Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Takwir

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ (۱)

جب سورج لپیٹ میں آ جائے گا

قیامت کے و قوع کےمناظر

یعنی سورج بےنور ہو جائے گا ، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائےگا

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائےگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا  (ابن ابی حاتم)

 اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے حضرت ابوہریرہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حضرت حسن کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟

فرمایا میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی

وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ  (۲)

اور جب ستارے بےنور ہو جائیں گے

ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے:

وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ (۸۲:۲)

یہ بھی گدلے اور بےنور ہو کر بجھ جائیں گے،

 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی

-       لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہےگی

-       اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے

-       پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بےطرح ہلنے لگے گی

-        بس پھر کیا انسان کیا جنات کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے

-       لوگوں کو اس قدر بد حواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

-        جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے ۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ)

 ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے (ابن ابی حاتم)

وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ (۳)

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی،

وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (۴)  

اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی

اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی ، نہ ان کی کوئی نگرانی کرےگا نہ چرائے چگائے گا نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا

الْعِشَارُ جو حاملہ اونٹی دسویں مہینہ میں لگ جائے اسے عشراء کہتے ہیں

مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بد حواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا اس قول کے قائل  الْعِشَارُ  کے کئی معنی بیان کرتے ہیں

-       ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے

-       بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے

-       بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں

 امام قرطبی ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور آئمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔       واللہ اعلم

وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (۵)

اور جب وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے ‏

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے

جیسے فرمان ہے:

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ مَّا فَرَّطْنَا فِى الكِتَـبِ مِن شَىْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (۶:۳۸)

زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے

 سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کریگا ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا

 ربیع بن خثیم ؓنے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے

 لیکن ابن عباسؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس سے مراد موت ہے یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے خود قرآن میں اور جگہ ہے والطیر محشورۃ پرند جمع کیے ہوئے

 پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے ۔

وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ (۶)

اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے ‏

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا جہنم کہاں ہے؟

 اس نے کہا سمندر میں

آپ نے فرمایا میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ (۵۲:۶) اور فرماتا ہے وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ

ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا

 آیت وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے

ابو داؤد میں ایک حدیث ہے:

 سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے اس کا بیان بھی سورہ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے

سُجِّرَتْ کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا ایک قطرہ بھی باقی نہ جائے گا،

یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہہ نکلے گا

وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ (۷)

اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی ‏

پھر فرماتا ہے کہ ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے جیسے اور جگہ ہے :

احْشُرُواْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزْوَجَهُمْ (۳۷:۲۲)

ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو

حدیث میں ہے:

 ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَكُنتُمْ أَزْوَاجاً ثَلَـثَةً فَأَصْحَـبُ الْمَيْمَنَةِ مَآ أَصْحَـبُ الْمَيْمَنَةِ وَأَصْحَـبُ الْمَشْـَمَةِ مَآ أَصْحَـبُ الْمَشْـَمَةِ وَالسَّـبِقُونَ السَّـبِقُونَ (۵۶:۷،۱۰)

تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:

 ہر جماعت اپنے جیسوں سے مل جائیگی ،

 دوسری روایت میں ہے:

 وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے،

حضرت عمر ؓسے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا :

نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بدبدوں کے ساتھ آگ میں ،

حضرت فاروق اعظم ؓنے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے،

آپ نے فرمایا لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی ۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی

-       اصحاب الیمین

-        اصحاب الشمال اور

-        سابقین۔

مجاہد فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے

 دوسرا قول یہ ہے:

عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہیگا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا اس سے تمام مرے سڑے گلے اُگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو یک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی

 یہی معنی ہیں آیت وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ یعنی روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ مؤمنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا  اور کافروں کا شیطانوں سے  (تذکرہ قرطبی)

پھر ارشاد ہوتا ہے

وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ (۸)

جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔‏

بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (۹)

کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی ‏

اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو

 اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

 مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا ۔

 لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں تو آپ نے فرمایا :

 یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ میں ہے ۔

 سلمہ بن یزید اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟

آپ نے فرمایا نہیں

 انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟

آپ نے فرمایا:

 زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کر لے (مسند احمد)

ابن ابی حاتم میں ہے

 زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں

 ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا آپ نے فرمایا :

نبی، شہید ، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔

یہ حدیث مرسل ہے حضرت حسن سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ (ابن ابی حاتم)

قیس بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟

 آپ نے فرمایا ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو

 انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم غلام والا تو میں ہوں نہیں البتہ میرے پاس اونٹ ہیں

 فرمایا ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو  (عبدالرزاق)

 دوسری روایت میں ہے :

 میں نے بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں

آپ نے فرمایا ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو

 انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا

دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا۔

وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (۱۰)

جب نامہ اعمال کھول دئیے جائیں گے ‏

پھر ارشاد ہے کہ نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں ، اے ابن آدم تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے کہ کیا لکھوا کے لایا ہے

وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ (۱۱)

اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی

آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا

وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ (۱۲)

اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔‏

جہنم بھڑکائی جائے گی اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی

وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ (۱۳)

اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی۔‏

جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ (۱۴)

تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہوگا ‏

جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے

 جیسے اور جگہ ہے:

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا (۳:۳۰)

جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کریگا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی

 اور جگہ ہے:

يُنَبَّأُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (۷۵:۱۳)

اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی

 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔

حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سورہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا  (مسلم)

فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ (۱۵)

میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔‏

الْجَوَارِ الْكُنَّسِ (۱۶)

پھر چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے

بعض آئمہ نے فرمایا ہے

-   طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور

-    اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور

-   چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے

بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے

یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

 ابراہیم نے حضرت مجاہد سے اس کے معنی پوچھے تو حضرت مجاہد نے فرمایا کہ ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔

 انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو

 تو فرمایا ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جاتے ۔

حضرت ابراہیم نے فرمایا وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اسفل کو اعلیٰ اور اعلیٰ  کو اسفل کا ضامن بنایا

 امام ابن جریر نے اس میں سے کسی کا تعین نہیں کی اور فرمایا ہے ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے نیل گائے اور ہرن۔

وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ (۱۷)

اور رات کی جب جانے لگے۔‏

وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ (۱۸)

اور صبح کی جب چمکنے لگے۔‏

عَسْعَسَ کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔

 صبح کی نماز کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں ؟

پھر یہ آیت پڑھی ۔

امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں:

 رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے،

 شاعروں نے عَسْعَسَ کو ادبر کے معنی میں باندھا ہے

میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں:

 قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلا ئے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے

جیسے اور جگہ ہے

وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى (۹۲:۱،۲)

وَالضُّحَى - وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى (۹۳:۱،۲)

فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً (۶:۹۶)

اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے ، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں ۔

علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں کے معنی میں آتا ہے ۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں واللہ اعلم،

اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے۔

پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ (۱۹)

یقیناً ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے

یہ قرآن ایک بزرگ ، شریف ، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ،

ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (۲۰)

جو قوت والا ہے عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔‏

وہ قوت والے ہیں جیسے کہ اور جگہ ہے

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُو مِرَّةٍ (۵۳:۵،۶)

سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ ،

مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ (۲۱)

جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے، امین ہے۔‏

وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے ۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے ۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں ، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے ۔ کہ وہ فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں ۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا ،

وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ (۲۲)

اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں

تمہارے ساتھی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوانے نہیں ،

وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ (۲۳)

اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے

یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے  یہ واقعہ بطحا کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ کا دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے:

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى ۔ وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى ۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى۔ فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى (۵۳:۵،۱۰)

انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے ، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی ،

اس آیت کی تفسیر سورہ النجم میں گزر چکی ہے ۔

 بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے ۔

وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى-  إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى   (۵۳:۱۳،۱۶)

انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے ۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی ۔

اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے ۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی ۔

وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ (۲۴)

اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے کے لئے بخیل بھی نہیں۔‏

بِضَنِينٍ کی دوسری قرأت بِظَنِينٍ بھی مروی ہے ۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں

 اور ضاد سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قرأت یں مشہور ہیں ،

 پس آپ نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی ،

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (۲۵)

اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں۔‏

یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں ، نہ شیطان اسے لے سکے نہ اس کے مطلب کی یہ چیز نہ اس کے قابل جیسے اور جگہ ہے

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَـطِينُ - وَمَا يَنبَغِى لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ  -إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ (۲۶:۲۱۰،۲۱۲)

اسے لیکر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے  وہ تو اس کے سننے کے بھی محروم اور دور ہے ۔

فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ (۲۶)

پھر تم کہاں جا رہے ہو

فرمایا تم کہاں جا رہے ہو یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟

تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا مسلیمہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ،  جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو آپ نے فرمایا:

 تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو ؟

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (۲۷)

یہ تمام جہان والوں کے لئے نصیحت نامہ ہے۔‏

پھر فرمایا یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے ۔

لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ (۲۸)

(بالخصوص) اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔‏

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے ، اسکے سوا دوسرے کے کلام میں ہدایت نہیں ، اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری ،

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۲۹)

اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے ‏

تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے ہدایت پا لے اور جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے ،

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com