Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Hujurat

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ

اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیے تمام کاموں میں اللہ اور رسول کے پیچھے رہنا چاہیے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیے

حضرت معاذؓ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے

 جواب دیا اللہ کی کتاب کو

 فرمایا اگر نہ پاؤ ؟

جواب دیا سنت کو

 فرمایا اگر نہ پاؤ ؟

جواب دیا اجتہاد کروں گا تو آپ ﷺنے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

 اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو (ابو داؤد و ترمذی ابن ماجہ )

یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ حضرت معاذؓ نے اپنی رائے نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ہے ۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو ۔

 حضرت عوفیؒ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا

 مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو

 حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں امر دین احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو،

حضرت سفیان ثوریؒ کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو

 امام حسن بصرؒی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو ۔

حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا ۔

وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (۱)

 اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجاآوری میں اللہ کا لحاظ رکھو اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ

اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اُوپر نہ کرو

پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز بلند کریں ۔

یہ آیت حضرت ابوبکر ؓاور حضرت عمر ؓکے بارے میں نازل ہوئی ۔

 صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے :

قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہو جائیں یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ ان دونوں کی آوازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہوگئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابسؓ کو کہتے تھے جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے ۔ اس پر حضرت صدیقؓ نے فرمایا کہ تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو فاروق اعظم ؓنے جواب دیا نہیں نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی

حضرت ابن زبیرؓ فرماتے ہیں اسکے بعد تو حضرت عمرؓ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپکو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا ۔

 اور روایت میں ہے:

 حضرت ابوبکرؓ فرماتے تھے قعقاع بن معبدؓ کو اس وفد کا امیر بنائیے اور حضرت عمرؓ فرماتے تھے نہیں بلکہ حضرت اقرع بن حابسؓ کو اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہوگئیں جس پر آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا (۱)نازل ہوئی اور آیت وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ  (۵)

مسند بزار میں ہے:

 آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ  (۲)کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر ؓنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے

صحیح بخاری میں ہے:

 حضرت ثابت بن قیسؓ کئی دن تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نظر نہ آئے اس پر ایک شخص نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا چنانچہ وہ حضرت ثابتؓ کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں ۔ پوچھا کیا حال ہے ۔ جواب ملا برا حال ہے میں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا ۔

 یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ سنایا پھر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ حضرت ثابتؓ کے ہاں گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہو۔

 مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے:

 اس میں یہ بھی ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ ثابت کہاں ہیں نظر نہیں آتے ۔ اس کے آخر میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بد دل ہوگئے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت ثابتؓ خوشبو ملے ، کفن پہنے ہوئے دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لئے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

صحیح مسلم شریف میں ہے:

 آپ ﷺنے جب انہیں نہیں دیکھا تو حضرت سعد ؓسے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ کیا ثابت بیمار ہیں ؟

 لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں حضرت سعد کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لئے کہ حضرت سعد بن معاذ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ ٥ ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے درپے آنے کا واقعہ سنہ ٩ ہجری کا ہے واللہ اعلم۔

 ابن جریر میں ہے:

 جب یہ آیت اتری تو حضرت ثابت بن قیس ؓراستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے حضرت عاصم بن عدیؓ جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے حضرت عاصم ؓیہ سن کر چلے گئے اور حضرت ثابتؓ کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ حضرت جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلولؓ سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جارہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو ۔ اللہ کی قسم میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مر جاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رضامند کر دے ۔

یہاں تو یہ ہوا وہاں جب حضرت عاصم ؓنے دربار رسالت میں حضرت ثابتؓ کی حالت بیان کی تو رسالت مآب ﷺنے حکم دیا کہ تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ لیکن عاصم اس جگہ آئے تو دیکھا کہ حضرت ثابت وہاں نہیں مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آکر کہا ثابت چلو تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرما رہے ہیں ۔

 حضرت ثابت نے کہا بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو ، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺنے رونے کی وجہ پوچھی جس کا سچا جواب حضرت ثابت سے سن کر آپﷺ نے فرمایا ک:

یا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ ۔

 اس پر حضرت ثابتؓ کا سارا رنج کافور ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا ۔ اس پر اس کے بعد کی آیت إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ اُمتحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى (۳) نازل ہوئی،

یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔

 الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓنے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آکر ان سے فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ؟

 پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟

انہوں نے کہا طائف کے

 آپ نے فرمایا اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا ۔

 علماء کرام کا فرمان ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ کی حیات میں آپ کے سامنے مکروہ تھا اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں ۔

وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ

 اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو،

پھر آپ کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں ، بلکہ آپ سے تسکین و وقار ، عزت و ادب ، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں ۔ جیسے اور جگہ ہے:

لاَّ تَجْعَلُواْ دُعَآءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً (۲۴:۶۳)

اے مسلمانو! رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ،

أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (۲)

کہیں (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔  

پھر فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لئے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو جائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو جائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کر لے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے ۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے:

 ایک شخص اللہ کی رضامندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے ۔ کہ اس کے نزد یک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے ۔ کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہو جاتا ہے اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے

إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ اُمتحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى ۚ

لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ (۳)

بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں،

یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت اور بڑا ثواب ہے ۔‏

 پھر اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لئے خالص کر لیا ہے اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں ۔ یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں

 امام احمد ؒنے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر ؓسے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا :

 اے امیرالمؤمنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے ؟

 آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لئے آزما لیا ہے ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے

إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ (۴)

جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں اکثر (بالکل) بےعقل ہیں ۔‏

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں

وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ

اگر یہ لوگ یہاں تک صبر کرتے کہ آپ خود سے نکل کر ان کے پاس آجاتے تو یہی ان کے لئے بہتر ہوتا

پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ چاہیے تھا کہ آپ کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے ۔ نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے ۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی

وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۵)

اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ (۲)‏

پھر حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

یہ آیت حضرت اقرع بن حابس تمیمیؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے

 مسند احمد میں ہے:

 ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کا نام لے کر پکارا یا محمد ! یا محمد!

آپ ﷺنے اسے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے کہا سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے

آپ ﷺنے فرمایا ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے ۔

 بشر بن غالبؒ نے حجاج کے سامنے بشر بن عطاردؒ وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ جب حضرت سعید بن جبیرؒ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا (۱۷) پڑھ دیتے وہ کہتے کہ ہم اسلام لائے اور بنو اسد نے آپ کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی ۔

حضرت زید بن ارقمؒ فرماتے ہیں:

 کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے

 میں نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے اس پر یہ آیت اتری

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی ، (ابن جریر)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (۶)

اے مسلمانو!

اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے لئے پریشانی اٹھاؤ۔‏

اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ دی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گزرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے

 اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لئے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے ، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے اور جس کا حال معلوم نہیں اس کا فاسق ہونا ہم پر ظاہر نہیں ہم نے اس مسئلہ کی پوری وضاحت سے صحیح بخاری شریف کی شرح میں کتاب العلم میں بیان کر دیا ہے فالحمد للہ ۔

 اکثر مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابو معیطؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا تھا ۔

چنانچہ مسند احمد میں ہے حضرت حارث بن ضرار خزاعیؓ جو ام المؤمنین حضرت جویریہ ؓکے والد ہیں فرماتے ہیں

 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہو گیا ۔ پھر آپ ؐنے زکوٰۃ کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم میں جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوٰۃ ادا کریں میں انکی زکوٰۃٰ جمع کرتا ہوں اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیجئے میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوٰۃ آپ کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔

حضرت حارث نے واپس آکر یہی کیا مال زکوٰۃ جمع کیا ، جب وقت مقررہ گزر چکا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا یہ تو ناممکن ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وعدے کے مطابق اپنا کوئی آدمی نہ بھیجیں مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض نہ ہوگئے ہوں ؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوٰۃ لے جانے کے لئے نہ بھیجا ہو اگر آپ لوگ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ شریف چلیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں

یہ تجویز طے ہوگئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوٰۃ ساتھ لے کر چل کھڑے ہوئے ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہؓ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے لیکن یہ حضرت راستے ہی میں سے ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوۃ بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہو گیا ۔

 اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور کچھ آدمی تنبیہ کے لئے روانہ فرمائے مدینہ کے قریب راستے ہی میں اس مختصر سے لشکر نے حضرت حارث کو پا لیا اور گھیر لیا ۔

حضرت حارثؓ نے پوچھا آخر کیا بات ہے ؟

 تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟

 انہوں نے کہا ہم تیری طرف بھیجے گئے ہیں

 پوچھا کیوں ؟

 کہا اس لئے کہ تو نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ولید کو زکوٰۃ نہ دی بلکہ انہیں قتل کرنا چاہا ۔

حضرت حارثؓ نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے اسے دیکھا نہ وہ میرے پاس آیا چلو میں تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں

یہاں آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تو نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے آدمی کو بھی قتل کرنا چاہا ۔

 آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اللہ کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے انہیں دیکھا نہ وہ میرے پاس آئے۔ بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض نہ ہوں گئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا،

اس پر یہ آیت (حکیم ) تک نازل ہوئی

طبرانی میں یہ بھی ہے :

 جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد حضرت حارثؓ کی بستی کے پاس پہنچا تو یہ لوگ خوش ہو کر اس کے استقبال کیلئے خاص تیاری کر کے نکلے ادھر ان کے دل میں یہ شیطانی خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ مجھ سے لڑنے کے لئے آرہے ہیں تو یہ لوٹ کر واپس چلے آئے انہوں نے جب یہ دیکھا کہ آپ کے قاصد واپس چلے گئے تو خود ہی حاضر ہوئے اور ظہر کی نماز کے بعد صف بستہ کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے اپنے آدمی کو بھیجا ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ہم بیحد خوش ہوئے لیکن اللہ جانے کیا ہوا کہ وہ راستے میں سے ہی لوٹ گئے تو اس خوف سے کہ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہو گیا ہو ہم حاضر ہوئے ہیں اسی طرح وہ عذر معذرت کرتے رہے عصر کی اذان جب حضرت بلالؓ نے دی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی،

 اور روایت میں ہے :

 حضرت ولیدؓ کی اس خبر پر ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوچ ہی رہے تھے کہ کچھ آدمی ان کی طرف بھیجیں جو ان کا وفد آگیا اور انہوں نے کہا آپ کا قاصد آدھے راستے سے ہی لوٹ گیا تو ہم نے خیال کیا کہ آپ نے کسی ناراضگی کی بنا پر انہیں واپسی کا حکم بھیج دیا ہوگا اس لئے حاضر ہوئے ہیں ، ہم اللہ کے غصے سے اور آپ کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور اس کا عذر سچا بتایا ۔

 اور روایت میں ہے:

 قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ان لوگوں نے تو آپ سے لڑنے کے لئے لشکر جمع کر لیا ہے اور اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کی زیر امارت ایک فوجی دستے کو بھیج دیا لیکن انہیں فرما دیا تھا کہ پہلے تحقیق و تفتیش اچھی طرح کر لینا جلدی سے حملہ نہ کر دینا ۔

 اسی کے مطابق حضرت خالد ؓنے وہاں پہنچ کر اپنے جاسوس شہر میں بھیج دئیے وہ خبر لائے کہ وہ لوگ دین اسلام پر قائم ہیں مسجد میں اذانیں ہوئیں جنہیں ہم نے خود سنا اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے خود دیکھا ، صبح ہوتے ہی حضرت خالدؓ خود گئے اور وہاں کے اسلامی منظر سے خوش ہوئے واپس آکر سرکار نبوی میں ساری خبر دی ۔ اس پر یہ آیت اتری۔

حضرت قتادہ ؓؒاس واقعہ کو بیان کرتے ہیں کہتے ہیں :

 حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ تحقیق و تلاش بردباری اور دور بینی اللہ کی طرف سے ہے ۔ اور عجلت اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ۔

 سلف میں سے حضرت قتادہؒ کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات نے یہی ذکر کیا ہے جیسے ابن ابی لیلیٰ ؒ، یزید بن رومانؒ، ضحاک ؒ، مقاتل بن حیان ؒوغیرہ ۔ ان سب کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبؓہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے واللہ اعلم ۔

وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ

اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں

پھر فرماتا ہے کہ جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا عزت وادب کرنا ان کے احکام کو سر آنکھوں سے بجا لانا تمہارا فرض ہے وہ تمہاری مصلحتوں سے بہت آگاہ ہیں انہیں تم سے بہت محبت ہے وہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتے ۔ تم اپنی بھلائی کے اتنے خواہاں اور اتنے واقف نہیں ہو جتنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے:

النَّبِىُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ (۳۳:۶)

مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے زیادہ خیر اندیش ہیں ۔

لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ

اگر وہ تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ

پھر بیان فرمایا کہ لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پاسکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں ۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا ۔ جیسے اور آیت میں ہے:

وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَـهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُونَ (۲۳:۷۱)

اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے ۔

وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ

 لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے

پھر فرماتا ہے کہ اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے

 مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے پرہیز گاری کی جگہ یہ ہے ۔ اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں ۔

وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (۷)

 اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے، یہی لوگ راہ یافتہ ہیں۔‏

پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے

 

مسند احمد میں ہے کہ احد کے دن جب مشرکین ٹوٹ پڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درستگی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ تو میں نے اپنے رب عزوجل کی ثنا بیان کروں پس لوگ آپ کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے اور آپ نے یہ دعا پڑھی

 

اللْهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ،

اللْهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ.

اللْهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ،

اللْهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ.

اللْهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ.

اللْهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَمِنْ شَرِّ مَا مَنَعْتَنَا.

اللْهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ.

اللْهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ،

اللْهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ،

اللْهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلهَ الْحَق

اے اللہ تمام تر تعریف تیرے ہی لئے ہے تو جسے کشادگی دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا اور جس پر تو تنگی کرے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا تو جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے تو دے اس سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا جسے تو دور کر دے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں

اور جسے تو قریب کر لے اسے دور ڈالنے والا کوئی نہیں اے اللہ ہم پر اپنی برکتیں رحمتیں فضل اور رزق کشادہ کر دے

اے اللہ میں تجھ سے وہ ہمیشہ کی نعمتیں چاہتا ہوں جو نہ ادھر ادھر ہوں ، نہ زائل ہوں ۔

اللہ فقیری اور احتیاج والے دن مجھے اپنی نعمتیں عطا فرمانا اور خوف والے دن مجھے امن عطا فرمانا ۔

پروردگار جو تو نے مجھے دے رکھا ہے اور جو نہیں دیا ان سب کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

اے میرے معبود ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہماری نظروں میں زینت دار بنا دے اور کفر بدکاری اور نافرمانی سے ہمارے دل میں دوری اور عداوت پیدا کر دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں کر دے ۔

اے ہمارے رب ہمیں اسلام کی حالت میں فوت کر اور اسلام پر ہی زندہ رکھ اور نیک کار لوگوں سے ملا دے ہم رسوا نہ ہوں ہم فتنے میں نہ ڈالے جائیں

اللہ ان کافروں کا ستیاناس کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلائیں اور تیری راہ سے روکیں تو ان پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل فرما ۔

الہٰی اہل کتاب کے کافروں کو بھی تباہ کر ، اے سچے معبود ۔ (نسائی )

 

 یہ حدیث امام نسائی بھی اپنی کتاب عمل الیوم واللہ میں لائے ہیں ۔

 مرفوع حدیث میں ہے جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مؤمن ہے

فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (۸)

اللہ کے احسان و انعام سے اور اللہ دانا اور با حکمت ہے۔‏

 پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے ۔

وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ

اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو ۔

یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں صلح کرا دیں

 آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مؤمن کہنا اس سے حضرت امام بخاریؒ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی ۔ خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے ، اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے:

 ایک مرتبہ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر حضرت حسن بن علیؓ بھی تھے آپ کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا ۔

 آپ کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ کی وجہ سے صلح ہو گئی ۔

فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ۚ

پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔

یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آجائے حق کو سنے اور مان لے

صحیح حدیث میں ہے:

 اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی ۔

حضرت انس ؒنے پوچھا کہ مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں ؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے

مسند احمد میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا کیا اچھا ہو اگر آپ عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے چنانچہ آپ اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ آپ کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے زمین شور تھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ۔

 اس پر ایک انصاری نے کہا واللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔

حضرت سعید بن جبیر ؓفرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے ۔

حضرت سدیؑ فرماتے ہیں:

 عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا اس نے اپنے میکے جانا چاہا خاوند نے روکا اور منع کر دیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے ، عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالا خانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا اب کھینچا تانی ہو نے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے

فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (۹)

اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

پھر حکم ہوتا ہے دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمٰن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا  (نسائی)

مسلم کی حدیث میں ہے:

 یہ لوگ ان منبروں پر رحمٰن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے ۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

 (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں

پھر فرمایا کل مؤمن دینی بھائی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیے ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے

 اور صحیح حدیث میں ہے:

 جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لئے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین ۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے ۔

 ایک اور حدیث میں ہے :

مؤمن مؤمن کے لئے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا

 مسند احمد میں ہے:

 مؤمن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے ، مؤمن اہل ایمان کے لئے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے ۔

فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (۱۰)

 پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو ۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیز گاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ

اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں   

اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے

حدیث شریف میں ہے:

 تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے ۔

 اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو

وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ

اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں

مردوں کو منع کر کے پھر عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ (۱۰۴:۱)

ہر طعنہ باز عیب جو کے لئے خرابی ہے

 هُمَزَةٍ فعل سے ہوتا ہے اور لُّمَزَةٍ قول سے

 ایک اور آیت میں ہے :

هَمَّازٍ مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ (۶۸:۱۱)

وہ جو لوگوں کو حقیر گنتا ہو ان پر چڑھا چلا جا رہا ہو اور لگانے بجھانے والا ہو

 غرض ان تمام کاموں کو ہماری شریعت نے حرام قرار دیا ۔

وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ

اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ

یہاں لفظ تو یہ ہیں کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ

جیسے فرمایا:

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ (۴:۲۹)

ایک دوسرے کو قتل نہ کرو ۔

حضرت ابن عباسؓ ، مجاہد ، سعید بن جبیر ، قتادہ، مقاتل، بن حیان فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دے

وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ

 اور نہ کسی کو برے لقب دو

پھر فرمایا کسی کو چڑاؤ مت ! جس لقب سے وہ ناراض ہوتا ہو اس لقب سے اسے نہ پکارو نہ اس کو برا نام دو۔

 مسند احمد میں ہے:

 یہ حکم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں آئے تو یہاں ہر شخص کے دو دو تین تین نام تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس سے چڑتا ہے ۔ اس پر یہ آیت اتری  (ابو داؤد)

بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ

ایمان کے بعد فسق برا نام ہے،   

پھر فرمان ہے کہ ایمان کی حالت میں فاسقانہ القاب سے آپس میں ایک دوسرے کو نامزد کرنا نہایت بری بات ہے

        وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (۱۱)

اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔‏

 اب تمہیں اس سے توبہ کرنی چاہئے ورنہ ظالم گنے جاؤ گے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ

اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں

اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کو بد گمانی کرنے ، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے ، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیے ۔

 امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓسے مروی ہے :

 آپ نے فرمایا تیرے مسلمان بھائی کی زبان سے جو کلمہ نکلا ہو جہاں تک تجھ سے ہو سکے اسے بھلائی اور اچھائی پر محمول کر ۔

 ابن ماجہ میں ہے:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوئے فرمایا :

تو کتنا پاک گھر ہے ؟

تو کیسی بڑی حرمت والا ہے؟

 اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ مؤمن کی حرمت اس کے مال اور اس کی جان کی حرمت اور اس کے ساتھ نیک گمان کرنے کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے بہت بڑی ہے ۔

 یہ حدیث صرف ابن ماجہ میں ہی ہے ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

-        بد گمانی سے بچو گمان سب سے بڑی جھوٹی بات ہے

-        بھید نہ ٹٹو لو۔ ایک دوسرے کی ٹوہ حاصل کرنے کی کوشش میں نہ لگ جایا کرو

-         حسد بغض اور ایک دوسرے سے منہ پھلانے سے بچو سب مل کر اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو سہو ۔

 مسلم میں ہے:

-        ایک دوسرے سے روٹھ کر نہ بیٹھ جایا کرو ، ایک دوسرے سے میل جول ترک نہ کر لیا کرو ،

-         ایک دوسرے کا حسد بغض نہ کیا کرو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے آپس میں دوسرے کے بھائی بند ہو کر زندگی گزارو ۔

-        کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال اور میل جول چھوڑ دے

طبرانی میں ہے:

تین خصلتیں میری اُمت میں رہ جائیں گی

-        فال لینا ،

-        حسد کرنا

-        اور بدگمانی کرنا ۔

 ایک شخص نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر ان کا تدارک کیا ہے ؟

 فرمایا :

-        جب حسد کرے تو استغفار کر لے ۔

-         جب گمان پیدا ہو تو اسے چھوڑ دے اور یقین نہ کر

-        اور جب شگون لے خواہ نیک نکلے خواہ بد اپنے کام سے نہ رک اسے پورا کر ۔

 ابو داؤد میں ہے:

 ایک شخص کو حضرت ابن مسعودؓ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی ڈاڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں

آپ نے فرمایا ہمیں بھید ٹٹولنے سے منع فرمایا گیا ہے اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہو گئی تو ہم اس پر پکڑ سکتے ہیں

مسند احمد میں ہے:

 عقبؓہ کے کاتب وجین کے پاس حضرت ابوالہثمؓ  گئے اور ان سے کہا کہ میرے پڑوس میں کچھ لوگ شرابی ہیں میرا ارادہ ہے کہ میں داروغہ کو بلا کر انہیں گرفتار کرا دوں ، آپ نے فرمایا ایسا نہ کرنا بلکہ انہیں سمجھاؤ بجھاؤ ڈانٹ ڈپٹ کر دو ، پھر کچھ دنوں کے بعد آئے اور کہا وہ باز نہیں آتے اب تو میں ضرور داروغہ کو بلاؤں گا آپ نے فرمایا افسوس افسوس تم ہرگز ہرگز ایسا نہ کرو سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا :

جو شخص کسی مسلمان کی پردہ داری کرے اسے اتنا ثواب ملے گا جیسے کسی نے زندہ درگور کردہ لڑکی کو بچا لیا ۔

ابو داؤد میں ہے حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

 اگر تو لوگوں کے باطن اور ان کے راز ٹٹولنے کے درپے ہو گا تو تو انہیں بگاڑ دے گا

 یا فرمایا ممکن ہے تو انہیں خراب کر دے ۔

حضرت ابودرداء فرماتے ہیں اس حدیث سے اللہ تعالیٰ نے حضرت معاویؓہ کو بہت فائدہ پہنچایا ۔

 ابو داؤد کی ایک اور حدیث میں ہے:

 امیر اور بادشاہ جب اپنے ماتحتوں اور رعایا کی برائیاں ٹٹولنے لگ جاتا ہے اور گہرا اترنا شروع کر دیتا ہے تو انہیں بگاڑ دیتا ہے ۔

وَلَا تَجَسَّسُوا

اور بھید نہ ٹٹولا کرو

پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو یعنی برائیاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو تاک جھانک نہ کیا کرو اسی سے جاسوس ماخذ ہے

تجسس کا اطلاق عموما برائی پر ہوتا ہے اور تحسس کا اطلاق بھلائی ڈھونڈنے پر ۔

 جیسے حضرت یعقوب اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں:

يبَنِىَّ اذْهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلاَ تَايْـَسُواْ مِن رَّوْحِ اللَّهِ (۱۲:۸۷)

بچو تم جاؤ اور یوسف کو ڈھونڈو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو

 اور کبھی کبھی ان دونوں کا استعمال شر اور برائی میں بھی ہوتا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

 نہ تجسس کرو نہ تحسس کرو نہ حسد و بغض کرو نہ منہ موڑو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ

 امام اوزاعی فرماتے ہیں:

-        تجسس کہتے ہیں کسی چیز میں کرید کرنے کو

-         اور تحسس کہتے ہیں ان لوگوں کی سرگوشی پر کان لگانے کو جو کسی کو اپنی باتیں سنانا نہ چاہتے ہوں ۔

-         اور تدابر کہتے ہیں ایک دوسرے سے رک کر آزردہ ہو کر قطع تعلقات کرنے کو ۔

وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ

اور نہ تم کسی کی غیبت کرو

 پھر غیبت سے منع فرماتا ہے

 ابو داؤد میں ہے:

 لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیبت کیا ہے ؟

 فرمایا یہ کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی کسی ایسی بات کا ذکر کرے جو اسے بری معلوم ہو تو

 کہا گیا اگر وہ برائی اس میں ہو جب بھی ؟

 فرمایا ہاں غیبت تو یہی ہے ورنہ بہتان اور تہمت ہے ۔

 ابو داؤد میں ہے:

 ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ صفیہ تو ایسی ایسی ہیں

 مسدد راوی کہتے ہیں یعنی کم قامت ،

 تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے ایسی بات کہی ہے کہ سمندر کے پانی میں اگر ملا دی جائے تو اسے بھی بگاڑ دے

 اور ایک مرتبہ آپ کے سامنے کسی شخص کی کچھ ایسی ہی باتیں بیان کی گئیں تو آپ نے فرمایا میں اسے پسند نہیں کرتا مجھے چاہے ایسا کرنے میں کوئی بہت بڑا نفع ہی ملتا ہو ۔

 ابن جریر میں ہے:

 ایک بی بی صاحبہ حضرت عائشہؓ کے ہاں آئیں جب وہ جانے لگیں تو صدیقہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارے سے کہا کہ یہ بہت پست قامت ہیں ،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کی غیبت کی الغرض غیبت حرام ہے

 اور اس کی حرمت پر مسلمانوں کا اجماع ہے ۔ لیکن ہاں شرعی مصلحت کی بنا پر کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا غیبت میں داخل نہیں جیسے جرح و تعدیل نصیحت و خیر خواہی جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فاجر شخص کی نسبت فرمایا تھا یہ بہت برا آدمی ہے اور جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا معاویہ مفلس شخص ہے اور ابوالجہم بڑا مارنے پیٹنے والا آدمی ہے ۔ یہ آپ ﷺنے اس وقت فرمایا تھا جبکہ ان دونوں بزرگوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے نکاح کا مانگا تھا

 اور بھی جو باتیں اس طرح کی ہوں ان کی تو اجازت ہے باقی اور غیبت حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے ۔

أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ

کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی ۔

اسی لئے یہاں فرمایا کہ جس طرح تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس سے بہت زیادہ نفرت تمہیں غیبت سے کرنی چاہیے ۔

جیسے حدیث میں ہے:

 اپنے دئیے ہوئے ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے اور فرمایا بری مثال ہمارے لئے لائق نہیں ۔

 حجۃ الوداع کے خطبے میں ہے :

تمہارے خون مال آبرو تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسی حرمت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔

 ابو داؤد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

 مسلمان کا مال اس کی عزت اور اس کا خون مسلمان پر حرام ہے انسان کو اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حقارت کرے ۔

 اور حدیث میں ہے:

 اے وہ لوگو جن کی زبانیں تو ایمان لاچکیں ہیں لیکن دل ایماندار نہیں ہوئے تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنا چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کیا کرو یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھرانے والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے ،

مسند ابو یعلی میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا جس میں آپ نے پردہ نشین عورتوں کے کانوں میں بھی اپنی آواز پہنچائی اور اس خطبہ میں اوپر والی حدیث بیان فرمائی ،

 حضرت ابن عمرؓ نے ایک مرتبہ کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا تیری حرمت و عظمت کا کیا ہی کہنا ہے لیکن تجھ سے بھی بہت زیادہ حرمت ایک ایماندار شخص کی اللہ کے نزدیک ہے ۔

 ابو داؤد میں ہے:

 جس نے کسی مسلمان کی برائی کر کے ایک نوالہ حاصل کیا اسے جہنم کی اتنی ہی غذا کھلائی جائے گی

 اسی طرح جس نے مسلمانوں کی برائی کرنے پر پوشاک حاصل کی اسے اسی جیسی پوشاک جہنم کی پہنائی جائے گی

 اور جو شخص کسی دوسرے کی بڑائی دکھانے سنانے کو کھڑا ہوا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دکھاوے سناوے کے مقام میں کھڑا کر دے گا ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 معراج والی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے ہیں میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتیں لوٹتے تھے (ابو داؤد)

اور روایت میں ہے:

لوگوں کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا معراج والی رات میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا جن میں مرد و عورت دونوں تھے کہ فرشتے انکے پہلوؤں سے گوشت کاٹتے ہیں اور پھر انہیں اس کے کھانے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ اسے چبا رہے ہیں میرے سوال پر کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طعنہ زن ، غیبت گو، چغل خور تھے ، انہیں جبراً آج خود ان کا گوشت کھلایا جا رہا ہے  (ابن ابی حاتم )

یہ حدیث بہت مطول ہے اور ہم نے پوری حدیث سورہ سبحٰن کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہے فالحمد اللہ ۔

 مسند ابو داؤد طیالسی میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزے کا حکم دیا اور فرمایا جب تک میں نہ کہوں کوئی افطار نہ کرے شام کو لوگ آنے لگے اور آپ سے دریافت کرنے لگے آپ انہیں اجازت دیتے اور وہ افطار کرتے اتنے میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں نے روزہ رکھا تھا جو آپ ہی کے متعلقین میں سے ہیں انہیں بھی آپ اجازت دیجئے کہ روزہ کھول لیں آپ نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ عرض کی تو آپ نے فرمایا :

وہ روزے سے نہیں ہیں کیا وہ بھی روزے دار ہو سکتا ہے ؟ جو انسانی گوشت کھائے جاؤ انہیں کہو کہ اگر وہ روزے سے ہیں تو قے کریں

چنانچہ انہوں نے قے کی جس میں خون جمے کے لوتھڑے نکلے اس نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی

 آپ نے فرمایا اگر یہ اسی حالت میں مر جاتیں تو آگ کا لقمہ بنتیں ۔

 اس کی سند ضعیف ہے اور متن بھی غریب ہے ۔

 دوسری روایت میں ہے:

 اس شخص نے کہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں عورتوں کی روزے میں بری حالت ہے مارے پیاس کے مر رہی ہیں اور یہ دوپہر کا وقت تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی پر اس نے دوبارہ کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو مر گئی ہوں گی یا تھوڑی دیر میں مر جائیں گی آپ نے فرمایا جاؤ انہیں بلا لاؤ جب وہ آئیں تو آپ نے دودھ کا مٹکا ایک کے سامنے رکھ کر فرمایا اس میں قے کر

 اس نے قے کی تو اس میں پیپ خون جامد وغیرہ نکلی جس سے آدھا مٹکا بھر گیا پھر دوسری سے قے کرائی اس میں بھی یہی چیزیں اور گوشت کے لوتھڑے وغیرہ نکلے اور مٹکا بھر گیا ، اس وقت آپ نے فرمایا

 انہیں دیکھو حلال روزہ رکھے ہوئے تھیں اور حرام کھا رہی تھیں دونوں بیٹھ کر لوگوں کے گوشت کھانے لگی تھیں (یعنی غیبت کر رہی تھیں ) ( مسند احمد )

مسند حافظ ابو یعلی میں ہے :

حضرت ماعز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے زنا کیا ہے

آپ ؐنے منہ پھیر لیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ کہہ چکے پھر پانچویں دفعہ آپ ؐنے کہا تو نے زنا کیا ہے ؟

جواب دیا ہاں

 فرمایا جانتا ہے زنا کسے کہتے ہیں ؟

جواب دیا ہاں جس طرح انسان اپنی حلال عورت کے پاس جاتا ہے اسی طرح میں نے حرام عورت سے کیا ۔

 آپؐ نے فرمایا اب تیرا مقصد کیا ہے ؟

 کہا یہ کہ آپ مجھے اس گناہ سے پاک کریں

 آپؐ نے فرمایا کیا تو نے اسی طرح دخول کیا تھا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور لکڑی کنویں میں ؟

 کہا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

 اب آپؐ نے انہیں رجم کرنے یعنی پتھراؤ کرنے کا حکم دیا چنانچہ یہ رجم کر دئے گئے۔

 اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسے دیکھو اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن اس نے اپنے تئیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ کتے کی طرح پتھراؤ کیا گیا ۔

 آپؐ یہ سنتے ہوئے چلتے رہے تھوڑی دیر بعد آپ نے دیکھا کہ راسے میں ایک مردہ گدھا پڑا ہوا ہے فرمایا فلاں فلاں شخص کہاں ہیں ؟ وہ سواری سے اتریں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں

 انہوں نے کہا یارسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے کیا یہ کھانے کے قابل ہے ؟

 آپؐ نے فرمایا ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی ۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ شخص جسے تم نے برا کہا تھا وہ تو اب اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے ۔

 اس کی اسناد صحیح ہے ۔

 مسند احمد میں ہے :

ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نہایت سڑی ہوئی مرداری بو والی ہوا چلی آپ نے فرمایا جانتے ہو  یہ بو کس چیز کی ہے؟

یہ بدبو ان کی ہے جو لوگوں کی غیبت کرتے ہیں

 اور روایت میں ہے:

 منافقوں کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی غیبت کی ہے یہ بدبودار ہوا وہ ہے ۔

 حضرت سدیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمانؓ ایک سفر میں دو شخصوں کے ساتھ تھے جن کی یہ خدمت کرتے تھے اور وہ انہیں کھانا کھلاتے تھے ایک مرتبہ حضرت سلمان سو گئے تھے اور قافلہ آگے چل پڑا پڑاؤ ڈالنے کے بعد ان دونوں نے دیکھا کہ حضرت سلمان نہیں تو اپنے ہاتھوں سے انہیں خیمہ کھڑا کرنا پڑا اور غصہ سے کہا سلمان تو بس اتنے ہی کام کا ہے کہ پکی پکائی کھا لے اور تیار خیمے میں آ کر آرام کر لے ۔

تھوڑی دیر بعد حضرت سلمان پہنچے ان دونوں کے پاس سالن نہ تھا تو کہا تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لئے سالن لے آؤ ۔

یہ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے دونوں ساتھیوں نے بھیجا ہے کہ اگر آپ کے پاس سالن ہو تو دے دیجئے

 آپﷺ نے فرمایا وہ سالن کا کیا کریں گے ؟ انہوں نے تو سالن پا لیا ۔

حضرت سلمان واپس گئے اور جا کر ان سے یہ بات کہی وہ اٹھے اور خود حاضر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تو سالن نہیں نہ آپ نے بھیجا آپ ﷺنے فرمایا تم نے مسلمان کے گوشت کا سالن کھا لیا جبکہ تم نے انہیں یوں کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی مَيْتًا اس لئے کہ وہ سوئے ہوئے تھے اور یہ ان کی غیبت کر رہے تھے ۔

مختار ابو ضیا میں تقریبًا ایسا ہی واقعہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے اس خادم کا گوشت تمہارے دانتوں میں اٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ان کا اپنے غلام سے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور ان کا کھانا تیار نہیں کیا تھا صرف اتنا ہی کہنا مروی ہے کہ یہ تو بڑا سونے والا ہے ان دونوں بزرگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ ہمارے لئے استغفار کریں

 ابو یعلی میں ہے:

 جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا (یعنی اس کی غیبت کی) قیامت کے دن اس کے سامنے وہ گوشت لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جیسے اس کی زندگی میں تو نے اس کا گوشت کھایا تھا اب اس مردے کا گوشت بھی کھا ۔ اب یہ چیخے گا چلائے گا ہائے وائے کرے گا اور اسے جبراً وہ مردہ گوشت کھانا پڑے گا ۔

یہ روایت بہت غریب ہے

وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ

اور اللہ سے ڈرتے رہو،

پھر فرماتا ہے اللہ کا لحاظ کرو اس کے احکام بجا لاؤ اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جاؤ اور اس سے ڈرتے رہا کرو ۔

إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ (۱۲)

 بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‏

جو اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو اس پر بھروسہ کرے اس کی طرف رجوع کرے وہ اس پر رحم اور مہربانی فرماتا ہے ۔

 جمہور علماء کرام فرماتے ہیں غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے

 اس پر نادم ہونا بھی شرط ہے یا نہیں ؟

 اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے ۔

 بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لئے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا ۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اولا بدلہ ہو جائے گا ۔

 مسند احمد میں ہے:

 جو شخص اس وقت کسی مؤمن کی حمایت کرے جبکہ کوئی منافق اس کی مذمت بیان کر رہا ہو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مقرر کر دیتا ہے جو قیامت والے دن اس کے گوشت کو نار جہنم سے بچائے گا اور جو شخص کسی مؤمن پر کوئی ایسی بات کہے گا جس سے اس کا ارادہ اسے مطعون کرنے کا ہو اسے اللہ تعالیٰ پل صراط پر روک لے گا یہاں تک کہ بدلا ہو جائے

 یہ حدیث ابو داؤد میں بھی ہے

 ابو داؤد کی ایک اور حدیث میں ہے:

 جو شخص کسی مسلمان کی بےعزتی ایسی جگہ میں کرے جہاں اس کی آبرو ریزی اور توہین ہوتی ہو تو اسے بھی اللہ تعالیٰ ایسی جگہ رسوا کرے گا جہاں وہ اپنی مدد کا طالب ہو اور جو مسلمان ایسی جگہ اپنے بھائی کی حمایت کرے اللہ تعالیٰ بھی ایسی جگہ اس کی نصرت کرے گا ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى

اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے یعنی حضرت آدمؑ سے ان ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حضرت حوا ؓکو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی ۔

وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ

اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں،

شُعُوب قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو شُعُوب میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے

بعض کہتے ہیں شُعُوب سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں ۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو اسباط کہا گیا ہے

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (۱۳)

 اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔‏

مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ اَمر دینی اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی

یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لئے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جاسکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں

 حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلفیوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے

 ترمذی میں ہے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نسب کا علم حاصل کرو تاکہ صلہ رحمی کر سکو صلہ رحمی سے لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے تمہارے مال اور تمہاری زندگی میں اللہ برکت دے گا ۔

یہ حدیث اس سند سے غریب ہے

پھر فرمایا حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت ، تقویٰ اور پرہیز گاری سے ملتی ہے ۔

 صحیح بخاری شریف میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے ؟

آپ نے فرمایا جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو

لوگوں نے کہا ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے

فرمایا پھر سب سے زیادہ بزرگ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی زادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ تھے

 انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے ۔

 فرمایا پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو ؟ سنو ! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں

صحیح مسلم شریف میں ہے:

 اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے

 مسند احمد میں ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر سے فرمایا:

 خیال رکھ کہ تو کسی سرخ و سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا ہاں تقویٰ میں بڑھ جا تو فضیلت ہے ۔

 طبرانی میں ہے :

مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ ۔

 مسند بزار میں ہے:

 تم سب اولاد آدم ہو اور خود حضرت آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں لوگو اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے ۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کوبطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا ۔ اس کے بعد آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمدو ثنا بیان کر کے فرمایا :

لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔

پھر فرمایا میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے استغفار کرتا ہوں ۔

 مسند احمد میں ہے:

 تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے حضرت آدمؑ کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو ، بخیل ، اور فحش کلام ہو ۔

 ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں ۔

مسند احمد میں ہے :

حضور علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر کون ہے ؟

 آپ ﷺنے فرمایا جو سب سے زیادہ مہمان نواز سب سے زیادہ پرہیزگار سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے ۔

 مسند احمد میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز یا کوئی شخص کبھی بھلا نہیں لگتا تھا مگر تقوے والے انسان کے اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بےراہ ہو رہے ہیں ۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں ۔

اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں ۔

 دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں کتاب الاحکام میں ذکر کر چکے ہیں فالحمد اللہ ۔

طبرانی میں حضرت عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں پس فرمایا تیرے سوا میں بھی بہت زیادہ قریب ہوں ان سے بہ نسبت تیرے جو تجھے آپ سے نسبت ہے

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ

دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔

کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے

قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ

 آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا

یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے ۔

 اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں

 اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں ۔

پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے ۔

مسند احمد میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر حضرت سعد ؓنے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مؤمن ہے

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ؟

 تین مرتبہ یکے بعد دیگرے حضرت سعد نے یہی کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا

پھر فرمایا اے سعد میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں ، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گر پڑیں ۔

یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے

 پس اس حدیث میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے ۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی کتاب الایمان کی شرح میں ذکر کر دیا ہے فالحمد للہ ۔

 اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لئے کہ آپ نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا ۔

 پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لئے انہیں ادب سکھایا گیا ۔

حضرت ابن عباسؓ اور ابراہیم نخعی اور قتادہ کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر نے اختیار کیا ہے

 ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ حضرت امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مؤمن نہ تھے

(یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اسوقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ حضرت امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الایمان میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے واللہ اعلم ۔ (مترجم )

حضرت سعید بن جبیر ، حضرت مجاہد ، حضرت ابن زید فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم أَسْلَمْنَا کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لئے تابع ہو گئے ہیں ،

 حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

 حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورہ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا ۔

وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ

تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔

پھر فرماتا ہے اگر تم اللہ اور اسی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا ۔

 جیسے فرمایا :

وَمَآ أَلَتْنَـهُمْ مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍ (۵۲:۲۱)

ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا ۔

إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۱۴)

بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے‏

پھر فرمایا جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ

مؤمن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہیں

پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں ۔

أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (۱۵)

یہی سچے اور راست گو ہیں

یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں ۔

 مسند احمد میں ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میں مؤمن کی تین قسمیں ہیں

-        وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا

-        وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا نہ یہ کسی کا مال ماریں نہ کسی کی جان لیں

-        وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں ۔

قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱۶)

کہہ دیجئے! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاہ کر رہے ہو اللہ ہرچیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے

اور اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے ۔‏

پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو ؟

 وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ

 قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (۱۷)

اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ

اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو

پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں

 ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا ۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ۔

 (اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے ؟ پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے ۔ پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے ، مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں مترجم )

پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا :

میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا

جب کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرماتے وہ کہتے بیشک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں

 بزار میں ہے کہ بنو اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سمجھ بہت کم ہے شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے اور یہ آیت يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا الخ ، نازل ہوئی

إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (۱۸)

یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں اللہ خوب جانتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے۔‏

 پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے

 الحمد اللہ سورہ حجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے ۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے ۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com