Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Shura

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


حم (۱)

حم

عسق  (۲)

عسق

حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے ۔

 ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے

 اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباسؓ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمانؓ بھی تھے ۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا

اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا

 اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا ۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہؓ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباسؓ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں ۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے عبد الا لہ اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا ۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا ۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں

 صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا ۔

یہی معنی ہیں حم عسق کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے

عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا ق سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں ۔

 اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے :

 کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے حضرت ابن عباسؓ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے حم اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد عاین المولون عذاب یوم بدر ہے ۔ سین سے مراد سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون، ق سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتا سکے تو حضرت ابوذرؓ کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا ق سے مراد قارعہ آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا

ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا ۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا

كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۳)

اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اور حکمت والا ہے‏

پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے

حضرت حارث بن ہشام ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟

آپ ﷺنے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں

 حضرت صدیقہؓ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں ۔ (بخاری مسلم)

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا:

 میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے ۔

 شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں فالحمد للہ ،

لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (۴)

آسمانوں کی (تمام) چیزیں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وہ برتر اور عظیم الشان ہے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے

جیسے اور جگہ فرمایا:

الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ  (۱۳:۹)

وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے

اور جگہ فرمایا:

وَهُوَ الْعَلِىُّ الْكَبِيرُ  (۲۲:۶۲)

وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ

قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں

اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں ۔

وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ

اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لئے استغفار کر رہے ہیں

فرشتے اسکی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں

 جیسے اور جگہ ارشاد ہے:

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْماً (۴۰:۷)

حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے

أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (۵)

خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے والا ہے

پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے ،

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ (۶)

اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں

 پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا ۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں ۔

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا

اس طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خبردار کر دیں

 یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں تم سے پہلے انبیاء پر وحی الہٰی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے ۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الہٰی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو ۔

 آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القریٰ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں ! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے ۔

ترمذی نسائی ، ابن ماجہ، مسند احمد میں ہے:

 حضرت عبداللہ بن عدی ؓفرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ مکہ شریف کے بازار خزروع میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے:

 اے مکہ قسم ہے اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا ۔

 امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں

وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ

اور جمع ہونے کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ڈرا دیں۔

اور اس لئے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے ۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں

فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (۷)

 ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں ہوگا۔‏

جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی

جیسے فرمایا:

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُن  (۶۴:۹)

جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن  جمع کرے گاوہی دن ہے ہار جیت ک

یعنی یہ وہ دن ہوگا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں

دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے:

إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الاٌّخِرَةِ ذلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ ۔ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلاَّ لاًّجَلٍ مَّعْدُودٍ ۔

 يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّ وَسَعِيدٌ (۱۱:۱۰۳،۱۰۵)

ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے ۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لئے مؤخر کئے ہوئے ہیں ۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کر سکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب ۔

مسند احمد میں ہ:

رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟

ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ فرمائیے۔ آپ نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :

یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے ۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے انکے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے ۔

 صحابہ نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت ؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے

 آپ ﷺنے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لئے رہو ۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو ۔ پھر آپ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرلیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کر چکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں ۔

 یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا ۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی۔یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے واللہ اعلم ۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 حضرت ابو عبداللہ نامی صحابی بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے ۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لئے ہیں یعنی جنت کے لئے اور یہ اس کے لئے ہیں یعنی جہنم کے لئے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں ۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا ؟

 اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (۸)

اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی اُمت کا بنا دیتا لیکن جسے چاہتا اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے اور ظالموں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں۔‏

پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کر دیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کر لے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں ۔

ابن جریر میں ہے:

 اللہ تعالیٰ سے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے

جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کر لیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں ۔

أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۖ

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنا لئے ہیں

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے

فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۹)

 (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہرچیز کا قادر ہے

 اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں ۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ

اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے

 پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔

 جیسے فرمان عالی شان ہے:

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ (۴:۵۹)

اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ

ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (۱۰)

یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں۔‏

پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے ۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں

فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ

وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے

وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے

جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ

اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دیئے ہیں اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیںتمہیں وہ اس میں پھیلا رہا ہے

اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گزر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا ۔

بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے

 بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے

حضرت مجاہد فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔

 بعض کہتے ہیں یہاں فِيهِ معنی بہ کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (۱۱)

اس جیسی کوئی چیز نہیں وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‏

حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بےنظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے

لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ہیں

آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورہ زمر میں اس کی تفسیر گزر چکی ہے

يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱۲)

 جس کی چاہے روزی کشادہ کردے اور تنگ کردے، یقیناً وہ ہرچیز کو جاننے والا ہے۔

مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔

شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ۖ

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح ؑ کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا

اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس اُمت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لئے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی ۔

 پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورہ احزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا :

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا (۳۳:۷)

جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا ۔‏

 وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ واحد کی عبادت ہے

 جیسے اللہ جل و علا کا فرمان ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ (۲۱:۲۵)

تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان سب کی طرف ہم نے یہی وحی کی کہ معبود میرے سوا کوئی نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو

 حدیث میں ہے:

 ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے جیسے علاتی بھائیوں کا باپ ایک ہوتا ہے

 الغرض احکام شرع میں گو جزوی اختلاف ہو۔ لیکن اصولی طور پر دین ایک ہی ہے اور وہ توحید باری تعالیٰ عزاسمہ ہے ،

فرمان اللہ ہے:

لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَـجاً (۵:۴۸)

تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے شریعت و راہ بنا دی ہے ۔

أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ

کہ اس دین کو قائم رکھنااور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا

یہاں اس وحی کی تفصیل یوں بیان ہو رہی ہے کہ دین کو قائم رکھو جماعت بندی کے ساتھ اتفاق سے رہو اختلاف اور پھوٹ نہ کرو

كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ

جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے

پھر فرماتا ہے کہ یہی توحید کی صدائیں ان مشرکوں کو ناگوار گزرتی ہیں ۔

اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ (۱۳)

اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے

حق یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جو مستحق ہدایت ہوتا ہے وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اللہ اس کا ہاتھ تھام کر ہدایت کے راستے لا کھڑا کرتا ہے اور جو از خود برے راستے کو اختیار کر لیتا ہے اور صاف راہ چھوڑ دیتا ہے اللہ بھی اس کے ماتھے پر ضلالت لکھ دیتا ہے

وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ

ان لوگوں نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی اختلاف کیا اور وہ بھی باہمی ضد بحث سے

جب ان کے پاس حق آ گیا حجت ان پر قائم ہو چکی ۔ اس وقت وہ آپس میں ضد اور بحث کی بنا پر مختلف ہوگئے ۔

وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ

اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت تک کے لئے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہو چکا ہوتا

 اگر قیامت کا دن حساب کتاب اور جزا سزا کے لئے مقرر شدہ نہ ہوتا تو ان کے ہر بد عمل کی سزا انہیں یہیں مل جایا کرتی ۔

وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (۱۴)

اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی وہ بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں

پھر فرماتا ہے کہ یہ گزشتہ جو پہلوں سے کتابیں پائے ہوئے ہیں ۔ یہ صرف تقلیدی طور پر مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقلد کا ایمان شک شبہ سے خالی نہیں ہوتا ۔ انہیں خود یقین نہیں دلیل و حجت کی بناء پر ایمان نہیں ، بلکہ یہ اپنے پیشروؤں کے جو حق کے جھٹلانے والے تھے مقلد ہیں ۔

فَلِذَلِكَ فَادْعُ ۖ

پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں

اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے

-        پس پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لئے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لئے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ

وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ

 اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں

-        اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کر

وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ

اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں

-        مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آجانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا

وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ ۖ

اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے

-        اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں ، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں ۔

وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ

 اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں

-        میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں ۔

اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ

ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے

-        معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے

لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ

 ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں

-        ہمارے عمل ہمارے ساتھ۔ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں

جیسے اور آیت میں ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَاْ بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ (۱۰:۴۱)

 اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لئے میرے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں ۔ تم میرے اعمال سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ۔

لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ

 ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں

-        ہم تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں ۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں ۔

 حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے ۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں

اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ

اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا

-         قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا

جیسے اور آیت میں ہے:

قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ (۳۴:۲۶)

تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے

وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (۱۵)

اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے

وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ (۱۶)

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اسکے بعد کہ (مخلوق) انہیں مان چکی ان کی خواہ مخواہ کی حجت اللہ کے نزدیک باطل ہے

اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔‏

اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں ، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں ۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے ۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی ۔

 ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصاریٰ کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا ۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں ۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے ۔

اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ ۗ

اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے اور ترازو بھی (اتاری ہے)

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا ۔

 جیسے فرمان باری ہے:

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ  (۵۷:۲۵)

ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں ۔

 ایک اور آیت میں ہے:

وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ۔ أَلاَّ تَطْغَوْاْ فِى الْمِيزَانِ ۔ وَأَقِيمُواْ الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تُخْسِرُواْ الْمِيزَانَ (۵۵:۷،۹)

آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تا کہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو ۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ ۔

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ (۱۷)

آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو۔‏

فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بےرغبت کرنا بھی مقصود ہے

يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ

اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے

پھر فرمایا اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟

 وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے ۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ ۗ

اور جو اس پر یقین رکھتے ہیں وہ تو اس سے ڈر رہے ہیں انہیں اس کے حق ہونے کا پورا علم ہے

لیکن ان کے برخلاف ایمان دار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے ۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں

 ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریبا تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے:

 ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ قیامت کب ہو گی ؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لئے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟

 اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت

 آپ ﷺنے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے

 اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

 ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔

 الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لئے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں ۔

أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ (۱۸)

 یاد رکھو جو لوگ قیامت کے معاملہ میں لڑ جھگڑ رہے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

 پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں ۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتدا ً اسے پیدا کر دیا تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے

 بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے ۔

اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (۱۹)

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے والا ہے، جسے چاہتا ہے کشادہ روزی دیتا ہے اور وہ بڑی طاقت، بڑے غلبے والا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے

جیسے فرمایا:

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ (۱۱:۶)

زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے

 وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی

مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ

جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے

پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کر دیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے ۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے

وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ (۲۰)

اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں

دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کر لے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے

 دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے ۔ فرمان ہے:

مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَـجِلَةَ ـــ دَرَجَـتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلاً (۱۷:۱۸،۲۱)

جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لئے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لئے جو کوشش کرنی چاہیے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا ۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے ۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے ۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر پسند نہیں ، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس اُمت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ

کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں

پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں ۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں

چنانچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کر لیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کر دیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کر لیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے ۔

 اور بعض چیزوں کو حلال کر لیا تھا جیسے مردار ، خون اور جوا ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا

یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی ۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے ۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا

اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔

وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۲۱)

اگر فیصلے کا دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کر دیا جاتا یقیناً (ان) ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔‏

فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے

تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ ۗ

آپ دیکھیں گے کہ یہ ظالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہونگے جن کے وبال ان پر واقع ہونے والے ہیں

 میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے ۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے لیکن آج کوئی چیز نہ ہوگی جو انہیں بچا سکے ۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ (۲۲)

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے وہ بہشتوں کے باغات میں ہوں گے وہ جو خواہش کریں اپنے رب کے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل۔‏

 ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکو کار لوگوں کا حال ہو گا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان کی ذلت و رسوائی ڈر خوف ان کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کر لو وہ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے ۔ عمدہ بہترین غذائیں ، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں ؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں ۔

حضرت ابو طیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟

پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی ۔

اسی لئے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے ۔

ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ

یہی وہ ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کئے

اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایمان دار نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو

قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ۗ

 تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی

پھر اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا ۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے

صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباسؓ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے

حضرت مجاہد ، حضرت عکرمہ ، حضرت قتادہ ، حضرت سدی ، حضرت ابو مالک ، حضرت عبد الرحمٰن بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں ۔

مسند احمد میں ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کر لو

حضرت حسن بصری سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا

-         پہلا قول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا

-        دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کر لیں

-        تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو ۔

 ابو الدیلم کا بیان ہے:

 جب حضرت علی بن حسینؓ کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالا خانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا

 یہ سن کر آپ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے

 اس نے کہا کیوں نہیں ؟

 فرمایا اس میں حم والی سورتیں بھی پڑھی ہیں ؟

 اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور حم والی سورتیں نہیں پڑھیں ؟

 آپ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی ؟ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی ۔

 اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو ؟

آپ نے فرمایا ہاں !

حضرت عمرو بن شعیب سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا مراد قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔

 ابن جریر میں ہے:

 انصار نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر ۔ اس پر ابن عباسؓ یا حضرت عباسؓ نے فرمایا ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا:

 انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی !

انہوں نے کہا بیشک آپ سچے ہیں ۔

 فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی ؟

 انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا

پھر آپ نے فرمایا اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے ؟

انہوں نے کہا کیا کہیں ؟

 فرمایا کیوں نہیں کہتے  کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا  اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا

 انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا  اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی ؟

کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی ؟

 اس طرح کی آپ نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول کے لئے ہے ۔

 پھر یہ آیت قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى نازل ہوئی ۔

 ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے

بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لئے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں

 ایک روایت میں ہے :

 لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے

 آپ ﷺنے فرمایا حضرت فاطمہؓ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم ۔

 لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی ؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے

حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں حضرت فاطمہؓ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی ؟ آپ کا عقد تو صرف حضرت علی ؓکے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ ٢ھ میں ہوا۔

پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبر المہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گزر چکی

ہم اہل بیت کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں ۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی حضرت عباسؓ اور آل عباس کی اور حضرت علیؓ اور آل علی کی رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے:

 میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عزت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں

مسند احمد میں ہے:

 ایک مرتبہ حضرت عباد بن عبدالملک ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے ۔

 یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے:

 اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے

 اور روایت میں ہے:

 حضرت عباسؓ نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور فرمایا واللہ کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہو گا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لئے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓنے فرمایا:

 لوگو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں رکھو

 ایک اور روایت میں ہے:

 آپ نے حضرت علی سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے

حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت عباس ؓسے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لئے کہ تمہارا اسلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔

 پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیے ۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ سے خوش ہو جائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے آمین ۔

صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے:

 یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم حضرت زید بن ارقمؓ کے پاس گئے حضرت حصین نے کہا اے حضرت آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی آپ نے اللہ کے نبی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں آپ کے ساتھ جہاد کیے آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ نے سمیٹ لیں اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر حضرت زید نے فرمایا میرے بھتیجے سنو میری عمر اب بڑی ہو گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو عرصہ گزر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے پھر آپ نے فرمایا :

مکے اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد وثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا:

 لوگو میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس قاصد اللہ پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی

پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں

 یہ سن کر حصین نے حضرت زید سے پوچھا اے زید آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟

 کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ؟

 فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے

 پوچھا وہ کون ہیں ؟

 فرمایا آل علی، آل عقیل ، آل جعفر ، آل عباس رضی اللہ عنہم

پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟

 فرمایا ہاں !

ترمذی شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسری سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں ۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو؟

 امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے یہ روایت ہے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے

 ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصوا کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا:

 لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت ۔

 ترمذی کی اور روایت میں ہے:

 اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو

یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے

 ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلی میں ہے :

حضرت ابوذرؓ نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا:

 لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کرلیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح علیہ السلام کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا

وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ

جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لئے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے

پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں

جیسے ایک اور آیت میں فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَـعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً (۴:۴۰)

اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے

 بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے

إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ (۲۳)

بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا (اور) بہت قدردان ہے۔‏

پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۖ

کیا یہ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر جھوٹ باندھا ہے،

فَإِنْ يَشَإِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ۚ

 اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ تعالیٰ اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹا دیتا ہے اور سچ کو ثابت رکھتا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تیرے دل پر مہر لگا دیتا اور تجھے کچھ بھی یاد نہ رہتا

 جیسے فرمان ہے:

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ ـ لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ـ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ـ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ (۶۹:۴۴،۴۷)

اگر یہ رسول ہمارے ذمے کچھ باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی انہیں اس سزا سے نہ بچا سکتا ۔

 یعنی یہ اگر ہمارے کلام میں کچھ بھی زیادتی کرتے تو ایسا انتقام لیتے کہ دنیا کی کوئی ہستی اسے نہ بچا سکتی

إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۲۴)

 وہ سینے کی باتوں کو جاننے والا ہے۔‏

وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں ۔

وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ

وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے

اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے

 جیسے اور آیت میں ہے:

وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَّحِيماً (۴:۱۱۰)

جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا ۔

 صحیح مسلم میں ہے:

 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آکر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فورا اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بےتحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے

 ایک مختصر حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے ۔

 حضرت ابن مسعود سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے ؟

 آپ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ

 توبہ تو مستقبل کے لئے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گزشتہ معاف کر دی جاتی ہیں

وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ (۲۵)

اور جو کچھ تم کر رہے ہو (سب) جانتا ہے۔‏

تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے ۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے

وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ

ایمان والوں اور نیکوکار لوگوں کی سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے

وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے وہ خواہ اپنے لئے دعا کریں خواہ دوسروں کے لئے۔

حضرت معاذ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں :

تم ایمان دار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی قبول فرماتا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت فرمایا  وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ

معنی اسکے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے

ابن ابی حاتم میں ہے:

 وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو ۔

حضرت ابراہیم نخعی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے:

 وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی

وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ (۲۶)

 اور کفار کے لئے سخت عذاب ہے۔‏

مؤمنوں کی اس عزو شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت دردناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے

وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ

اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وہ زمین میں فساد برپا کر دیتے لیکن وہ اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا نازل فرماتا ہے،

پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دینا بھون کھانا۔ سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی

 اسی لئے حضرت قتادہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے :

 زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے

 اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے

إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ (۲۷)

 وہ اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے والا ہے۔‏

 پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے ۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے

 قدسی حدیث شریف میں ہے :

میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے ۔

 اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کرلیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں

وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ

اور وہی ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہےاور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہو جاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہو جاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے

 امیرالمؤمنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم حضرت عمر بن خطابؓ سے ایک شخص کہتا ہے امیر المؤمنین قحط سالی ہو گئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اب انشاء اللہ ضرور بارش ہو گی پھر اس آیت کی تلاوت کی

وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ (۲۸)

 وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا

 وہ ولی و حمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں ۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں ۔

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ ۚ

اور اسکی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا

اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں

وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ (۲۹)

وہ اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کر دے

 قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا ۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا

وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (۳۰)

تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے

پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 مؤمن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی

جب آیت فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ  (۹۹:۷)اتری اس وقت حضرت صدیق اکبرؓ کھانا کھا رہے تھے آپ نے اسے سن کر کھانے سا ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا ؟

 آپ نے فرمایا :

سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں

 حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا

 امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے (مسند احمد )

ابن ابی حاتم میں یہی روایت حضرت علی ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابو حجیفہ جب حضرت علی کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مؤمن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی

 مسند میں ہے:

 مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے ۔

مسند ہی کی اور حدیث میں ہے :

جب ایمان دار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے

 ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں

 ابن ابی حاتم ہی میں ہے:

جب حضرت عمران بن حصین کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔

ابو البلاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علاء بن بدر سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے

حضرت ضحاک فرماتے ہیں :

 قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے ۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں

پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے ۔

وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۖ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (۳۱)

اور تم ہمیں زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو تمہارے لئے سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی کارساز نہ مدد گار۔‏

وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ (۳۲)

اور دریا میں چلنے والی پہاڑوں جیسی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں ۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ ۔

إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ ۚ

اگر وہ چاہے تو ہوا بند کر دے اور یہ کشتیاں سمندروں پر رکی رہ جائیں۔

 ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بےکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (۳۳)

 یقیناً اس میں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لئے نشانیاں ہیں۔‏

ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جائے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے

أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا

یا انہیں ان کے کرتوتوں کے باعث تباہ کر دے

اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے ۔

وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ (۳۴)

وہ تو بہت سی خطاؤں سے درگزر فرمایا کرتا ہے ۔‏

ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگزر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے ۔

 علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے ۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں ۔

الغرض اگر بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے ۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے ۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے

وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ (۳۵)

اور تاکہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں جھگڑتے ہیں وہ معلوم کرلیں کہ ان کے لئے کوئی چھٹکارہ نہیں

پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں ۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں (فسبحانہ ما اعظم شانہ)

فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ

تو تمہیں جو کچھ دیا گیا وہ زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے

وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (۳۶)

اور اللہ کے پاس جو ہے وہ اس سے بدرجہ بہتر اور پائیدار ہے، وہ ان کے لئے ہے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔‏

اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے ۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے ۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں

وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (۳۷)

اور کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں  

اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تا کہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تا کہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الہٰی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے ۔ اس جملہ کی تفسیر سورہ اعراف میں گزر چکی ہے ۔

غصے پر قابو چاہیے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگزر کی عادت نہ چھوٹے

 چنانچہ صحیح حدیث میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بےتوقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے

 اور حدیث میں ہے :

 بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔

 حضرت ابراہیم فرماتے ہیں:

 مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آکر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگزر کر جاتے اور معاف فرما دیتے ۔

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ

اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں

ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے ۔

وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ

اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے

بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے:

وَشَاوِرْهُمْ فِى الاٌّمْرِ  (۳:۱۵۹)

ان سے مشورہ کر لیا کرو

 اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں ۔

 اور اسی بنا پر امیر المؤمنین حضرت عمر ؓنے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آگیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں ۔ عثمان ، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ پس سب نے باتفاق رائے حضرت عثمانؓ کو اپنا امیر مقرر کیا

وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (۳۸)

اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں۔‏

پھر ان کا جن کے لئے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں

وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ (۳۹)

اور جب ان پر ظلم (و زیادتی) ہو تو وہ صرف بدلہ لے لیتے ہیں۔‏

 اور یہ ایسے ذلیل پست اور بےزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں ! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آکر پھر چھوڑ دیتے ہیں ۔ جیسے کہ نبی اللہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے ۔

 اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لئے گئے اور گرفتار ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا ۔

 اور اسی طرح آپ ﷺنے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا ۔

 اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپﷺ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگزر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا

 اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی ۔ جو جنگ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی

 یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا ۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لئے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے حضرت بشر بن برا فوت ہوگئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی

 اور بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔

وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ

اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ۔

 جیسے فرمایا :

فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ  (۲:۱۹۴)

جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو  جو تم پر کی ہے

اور آیت میں ہے:

وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرينَ (۱۲:۱۲۶)

اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بے شک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے

خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہو جائے گا ۔

فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (۴۰)

اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔‏

یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے ۔

 حدیث میں ہے:

 درگزر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے ۔ پھر برائی کی ابتدا اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی

وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ (۴۱)

اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر (الزام) کا کوئی راستہ نہیں۔‏

پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔

 ابن عون فرماتے ہیں:

 میں اس لفظ انْتَصَرَ کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو حضرت عائشہ ؓکے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا :

حضرت عائشہ ؓکے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم گئے اس وقت حضرت زینبؓ وہاں موجود تھیں آپ ﷺکو معلوم نہ تھا صدیقہؓ کی طرف جب آپ نے ہاتھ بڑھایا تو صدیقہؓ نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔

حضرت زینبؓ نے صدیقہؓ کو برا بھلا کہنا شروع کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ نے حضرت عائشہؓ کو اجازت دی کہ جواب دیں ۔

 اب جو جواب ہوا تو حضرت زینبؓ عاجز آگئیں اور سیدھی حضرت علیؓ کے پاس گئیں اور کہا عائشہؓ تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں یہ سن کر حضرت فاطمہؓ حاضر حضور ہوئیں آپ نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی !عائشہ سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں ۔ اور حضرت علیؓ سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر حضرت علیؓ آئے اور آپ سے باتیں کیں ۔

یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموما ًمنکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے

 نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے:

حضرت زینبؓ غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع حضرت عائشہؓ کے گھر چلی آئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت صدیقہ ؓکی نسبت کچھ کہا پھر حضرت عائشہ ؓسے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ ﷺنے عائشہؓ سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے

پھر جو صدیقہؓ نے جواب دینے شروع کئے تو حضرت زینبؓ کا تھوک خشک ہو گیا ۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے وہ صدمہ ہٹ گیا ۔

 حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے ۔

بزار میں ہے:

 ظالم کے لئے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا ۔

إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۴۲)

یہ راستہ صرف ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ظلم کریں اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں، یہی لوگ ہیں جن کیلئے دردناک عذاب ہے

پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں ۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے:

 دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے ایسے فسادی قیامت کے دن دردناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے

حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کر لیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابو عبداللہ تم کیا چاہتے ہو؟

 میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ

 پوچھا وہ کون ہے ؟

 کہا علا بن زیاد نے اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون ومال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بےوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں ۔

مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی ۔

 اچھا اب کیا آرزو ہے ؟

 فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو

مروان نے کہا بہت اچھا ۔ (ابن ابی حاتم )

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (۴۳)

اور جو شخص صبر کرلے اور معاف کر دے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے۔‏

پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضلیت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کر لے اور برائی سے درگزر کر لے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے ۔

 حضرت فضیل بن عیاضؒکا فرمان ہے:

 جب تم سے آکر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کر دو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیز گاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہہ دو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کر دو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کر دینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے ۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے ۔

 مسند امام احمد میں ہے:

ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو برا بھلا کہنا شروع کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے حضرت صدیقؓ خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ نے بھی بعض کا جواب دیا ۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔

حضرت ابوبکر سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کے چلے ؟

آپ ﷺنے فرمایا :

سنو جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آگیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا ؟

پھر فرمایا سنو ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں

-        جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کر لے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا

-        جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا

-        اور جو شخص مال بڑھانے کے لئے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بےبرکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا

یہ روایت ابو داؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے ۔

وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ وَلِيٍّ مِنْ بَعْدِهِ ۗ

اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں،

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا

 اور جگہ فرمان ہے:

وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا (۱۸:۱۷)

جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں ۔

وَتَرَى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ(۴۴)

اور تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راہ ہے۔‏

پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے

جیسے اور جگہ ہے:

وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ (۶:۲۷،۲۸)

کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ انکے سامنے آگئی ۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں

وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ ۗ

اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ (جہنم کے) سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جا رہے ہونگے اور کن آنکھوں سے دیکھ رہے ہونگے،

پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے ۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہوگا ۔

 اللہ ہمیں محفوظ رکھے

وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ

 ایماندار صاف کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال دیا

أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ (۴۵)

یاد رکھو کہ یقیناً ظالم لوگ دائمی عذاب میں ہیں ۔

اس وقت ایمان دار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں کی آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں

وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۗ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ (۴۶)

ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ سے الگ ان کی امداد کر سکیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں۔‏

اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں ۔

اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۚ

اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وہ دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے ،

مَا لَكُمْ مِنْ مَلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَكِيرٍ (۴۷)

 تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی

 جب وہ دن آجائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے ۔

فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ

اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے

پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے ۔ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے

وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۖ

ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے

وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ الْإِنْسَانَ كَفُورٌ (۴۸)

اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بیشک بڑا ہی ناشکرا ہے۔‏

 انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے

حدیث میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں ۔ فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دے دے ۔

 اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مؤمن کے کسی اور میں نہیں ہوتا ۔

لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ

آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے

فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے

يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (۴۹)

 جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔

جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام ۔

 اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام ۔

أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ

یا انہیں جمع کر دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے

اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

 اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ۔

پس یہ چار قسمیں ہوئیں ۔

-        لڑکیوں والے

-        لڑکوں والے

-        دونوں والے

-         اور دونوں سے خالی ہاتھ ۔

إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۵۰)

وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔‏

 وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے ۔

 قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الہٰی کے ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے :

وَلِنَجْعَلَهُ ءَايَةً لِّلْنَّاسِ  (۱۹:۲۱)

تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنائیں

 یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا

-       حضرت آدمؑ صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔

-       حضرت حوا صرف مرد سے پیدا ہوئیں

-       باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے

-       سوائے حضرت عیسیٰ کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے ۔

پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہوگئیں ۔

 پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اسکی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی ۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ

ناممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سےیا کسی فرشتہ کو بھیجے

اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے،

مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپ کو کوئی شک نہیں رہتا

جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے

روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کر لے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو ۔

 یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا ۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے فرمایا تھا :

 اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا

یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے حضرت جبرائیل وغیرہ فرشتے انبیاء علیہ السلام کے پاس آتے رہے

إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (۵۱)

 بیشک وہ برتر حکمت والا ہے۔‏

وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا ۚ

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے،

روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے

مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ

آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں

کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایمان دار بندوں کو راہ راست دکھلائیں

جیسے آیت میں ہے :

قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى (۴۱:۴۴)

کہہ دے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفا ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں

وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۵۲)

بیشک آپ راہ راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔‏

پھر فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو

 پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا

صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ

اس اللہ کی راہ جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہرچیز ہے۔

شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا

أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ (۵۳)

 آگاہ رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں

تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com