب کر رہے ہو تمہیں بھی اس تکذیب کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (۲۷)

اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں کیا عجب کہ وہ نصیحت حاصل کرلیں

یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔

قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (۲۸)

قرآن ہے عربی میں جس میں کوئی کجی نہیں، ہو سکتا ہے کہ پرہیزگاری اختیار کرلیں۔‏

یعنی قراان واضع عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی انحراف اور التباس نہیں ہے تا کہ لوگ اس میں بیان کر دہ وعیدوں سے ڈریں اور اس میں بیان کیے گئے وعدوں کا مصداق بننے کے لیے عمل کریں۔

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ

اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے کہ ایک وہ شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں،

 اور دوسرا وہ شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں؟

اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص(صرف ایک اللہ کے لئے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے

 یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چنانچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہو سکتے ہیں؟

نہیں {یقیناً نہیں۔

 اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے اور وہ مخلص مؤمن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا برابر نہیں ہو سکتے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۲۹)

اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے (۱) بات یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگ سمجھتے نہیں (۲)

۱۔  اس بات پر کہ اس نے حجت قائم کر دی۔

۲۔  اسی لئے اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (۲۹)

یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔‏

ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ (۳۱)

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے

یعنی اے پیغمبر! آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہمکنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ ۚ

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے؟ (١) اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے؟ (٢)

۱۔ یعنی دعویٰ کرے کہ اللہ کے اولاد ہے یا اس کا شریک ہے یا اس کی بیوی ہے دراں حالیکہ وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔

۲۔  جس میں توحید، احکام و فرائض ہیں، عقیدہ بعث و نشور ہے، محرمات سے اجتناب ہے، مؤمنین کے لئے خوشخبری اور کافروں کے لئے سزائیں ہیں۔ یہ دین و شریعت جو حضرت محمد رسول اللہ لے کر آئے، اسے جھوٹا بتلائے۔

أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ (۳۲)

 کیا ایسے کفار کے لئے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟‏

وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (۳۳)

اور جو سچے دین کو لائے (١) اور جس نے اس کی تصدیق کی (۲) یہی لوگ پارسا ہیں۔‏

۱۔ اس سے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ مراد ہیں جو سچا دین لے کر آئے۔

 بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا اور اللہ کی شریعت کی طرف کی رہنمائی کرتا ہے۔

۲۔ بعض اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ مراد لیتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔

 بعض نے اسے بھی عام رکھا ہے، جس میں سب مؤمن شامل ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں۔

لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ (۳۴)

ان کے لئے ان کے رب کے پاس ہر وہ چیز ہے جو یہ چاہیں، (١) نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے۔ (۲)‏

۱۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہر مطلوب چیز بھی ملے گی۔

۲۔ الْمُحْسِنِينَ کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں

دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں جیسے حدیث میں احسان کی تعریف کی گئی ہے:

ان تعبد اللہ کانک تراہ فانہ لم تکن تراہ فانہ یراک

تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے

 تیسرا جو لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں

چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے خشوع و خضوع سے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرتے ہیں کثرت کے بجائے اس میں حسن کا خیال رکھتے ہیں۔

لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ (۳۵)

تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور جو نیک کام انہوں نے کئے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔‏

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟ (١) یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں

اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، تمام انبیاء علیہم السلام اور مومنین اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب آپ کا حامی و ناصر ہو تو آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ان سب کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے۔

وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (۳۶)

اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں

جو اس گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لگا دے۔

وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ (۳۷)

اور جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (١) کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے والا نہیں ہے؟ (٢)

۱۔ جو اس کو ہدایت سے نکال کر گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے یعنی ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس چاہے ہدایت سے نوازے۔

۲۔  کیوں نہیں، یقیناً ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ لوگ کفر و عناد سے باز نہ آئے، تو یقیناً وہ اپنے دوستوں کی حمایت میں ان سے انتقام لے گا اور انہیں عبرت ناک انجام سے دو چار کرے گا۔

وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔

قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ ۚ

آپ ان سے کہئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟

یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟

قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ (۳۸)

 آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے (١) توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں (٢)۔‏

۱۔ بعض کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔

۲۔  جب سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لئے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پر اعتماد نہیں۔

قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (۳۹)

کہہ دیجئے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کئے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں (١) ابھی ابھی تم جان لو گے۔‏

یعنی اگر تم میری اس دعوت توحید کو قبول نہیں کرتے جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، تو ٹھیک ہے، تمہاری مرضی، تم اپنی اس حالت پر قائم رہو جس پر تم ہو، میں اس حالت میں رہتا ہوں جس میں مجھے اللہ نے رکھا ہے۔

مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُقِيمٌ (۴۰)

کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے (۱) اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے (۲)‏

جس سے واضح ہو جائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا کافروں کے ستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوۓ حتی کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ وتمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہوگیا جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا

٤۔۲ اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔

إِنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۖ

آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لئے نازل فرمائی ہے،

فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ (۴۱)

پس جو شخص راہ راست پر آجائے اسکے اپنے لئے نفع ہے اور جو گمراہ ہو جائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں

نبیﷺ کو اہل مکہ کا کفر پر اصرار بڑا گراں گزرتا تھا، اس میں آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا کام صرف اس کتاب کو بیان کر دینا ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنا لیں گے تو اس میں انہیں کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔

وَكِيلٍ کے معنی مکلف اور ذمے دار کے ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں

 اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے کیونکہ اس کے احساس و ادراک کی قوت ختم ہو جاتی ہے اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح اس میں گویا دوبارہ بھیج دی جاتی ہے جس سے اس کے حواس بحال ہو جاتے ہیں البتہ جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں اس کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے اس کو بعض مفسرین نے وفات کبریٰ اور وفات صغری ٰسے بھی تعبیر کیا ہے۔

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ

اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت (١) اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے (٢)

۱۔ یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کرلی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔

 ۲۔  یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دو چار کر دیا جاتا ہے۔

فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ

پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے (٣) اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے (٤)

۱۔  یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔

۲۔  یعنی جب تک ان کا وقت نہیں آتا، اس وقت تک کے لئے روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے،

یہی مضمون سورہ الانعام میں بیان کیا گیا ہے تاہم وہاں وفات صغریٰ کا ذکر پہلے اور وفات کبریٰ کا بعد میں ہے جب کہ یہاں اسکے برعکس ہے۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (۴۲)

غور کرنے والوں کے لئے اس میں یقیناً بہت نشانیاں ہیں ۔‏

یعنی روح کا قبض اور اس کا ارسال،

اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقینا ًزندہ فرمائے گا۔

أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ شُفَعَاءَ ۚ

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟

قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ (۴۳)

 آپ کہہ دیجئے! کہ گو وہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں

یعنی شفاعت کا اختیار تو کجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں۔ یا بےخبر ہیں

قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا ۖ

کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے

یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کر سکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہو جائے اور شفاعت کے لئے کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۴۴)

تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لئے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے۔‏

وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ

جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں (١) اور جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے

یا کفر اور استکبار،

مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو ان کے دل یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔

وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (۴۵)

اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں‏

ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کر سکتے ہیں تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے جب ان سے کہا جائے کہ صرف یا اللہ مدد کہو کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہو جاتے ہیں یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوار ہوتا ہے

قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (۴۶)

آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کو جاننے والے

 تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ الجھ رہے تھے

حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے

اللھم رب چبریل ومیکائیل واسرفیل فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔

وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ

اگر ظلم کرنے والوں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو،

 تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں

لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت ہے

فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ ۗ (۳:۹۱)

وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

 اس لیے کہ ولا یوخذ منہا عدل وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (۴۷)

اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ ہوگا۔

یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع واقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔

وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (۴۸)

جو کچھ انہوں نے کہا تھا اس کی برائیاں ان پر کھل پڑیں گی (١) اور جس کا وہ مذاق کرتے تھے وہ انہیں آگھیرے گا (٢)‏

۱۔ یعنی دنیا میں جن محارم و ما ثم کا وہ ارتکاب کرتے رہے تھے، اس کی سزا ان کے سامنے آ جائے گی۔

۲۔  وہ عذاب انہیں گھیر لے گا جسے وہ دنیا میں ناممکن سمجھتے تھے، اس لئے کہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے

۱۔ یہ انسان کا بہ اعتبار جنس ذکر ہے یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری فقر و فاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے۔

ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ ۚ

پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیں تو کہنے لگتا ہے  کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں

۲۔  یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔

 یا جو علم و ہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔

بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۴۹)

بلکہ یہ آزمائش ہے(۱)‏ لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (۲)‏

۱۔  یعنی بات وہ نہیں ہے جو تو سمجھ رہا یا بیان کر رہا ہے بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور آزمائش ہیں کہ تو شکر کرتا ہے یا کفر؟

۲۔  اس بات سے کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور امتحان ہے۔

قَدْ قَالَهَا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (۵۰)

ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کاروائی ان کے کچھ کام نہ آئی ۔‏

جس طرح قارون نے بھی کہا تھا، لیکن بالآخر وہ اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔

 فَمَا أَغْنَى میں ما استفہامیہ بھی ہو سکتا ہے اور نافیہ بھی دونوں طرح معنی صحیح ہے۔

فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا ۚ

پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آن پڑیں ،

برائیوں سے مراد ان کی برائیوں کی جزا ہے ان کو مشاکلت کے اعتبار سے سیئات کہا گیا ہے ورنہ برائی کی جزا برائی نہیں ہے جیسے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا میں ہے۔  فتح القدیر

وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَؤُلَاءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ (۵۱)

اور ان میں سے بھی جو گناہ گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آپڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں۔

یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا یہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح قحط قتل واسارت وغیرہ سے دو چار ہوئے اللہ کی طرف سے آئے ہوئے  ان عذابوں کو یہ روک نہیں سکے۔

أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ

کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۵۲)

 ایمان لانے والوں کے لئے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں۔

یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے اسی کی تدبیر مؤثر اور کارگر ہے اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقر وتنگ دستی میں مبتلا کر دیتا ہے اس کے ان فیصلوں میں جو اس کی حکمت ومشیت پر مبنی ہوتے ہیں کوئی دخل انداز ہو سکتا ہے نہ ان میں رد وبدل کر سکتا ہے تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور وفکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ

 (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ،

إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (۵۳)

بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔

 أَسْرافکے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔

تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا توبہ و استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کئے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں بہت زیادہ گنہگار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچے دل سے اگر ایمان قبول کر لے گا یا توبہ کر لے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔

 شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطا کار ہیں اگر ہم ایمان لے آئیں تو کیا وہ سب معاف ہو جائیں گے جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ صحیح بخاری، تفسیر سورہ زمر

 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ اس کے احکام وفرائض کی مطلق پروا نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بےدردی سے پامال کرو اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت ومغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غفور رحیم ہے وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عزیز ذو انتقام بھی ہے چنانچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا مثلا:

نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ـ  وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ  (۱۵:۴۹،۵۰)

غالباً یہی وجہ کہ آیت کا آغاز يَا عِبَادِيَ  (میرے بندوں) سے فرمایا جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو ایمان لا کر یا سچی توبہ کر کے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں گے تو معاف فرما دے گا وہ اپنے بندوں کے لیے یقینا ًغفور رحیم ہے جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ کا واقعہ ہے۔

وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (۵۴)

تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے

اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔‏

وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (۵۵)

اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو

یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اہتمام کر لو، کیونکہ جب عذاب آئے گا تو اس کا علم و شعور بھی نہیں ہوگا،

 اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے۔

أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ (۵۶)

(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس، اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی (١) بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں رہا۔‏

فِي جَنْبِ اللَّهِ کا مطلب، اللہ کی اطاعت یعنی قرآن اور اس پر عمل کرنے میں کوتاہی ہے۔

 جَنْبِ کے معنی قرب اور جوار کے ہیں۔ یعنی اللہ کا قرب اور اس کا جوار (یعنی جنت) طلب کرنے میں کوتاہی کی۔

أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (۵۷)

یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا

یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔

یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر مشرکین کا قول نقل کیا گیا،

لَوْ  لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا  (انعام۔ ١٤٨)

اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے،

 ان کا قول کَلِمَۃُ حَقٍّ بِھَا الْبَاطِلُ کا مصداق ہے ۔ فتح القدیر

أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ (۵۸)

یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہو جاتا تو میں بھی نیکوکاروں میں ہو جاتا۔‏

بَلَى قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ (۵۹)

ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں

یہ اللہ تعالیٰ ان کی خوا ہش کے جواب میں فرمائے گا۔

وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَّةٌ ۚ

اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہوگئے ہوں گے

جس کی وجہ عذاب کی ہولناکیاں اور اللہ کے غضب کا مشاہدہ ہوگا۔

أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ (۶۰)

کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں۔

حدیث میں ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا کبر ہے یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ کی اطاعت سے تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۶۱)

اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا (١) لے گا انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا

اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہو نگے (٢)‏

۱۔ مَفَازَتِهِمْ مصدر میمی ہے یعنی فوز کامیابی شر سے بچ جانا اور خیر سے سعادت سے ہم کنار ہو جانا، مطلب ہے، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو اس فوز و سعادت کی وجہ سے نجات عطا فرما دے گا جو اللہ کے ہاں ان کے لئے پہلے سے ثبت ہے۔

 ۲۔  وہ دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے ہیں، اس پر انہیں کوئی غم نہ ہوگا، وہ چونکہ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہونگے، اس لئے انہیں کسی بات کا غم نہ ہوگا۔

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (۶۲)

اللہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہرچیز پر نگہبان ہے۔

یعنی ہرچیز کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی وہ جس طرح چاہے تصرف اور تدبیر کرے ہرچیز اس کے ماتحت اور زیر تصرف ہے کسی کو سرتابی یا انکار کی مجال نہیں

وَكِيلٌ بمعنی محافظ اور مدبر ہرچیز اس کے سپرد ہے اور وہ بغیر کسی کی مشارکت کے ان کی حفاظت اور تدبیر کر رہا ہے۔

لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (۶۳)

آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مالک وہی ہے (١) جن میں لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خسارہ پانے والے ہیں (٢)۔‏

۱۔   مَقَالِيدُ ، مقلید اور مقلاد کی جمع ہے۔  فتح القدیر

بعض نے اس کا ترجمہ چابیاں اور بعض نے خزانے کیا ہے مطلب دونوں میں ایک ہی ہے تمام معاملات کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔

 ۲۔   یعنی کامل خسارہ کیونکہ اس کفر کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلے گئے۔

قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ (۶۴)

آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو ۔‏

یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (۶۵)

یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا

اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا

اگر تو نے شرک کیا ' مطلب ہے، اگر موت شرک پر آئی اور اس سے توبہ نہ کی۔

 خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جو شرک سے پاک بھی تھے اور آئندہ کے لئے محفوظ بھی۔ کیونکہ پیغمبر اللہ کی حفاظت و عصمت میں ہوتا ہے ان سے ارتکاب شرک کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن دراصل امت کے لئے تعریض اور اس کو سمجھانا مقصود ہے۔

بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ (۶۶)

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر (١) اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔‏

اِ یَّاکَ نَعْبُدُ کی طرح یہاں بھی مفعول (اللہ) کو مقدم کر کے حصر کا مفہوم پیدا کر دیا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ

اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی

کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کر لیا

حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت کتابوں میں یہ بات پاتے ہیں کہ وہ قیامت والے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے  گا میں بادشاہ ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اس کی تصدیق فرمائی اور آیت وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ کی تلاوت فرمائی ۔ صحیح بخاری تفسیر سورہ زمر

 محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکر قرآن اور احادیث صحیحہ میں ہے جس طرح اس آیت میں ہاتھ کا اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے ان پر بلا کیف وتشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضروری ہے اس لیے یہاں بیان کردہ حقیقت کو مجرد غلبہ وقوت کے مفہوم میں لینا صحیح نہیں ہے۔

وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ

ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے

اس کی بابت بھی حدیئث میں آتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اَنَا المُلْکُ، اَیْنَ مُلُوکُ الاٰرْضِ ' میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ (آج کہاں ہیں؟ ' صحیح بخاری تفسیر سورہ زمر

سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (۶۷)

وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۖ

اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے (١) مگر جسے اللہ چاہے (۲)

۱۔ بعض کے نزدیک نفخہ فزع کے بعد یہ نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ صعق ہے جس سے سب کی موت واقع ہو جائے  گی بعض نے ان نفحات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے پہلا نفخۃ الفناء دوسرا نفخۃ البعث تیسرا نفخۃ الصعق چوتھا نفخۃ القیام لرب العالمین۔ (ایسر التفاسیر)

بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نفخہ الموت اور نفخہ نفخۃ البعث اور بعض کے نزدیک تین واللہ اعلم۔

۲۔ یعنی جن کو اللہ چاہے گا ان کو موت نہیں آئے گی جیسے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل

 بعض کہتے ہیں رضوان فرشتہ حملۃ العرش عرش اٹھانے والے فرشتے اور جنت وجہنم پر مقرر داروغے ۔ فتح القدیر

ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ (۶۸)

پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے

چار نفقوں کے قائلین کے نزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کے نزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کے نزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔

 بہرحال اس نفخے سے سب زندہ ہو کر میدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے، جہاں حساب کتاب ہوگا۔

وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی (١) نامہ اعمال حاضر کئے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا (۲)

۱۔ اس نور سے بعض نے عدل اور بعض نے حکم مراد لیا ہے لیکن اس حقیقی معنوں پر محمول کرنے  میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، کیونکہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

۲۔  نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کو پہنچا دیا تھا؟

یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا اسے قبول کیا یا اس کا انکار کیا؟

امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا جو اس بات کی گواہیدے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کو پہنچا دیا تھا جیسا کہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعے سے  ان امور پر مطلع فرمایا تھا۔

وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (۶۹)

اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیئے جائیں گے (۳) اور وہ ظلم نہ کیے جائیں گے‏

یعنی کسی کے اجر و ثواب میں کمی نہیں ہوگی اور کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔

وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ (۷۰)

اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وہ بخوبی جاننے والا ہے

یعنی اس کو کسی کاتب، حاسب اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعمال نامے اور گواہ صرف بطور حجت اور قطع معذرت کے ہونگے۔

وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ

کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے (١)

زمر زَمَرَ سے مشتق ہے بمعنی آواز

ہر گروہ یا جماعت میں شور اور آوازیں ضرور ہوتی ہیں اس لیے یہ جماعت اور گروہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے

مطلب یہ ہے کہ کافروں کو جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا ایک گروہ کے پیچھے ایک گروہ۔

 علاوہ ازیں انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہنکایا جائے گا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا:

 يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاـ سورۃ الطور

 یعنی انہیں جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائے گا۔

حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا

جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے

یعنی ان کے پہنچتے ہی فوراً جہنم کے ساتوں دروازے کھول دیئے  جائیں گے تاکہ سزا میں تاخیر نہ ہو۔

وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا ۚ

اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟

جو تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے رہتے؟

یعنی جس طرح دنیا میں بحث و تکرار اور جدال و مناظرہ کرتے تھے، وہاں سب کچھ آنکھوں کے سامنے آ جانے کے بعد بحث و جدال کی گنجائش ہی باقی نہ رہے گی، اس لئے اعتراف کیے بغیر چارہ نہ ہوگا۔

قَالُوا بَلَى وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ (۷۱)

یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا۔

 یعنی ہم نے پیغمبروں کی تکذیب اور مخالفت کی اس شقاوت کی وجہ سے جس کے ہم مستحق تھے جب کہ ہم نے حق سے گریز کر کے باطل کو اختیار کیا ۔

اس مضمون کو سورۃ الملک میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔

قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ (۷۲)

کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے۔‏

وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروہ کے گروہ جنت کی طرف روانہ کئے جائیں گے

حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ (۷۳)

یہاں تک کہ جب اس کے پاس آجائیں گے اور دروازے کھول دیئے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے

تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ۔

اہل ایمان وتقوی بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے پہلے مقربین پھر ابرار اس طرح درجہ بدرجہ ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا مثلاً انبیاء علیم السلام کے ساتھ صدیقین شہدا اپنے ہم جنسوں کے ساتھ علماء اپنے اقران کے ساتھ یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ ابن کثیر

 حدیث میں آتا ہے جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک ریان ہے جس سے صرف روزے دار داخل ہونگے ۔ صحیح بخاری

اسی طرح دوسرے دروازوں کے بھی نام ہوں گے جیسے باب الصلوۃ باب الصدقۃ باب الجہاد وغیرہ ۔ صحیح بخاری

 کتاب الصیام مسلم کتاب الزکوٰۃ ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ صحیح مسلم

سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ صحیح مسلم

جنت میں سب سے پہلے جانے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گروہ کے چہرے آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے جنت میں وہ بول و براز اور تھوک بلغم سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہوگا ان کی انگیٹھیوں میں خوشبو دار لکڑی ہوگی ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی ان کا قد آدم علیہ السلام کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا ۔  صحیح بخاری

صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مؤمن کو دو بیویاں ملیں گی ان کے حسن وجمال کا یہ حال ہوگا کہ ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا ۔ (کتاب بدء الخلق)

بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ دنیا کی عورتوں میں سے ہوں گی ۔

لیکن چونکہ ۷۲حورں والی روایت سندا ًصحیح نہیں اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہوں گی تاہم و لھم فیھا ما یشتھون کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں۔  واللہ اعلم

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (۷۴)

یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں

 پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔‏

وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۖ

اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا

قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح و تحمید میں مصروف ہوں گے۔

وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۷۵)

اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔

 یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرچیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہونگے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com