Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Ahzab

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ ۗ

اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا

تنبیہ کی ایک مؤثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔

 تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لئے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔

 کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔

إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (۱)

اللہ تعالیٰ بڑے علم والا اور بڑی حکمت والا ہے ۔

علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بےپایاں حکمت سے اس کی کوئی بات کوئی فعل غیر حکیمانہ نہیں ہوتا تو تو اسی کی اطاعت کرتا رہ تاکہ بد انجام سے اور بگاڑ سے بچارہے۔

وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۚ

جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اس کی تابعداری کریں

إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (۲)

 (یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے ۔

جو قرآن وسنت تیری طرف وحی ہو رہا ہے اس کی پیروی کر اللہ پر کسی کا کوئی فعل مخفی نہیں۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا (۳)

آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں، وہ کار سازی کے لئے کافی ہے ۔

اپنے تمام امور واحوال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھ۔ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ کافی ہے۔ کیونکہ تمام کارسازی پر وہ قادر ہے اس کی طرف جھکنے والا کامیاب ہی کامیاب ہے ۔

سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتامقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔

مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ

کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے

وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ ۚ

 اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں بنایا،

 بیان فرمایا کہ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے ۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہوجاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنالینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہوجاتا۔ اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہہ د دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتیں

مَّا هُنَّ أُمَّهَـتِهِمْ إِنْ أُمَّهَـتُهُمْ إِلاَّ اللاَّئِى وَلَدْنَهُمْ  (۵۸:۲)

ایسا کہنے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں۔

وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ

اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا یہ تو تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں

ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں۔

یہ آیت حضرت زید بن حارث ؓ کے بارے میں اتری ہے جو حضور ﷺکے آزاد کردہ تھے انہیں حضور نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنارکھا تھا ۔ انہیں زید بن محمد کہا جاتا تھا ۔ اس آیت سے اس نسبت اور اس الحاق کا توڑ دینا منظور ہے۔

جیسے کہ اسی سورت کے اثنا میں ہے:

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مّن رِّجَالِكُمْ وَلَـكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيماً (۳۳:۴۰)

تم میں سے کسی مرد کے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے۔

یہاں فرمایا یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔

وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (۴)

اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وہ سیدھی راہ سمجھاتا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔

 بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک قریشی کے بارے میں اتری ہے جس نے مشہور کررکھا تھا کہ اس کے دو دل ہیں اور دونوں عقل وفہم سے پر ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کردی۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔

 زہری فرماتے ہیں یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہوسکتے ۔ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ

لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہ ہے

پہلے تو رخصت تھی کہ لے پالک لڑکے کو پالنے والے کی طرف نسبت کرکے اس کا بیٹا کہہ کر پکاراجائے لیکن اب اسلام نے اس کو منسوخ کردیا ہے اور فرمادیا ہے کہ ان کے جو اپنے حقیقی باپ ہیں ان ہی کی طرف منسوب کرکے پکارو۔ عدل نیکی انصاف اور سچائی یہی ہے۔

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم حضرت زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاکرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا ۔

بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد حضرت سہلہ بنت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آجاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حضرت حذیفہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہوجاؤگی ۔

الغرض یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے اب صاف لفظوں میں ایسے لڑکوں کی بیویوں کی بھی مداخلت انہیں لڑکا بنانے والے کے لئے بیان فرمادی ۔

اور جب حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ حضرت زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح ان سے کرلیا اور مسلمان اس ایک مشکل سے بھی چھوٹ گئے فالحمد للہ اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے ۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا:

وَحَلَـئِلُ أَبْنَآئِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَـبِكُمْ  (۴:۲۳)

تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں۔

 ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے :

 رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہہ دینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں

مسند احمد میں ہے۔

 ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم سب خاندان عبدالمطلب کے چھوٹے بچوں کو مزدلفہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ہی جمرات کی طرف رخصت کردیا اور ہماری رانیں تھپکتے ہوئے حضور نے فرمایا بیٹو سورج نکلنے سے پہلے جمرات پر کنکریاں نہ مارنا۔ یہ واقعہ سنہ ۱۰ ہجری ماہ ذی الحجہ کاہے اور اس کی دلالت ظاہر ہے۔

 حضرت زید بن حارثہؓ جن کے بارے میں یہ حکم اترا یہ سنہ ۸ہجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔

 صحیح مسلم شریف میں مروی ہے:

 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا۔ اسے بیان فرما کر کہ لے پالک لڑکوں کو ان کے باپ کی طرف منسوب کرکے پکارا کرو پالنے والوں کی طرف نہیں۔

فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ

 پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں،

پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہیں انکے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں ۔

 حضور اکرم ﷺجب عمرۃ القضا والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی چچاچچا کہتی ہوئی آپ کے پیچھے دوڑیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں لے کر حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دیا اور فرمایا یہ تمہاری چچازاد بہن ہیں انہیں اچھی طرح رکھو۔ حضرت زیدؓ اور حضرت جعفر ؓفرمانے لگے اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے ۔

 حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بھائی کی لڑکی ہے۔ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں یعنی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔

 آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے۔

حضرت علی رضی اللہ سے فرمایا تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں۔

 حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے

حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تو میرا بھائی ہے اور ہمارا مولیٰ ہے

 اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں ۔ سب سے بہتر تو یہ ہے کہ حضور نے حکم حق سنا کر اور دعویداروں کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ اور آپ نے اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔

 ابی فرماتے ہیں واللہ اگر یہ بھی معلوم ہوتاکہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔

 حدیث شریف میں ہے:

 جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا ۔

 اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔

وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ

تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں

پھر فرماتا ہے جب تم نے اپنے طور پر جتنی طاقت تم میں ہے تحقیق کرکے کسی کو کسی کی طرف نسبت کیا اور فی الحقیقت وہ نسبت غلط ہے تو اس خطا پر تمہاری پکڑ نہیں۔ چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں:

رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا  (۲:۲۸۶)

اے اللہ ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عز اسمہ نے فرمایا میں نے یہ دعاقبول فرمائی۔

 صحیح بخاری شریف میں ہے:

 جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہوجائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا ہوجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔

 اور حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے درگزر فرمالیا ہے۔

یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ

وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (۵)

البتہ گناہ وہ ہے جس کا تم ارادہ دل سے کرو اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔‏

 ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمدا کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے:

لاَّ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِالَّلغْوِ فِى أَيْمَـنِكُمْ (۲:۲۲۵)

اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں۔

اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ باوجود جاننے کے ۔

 آیت قرآن جو اب تلاوتا ًمنسوخ ہے اس میں تھا:

فان کفرابکم ان ترغبوا عن ابائکم یعنی تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے۔

 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا ( یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا۔

 ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔

 اور حدیث میں ہے

 تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں۔

-        نسب میں طعنہ زنی،

-         میت پر نوحہ،

-         ستاروں سے باراں طلبی۔

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ

پیغمبر مؤمنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں

چونکہ رب العزت وحدہ لاشریک کو علم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ اس لئے آپ کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیاردیا۔ یہ خود اپنے لئے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول کو بدل وجان قبول کرتے جائیں

 جیسے فرمایا :

فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِى أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً  (۴:۶۵)

تیرے رب کی قسم یہ مؤمن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو بدل وجان بکشادہ پیشانی قبول نہ کرلیں۔

صحیح حدیث شریف میں ہے :

اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اسکی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

 ایک اور صحیح حدیث میں ہے:

 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یارسول اللہ آپ مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔

آپ ﷺنے فرمایا نہیں نہیں عمر جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔

یہ سن کر جناب فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے قسم اللہ کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے ہرچیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں

 آپ ﷺنے فرمایا اب ٹھیک ہے ۔

 بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 تمام مؤمنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں ۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مرجائے اور اسکے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس کے قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے۔

وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ

 اور پیغمبر کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود کی اپنی مائیں۔

 ہاں ماں کے اور احکام مثلا ًخلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھاہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ حکم کا اثبات ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المؤمنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟

 اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضور کو ابو المؤمنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ خیال رہے کہ ابوالمؤمنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آجائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مؤنث بھی شامل ہے۔

 ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ نہیں کہہ سکتے

 امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔

 ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی قرأت میں امھاتھم کے بعد یہ لفظ ہیں وھو اب لھم یعنی آپﷺ ان کے والد ہیں۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔ اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا :

میں تمہارے لے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجاکرے۔ آپ تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرماتے تھے

دوسرا قول یہ ہے:

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (۳۳:۴۰)حضور تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔

وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ

اور رشتہ دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مؤمنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیادہ حقدار ہیں

پھر فرماتا ہے کہ بہ نسبت عام مؤمنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں۔ اس سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی چارہ کرادیا تھا۔

 حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ یہ حکم خاص ہم انصاری ومہاجرین کے بارے میں اترا ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس مال کچھ نہ تھا یہاں آکر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔

حضرت ابوبکر کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فلاں کے ساتھ۔ حضرت عثمان کا ایک زرقی شخص کے ساتھ ۔ خود میرا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہوجاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لئے بھی ہوگیا۔

إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا ۚ

 (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو

پھر فرماتا ہے ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو۔

كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (۶)

یہ حکم (الہٰی ) میں لکھا ہے ۔

فرماتا ہے اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لئے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا ۔واللہ اعلم

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا (۷)

جبکہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور آپ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے،اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا ۔‏

فرمان ہے کہ ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں سے اور عام نبیوں سے سب سے ہم نے عہد وعدہ لیا کہ وہ میرے دین کی تبلیغ کریں گے اس پر قائم رہیں گے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد امداد اور تائید کریں گے اور اتفاق واتحاد رکھیں گے۔

 اسی عہد کا ذکر اس آیت میں ہے :

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَآ ءَاتَيْتُكُم مِّن كِتَـبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ ءَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذلِكُمْ إِصْرِى قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُمْ مِّنَ الشَّـهِدِينَ  (۳:۸۱)

اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے قول قرار لیا کہ جو کچھ کتاب وحکمت دے کر میں تمیں بھیجوں پھر تمہارے ساتھ کی چیز کی تصدیق کرنے والا رسول آجائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔ بولو تمہیں اس کا اقرار ہے؟ اور میرے سامنے اس کا پختہ وعدہ کرتے ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں ہمیں اقرار ہے۔ جناب باری تعالی نے فرمایا بس اب گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

یہاں عام نبیوں کا ذکر کرکے پھر خاص جلیل القدر پیغمبروں کا نام بھی لے دیا ۔ اسی طرح ان کے نام اس آیت میں بھی ہیں:

شَرَعَ لَكُم مِّنَ الِدِينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِى أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُواْ الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ (۴۲:۱۳)

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح ؑ کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنااور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا

یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے جو زمین پر اللہ کے پہلے پیغمبر تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے جو سب سے آخری پیغمبر تھے۔ اور ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام کا ذکر ہے جو درمیانی پیغمبر تھے ۔

 ایک لطافت اس میں یہ ہے کہ پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کے پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور درمیانی پیغمبروں میں سے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر کیا۔ یہاں تو ترتیب یہ رکھی کہ فاتح اور خاتم کا ذکر کرکے بیچ کے نبیوں کا بیان کیا اور اس آیت میں سب سے پہلے خاتم الانیباء کا نام لیا اس لئے کہ سب سے اشرف وافضل آپ ہی ہیں۔ پھر یکے بعد دیگرے جس طرح آئے ہیں اسی طرح ترتیب وار بیان کیا اللہ تعالیٰ اپنے تمام نبیوں پر اپنا درود وسلام نازل فرمائے۔

 اس آیت کی تفسیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

 پیدائش کے اعتبار سے میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر میں ہوں پس مجھ سے ابتدا کی ہے ۔

 یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن اس کے ایک راوی سعید بن بشیر ضعیف ہیں۔

 اور سند سے یہ مرسل مروی ہے اور یہی زیادہ مشابہت رکھتی ہے اور بعض نے اسے موقوف روایت کی ہے واللہ اعلم۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ پانچ پیغمبر ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور ان میں بھی سب سے بہترمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

 اس کا ایک راوی ضعیف ہے۔

 اس آیت میں جس عہد ومیثاق کا ذکر ہے یہ وہ ہے جو روز ازل میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے تمام انسانوں کو نکال کرلیا تھا ۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

 حضرت آدم علیہ السلام کو بلند کیا گیا آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا ان میں مالدار مفلس خوبصورت اور ہر طرح کے لوگ دیکھے تو کہا اللہ کیا اچھا ہوتاکہ تونے ان سب کو برابر ہی رکھا ہوتا

 اللہ تعالیٰ عزوجل جلالہ نے فرمایا کہ یہ اس لئے ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے ۔

 ان میں جو انبیاء کرام علیھم السلام تھے انہیں بھی آپ نے دیکھا وہ روشنی کے مانند نمایاں تھے ان پر نور برس رہا تھا ان سے نبوت ورسالت کا ایک اور خاص عہد لیا گیا تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔

لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا (۸)

تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں۔‏

صادقوں سے ان کے صدق کا سوال ہو یعنی ان سے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچانے والے تھے ۔ ان کی اُمتوں میں سے جو بھی ان کو نہ مانے اسے سخت عذاب ہوگا۔

اے اللہ تو گواہ رہ ہماری گواہی ہے ہم دل سے مانتے ہیں کہ بیشک تیرے رسولوں نے تیرا پیغام تیرے بندوں کو بلا کم وکاست پہنچا دیا۔ انہوں نے پوری خیر خواہی کی اور حق کو صاف طور پر نمایاں طریقے سے واضح کردیا جس میں کوئی پوشیدگی کوئی شبہ کسی طرح کا شک نہ رہا گو بدنصیب ضدی جھگڑالو لوگوں نے انہیں نہ مانا۔ ہمارا ایمان ہے کہ تیرے رسولوں کی تمام باتیں سچ اور حق ہیں اور جس نے ان کی راہ نہ پکڑی وہ گمراہ اور باطل پر ہے۔

غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی

جنگ خندق میں جو سنہ ۵ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر جو اپنا فضل واحسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔

 بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ۴ ہجری میں ہوئی تھی۔

 اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم ،کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آکر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کرکے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے بھی ساز باز کرکے اپنے ساتھ شامل کرلیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عینیہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کرکے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کرلیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ نے بہ مشورہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین وانصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم شامل تھے اور خود آپ بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔

مشرکین کا لشکر بلامزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کرلیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کے صحابہ کو جو تین ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف سات سو تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔ سلع پہاڑی کو آپ نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بےروک آنے نہیں دیتا تھا

 آپ نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کردیا تھا ۔

 یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریبا آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کرلیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی۔ اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔

باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نکل کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔

یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہوگئے۔ مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کردیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کوپھلانگ لایا۔

یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر جاؤ آپ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے کفر کے اس دیو کو تیہ تیغ کیا جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔

 پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہوگیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی بالآخر تنگ آکر نا مرادی سے واپس ہوئے۔ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا ۚ

اے ایمان والوں! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو

 جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز تند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہیں دیکھا

وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا (۹)

اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے۔‏

جس ہواکا اس آیت میں ذکر ہے بقول مجاہد رحمۃ اللہ یہ صبا ہواؤں سے ہلاک کئے گئے تھے۔

 عکرمہ فرماتے ہیں جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ کہگرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں ۔ میں نے حضور سے اجازت چاہی تو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ میرے جو صحابی تمہیں ملے انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فورا حضور کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دکھے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے پھینک دیا ۔

 اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلابلاکر کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو۔ بچاؤ کا انتظام کرو۔

یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابو عبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟

حضرت حذیفہ نے فرمایا واللہ ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔

نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ آپ کو قدم بھی زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔

 آپ نے فرمایا بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کوئی ہے جو جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پر آپ دیر تک نماز پڑھتے رہے۔

 پھر فرمایا کوئی ہے جو جا کر یہ خبر لادے کہ مخالفین نے کیا کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق کرے۔

 اب کے بھی کوئی کھڑا نہ ہوا اور کھڑا ہوتا کیسے؟ بھوک کے مارے پیٹ کمر سے لگ رہا تھا سردی کے مارے دانت بج رہے تھے ، خوف کے مارے پتے پانی ہو رہے تھے۔ بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بےکھڑے ہوئے چارہ نہیں تھا۔ فرمانے لگے حذیفہ تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا

میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جاکر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کررہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے ۔ کوئی چیز اپنی ٹھکانے نہیں رہی اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہوجاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسانہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔

 میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑلیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟

 اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔

 میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔

پھر ابوسفیان نے کہا اللہ گواہ ہے ہم اس وقت کسی ٹھہرنے کی جگہ پر نہیں ہیں ۔ ہمارے مویشی ہمارے اونٹ ہلاک ہو رہے ہیں۔ بنو قریظہ نے ہم سے وعدہ خلافی کی اس نے ہمیں بڑی تکلیف پہنچائی پھر اس ہوا نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم کھانا نہیں پکا سکتے آگ تک نہیں جلاسکتے خیمے ڈیرے ٹھہر نہیں سکتے۔ میں تو تنگ آگیا ہوں اور میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ واپس ہوجاؤں پس میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ واپس چلو۔

 اتنا کہتے ہی اپنے اونٹ پر جو زانوں بندھا ہوا بیٹھا تھا چڑھ گیا اور اسے مارا وہ تین پاؤں سے ہی کھڑا ہوگیا پھر اس کا پاؤ کھولا۔ اس وقت ایسا اچھا موقعہ تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابو سفیان کا کام تمام کردیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمادیا تھا کہ کوئی نیا کام نہ کرنا اس لئے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔

 اب میں واپسی لوٹا اور اپنے لشکر میں آگیا جب میں پہنچا ہوں تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے جو آپ کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ نے مجھے دیکھ کر دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی ۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھارہا جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔

 قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے

 اور روایت میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 جب میں چلا تو باوجود کڑاکے کی سخت سردی کے قسم اللہ کی مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کسی گرم حمام میں ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب میں لشکر کفار میں پہنچا ہوں اس وقت ابوسفیان آگ سلگائے ہوئے تاپ رہا تھا میں نے اسے دیکھ کر پہچان کر اپنا تیر کمان میں چڑھالیا اور چاہتا تھا کہ چلادوں اور بالکل زد میں تھا ناممکن تھا کہ میر انشانہ خالی جائے لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آگیا کہ کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ وہ چوکنے ہو کر بھڑک جائیں تو میں نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں ۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھ کو اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتارہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ اے سونے والے بیدار ہوجا۔

 اور روایت میں ہے:

 جب اس تابعی نے کہا کہ کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ کے زمانے کو پاتے تو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاکاش کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمناہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں ۔ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔

 اس میں یہ بھی ہے کہ ہوا جھڑی آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔

 اور روایت میں ہے:

 حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے واقعات کو بیان فرما رہے تھے جو اہل مجلس نے کہا کہ اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو یوں اور یوں کرتے اس پر آپ نے یہ واقعہ بیان فرمادیا کہ باہر سے تو دس ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے اندر سے بنوقریظہ کے آٹھ سو یہودی بگڑے ہوئے ہیں بال بچے اور عورتیں مدینے میں ہیں خطرہ لگا ہوا ہے اگر بنو قریظہ نے اس طرف کا رخ کیا تو ایک ساعت میں ہی عورتوں بچوں کا فیصلہ کردیں گے۔ واللہ اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر نہیں گزری ۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں ، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہ آتی تھی۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بناکر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں ۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اجازت چاہنے لگے اور آپ نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں ؟

 آپ نے فرمایا شوق سے جاؤ۔

 وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لئے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لئے کوئی کپڑا تھا ۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا ۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں؟

میں نے کہا حذیفہ ۔

 فرمایا حذیفہ سن !

واللہ مجھ پر تو زمین تنک آگئی کہ کہیں حضور مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟

 آپ نے فرمایا دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ۔

 واللہ اس وقت مجھ سے زیادہ نہ تو کسی کو خوف تھا نہ گھبراہٹ تھی نہ سردی تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی کھڑا ہوگیا اور چلنے لگا تو میں نے سنا کہ آپ میرے لئے دعا کررہے ہیں کہ اے اللہ اس کے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے اس کی حفاظت کر۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے سات ہی میں نے دیکھا کہ کسی قسم کا خوف ڈر دہشت میرے دل میں تھی ہی نہیں۔

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دے کر فرمایا دیکھو حذیفہ وہاں جاکر میرے پاس واپس آنے تک کوئی نئی بات نہ کرنا۔

 اس روایت میں یہ بھی ہے:

 میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو ۔

 ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی ۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔ جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریبا بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفایت کردی اور آپ کے دشمنوں کو مات دی۔

 اس میں یہ بھی بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ نماز شروع کردیتے ۔ جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری ۔

إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ

جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے

پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔

وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا (۱۰)

اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح گمان کرنے لگے

شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا تھا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آجائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟

 معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے جیساکہ فرمان ہے :

آیت وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ  (۳۳:۲۲)

اور ایمانداروں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے!کہ انہیں کا وعدہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اسکے رسول نے دیا تھا

لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے ۔

 صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عین اس گبھراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔

آپ ﷺنے فرمایا یہ دعامانگو:

اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا

اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے۔

ادھر مسلمانوں کی یہ دعا بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیاپانچا کردیا ، فالحمدللہ۔

هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (۱۱)

یہیں مؤمن آزمائے گئے اور پوری طرح جھنجھوڑ دیئے گئے

اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بےچینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے دیکھ لئے۔

وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (۱۲)

اور اس وقت منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعدہ کیا تھا

وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا ۚ

ان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو! تمہارے لئے ٹھکانا نہیں چلو لوٹ چلو

 کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے کان میں صور پھونک رہے ہیں کہ میاں پاگل ہوئے ہو؟ دیکھ نہیں رہے دو گھڑی میں نقشہ پلٹنے والاہے۔ بھاگ چلو لوٹولوٹو واپس چلو۔

 يَثْرِب سے مراد مدینہ ہے۔

 جیسے صحیح حدیث میں ہے:

 مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے۔ جو دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان ہے پہلے تو میرا خیال ہوا تھا کہ یہ ہجر ہے لیکن نہیں وہ جگہ یثرب ہے۔

 اور روایت میں ہے کہ وہ جگہ مدینہ ہے ۔

 البتہ یہ خیال رہے کہ ایک ضعیف حدیث میں ہے جو مدینے کو یثرب کہے وہ استغفار کر لے۔ مدینہ تو طابہ ہے وہ طابہ ہے

یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔

 کہا گیا ہے کہ عمالیق میں سے جو شخص یہاں آکر ٹھہرا تھا چنکہ اسکا نام یثرب بن عبید بن مہلا بیل بن عوص بن عملاق بن لاد بن آدم بن سام بن نوح تھا اس لئے اس شہر کو بھی اسی کے نام سے مشہور کیا گیا ۔

یہ بھی قول ہے کہ تورات شریف میں اس کے گیارہ نام آئے ہیں۔ مدینہ ، طابہ، جلیلہ، جابرہ، محبہ ، محبوبہ، قاصمہ، مجبورہ، عدراد، مرحومہ۔

کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ عبادت پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ شریف سے فرمایا اے طیبہ اور اے طابہ اور اے مسکینہ خزانوں میں مبتلا نہ ہو تمام بستیوں پر تیرا درجہ بلند ہوگا۔

وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ۖ

اور ان کی ایک جماعت یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگنے لگی ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے

کچھ لوگ تو اس موقعہ خندق پر کہنے لگے یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرنے کی جگہ نہیں اپنے گھروں کو لوٹ چلو۔

 بنو حارثہ کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں میں چوری ہونے کا خطرہ ہے وہ خالی پڑے ہیں ہمیں واپس جانے کی اجازت ملنی چاہیے ۔ اوس بن قینطی نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھروں میں دشمن کے گھس جانے کا اندیشہ ہے ہمیں جانے کی اجازت دیجئے۔

إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا (۱۳)

 (لیکن) ان کا پختہ ارادہ بھاگ کھڑے ہونے کا تھا۔

 اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی بات بتلادی کہ یہ تو ڈھونک رچایا ہے حقیقت میں عذر کچھ بھی نہیں نامردی سے بھگوڑا پن دکھاتے ہیں۔ لڑائی سے جی چرا کر سرکنا چاہتے ہیں۔

وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا (۱۴)

اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کئے جاتے پھر انسے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت

جو لوگ یہ عذر کرکے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آجائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بےتامل کفر کو قبول کرلیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کررہے ہیں۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے ۔

وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْئُولًا (۱۵)

اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھریں گے اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدہ کی باز پرس ہوگی

پھر فرماتا ہے یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں ۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی باز پرس کرے گا۔

قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُمْ مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا (۱۶)

کہہ دیجئے کہ تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اسوقت تم ہی کم فائدہ ٹھاؤ گے

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ موت وفوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہوجائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہوسکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنَ اللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۚ

پوچھئے! اگر اللہ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے)

وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (۱۷)

اپنے لئے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمائتی پائیں گے نہ مدد گار۔‏

پھر فرمایا کہ بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دلاسکے نہ مددگاری کرسکے نہ حمایت پر آسکے ۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کرکے ہی رہتا ہے۔

قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ

اللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔

وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا (۱۸)

اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں ۔

أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ

تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں

یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش ۔

فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ

پھر جب خوف و دہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں

 اور ان کی آنکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو

خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہوجاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔

فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ ۚ

پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں

لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت ومرومی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بےطرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے ۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیںدونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بےخیر انسان اور کون ہوگا؟

 امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔

أُولَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ ۚ

یہ ایمان لائے ہی نہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دئیے ہیں،

وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (۱۹)

اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے ۔

 اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لئے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے۔

يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا ۖ

سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے

ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے۔

وَإِنْ يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُمْ بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنْبَائِكُمْ ۖ

اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وہ صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے،

مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر میں ہی نہ ہوتے بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دوردراز کے جنگل میں ہوتے کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی لڑائی کا کیا حشر ہوا؟

وَلَوْ كَانُوا فِيكُمْ مَا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا (۲۰)

اگر وہ تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام

 اللہ فرماتا ہے یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بیکار ہیں۔ ان کے دل مردہ ہیں نامردی کے گھن نے انہیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کونسی بہادری دکھائیں گے؟

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (۲۱)

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے ،ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے

اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے

یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتدا پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ۔ مثلاً راہ الٰہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ نے دکھائی یقیناً یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنالیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے بہترین نمونہ بنالیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں۔

 اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے:

 تم نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟

 میرے رسول تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا ۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لئے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے ؟

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ

اور ایمانداروں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے!کہ انہیں کا وعدہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اسکے رسول نے دیا تھا

پھر اللہ کی فوج کے سچے مؤمنوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول کا۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ غلط ہو یقیناً ًہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہوگا۔ ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی ۔

 بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے۔

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ  (۲:۲۱۴)

کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤگے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی ؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے

 یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی ۔

وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ

اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا

اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے

وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا (۲۲)

اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا

 فرماتا ہے کہ ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا ۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی۔

 اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کردی ہے وللہ الحمد والمنہ ۔

پس فرماتا ہے کہ اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں ماناکرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے۔

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ

مؤمنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا

فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (۲۳)

بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔

اس دن مؤمنوں اور کفار میں فرق واضح ہوگیا منافقوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

 یہاں مؤمنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بےچین ہیں۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ احزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم نے دو گواہوں کے برار کردیا تھا ۔ وہ آیت مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ہے۔

یہ آیت حضرت انس بن نضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

 واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہوسکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں ؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آرہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابو عمرو کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آرہی ہیں ۔ یہ کہتے ہی آپ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بےپناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کردئیے تھے اور کفا رلڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا ۔ آپ کو (۸۰) اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا ۔

شہادت کے بعد کوئی آپ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ کی ہمشیرہ نے آپ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر ۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

 اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

 اور روایت میں ہے کہ جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں ۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو ہو کررہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا ۔

 حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہوگئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔

 ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟

 اس وقت میں سامنے آرہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں ۔

 ان کے صاحبزادے حضرت موسیٰ بن طلحہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ تعالیٰ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کردی۔ رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گزاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کردی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گزرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں۔ یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث وطیب کی تمیز ہوجائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر وباطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہوچکا ۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کرلے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔ جیسے اس کا فرمان ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَـهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّـبِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَـرَكُمْ  (۴۷:۳۱)

ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے۔

 پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔

 جیسے فرمایا :

مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ  (۳:۱۷۹)

اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مؤمنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کرلے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کردے۔

لِيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ إِنْ شَاءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ

تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے

إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (۲۴)

اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا بہت ہی مہربان ہے۔‏

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہوجائے اور ان کو معاف فرمادے ۔ اس لئے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت ورحمت غضب وغصے سے بڑھی ہوئی ہے۔

وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ

اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائدہ نہیں پایا

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے طوفان باد وباراں بھیج کر اور اپنے نہ نظر آنے والے لشکر اتار کر کافروں کی کمر توڑی دی اور انہیں سخت مایوسی اور نامرادی کیساتھ محاصرہ ہٹانا پڑا ۔ بلکہ اگر رحمۃ اللعالمین کی اُمت میں یہ نہ ہوتے تو یہ ہوائیں ان کے ساتھ وہی کرتیں جو عادیوں کے ساتھ اس بےبرکت ہوا نے کیا تھا۔

چونکہ رب العالمین کا فرمان ہے:

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ (۸:۳۳)

تو جب تک ان میں ہے اللہ انہیں عام عذاب نہیں کرے گا

 لہذا انہیں صرف ان کی شرارت کا مزہ چکھا دیا۔ ان کے مجمع کو منتشر کرکے ان پر سے اپنا عذاب ہٹالیا۔

 چونکہ ان کا یہ اجتماع محض ہوائے نفسانی تھا اس لئے ہوا نے ہی انہیں پراگندہ کردیا جو سوچ سمجھ کر آئے تھے سب خاک میں مل گیا کہاں کی غنیمت ؟کہاں کی فتح؟

جان کے لالے پڑے گئے اور ہاتھ ملتے دانت پیستے پیچ وتاب کھاتے ذلت ورسوائی کے ساتھ نامرادی اور ناکامی سے واپس ہوئے۔ دنیا کا خسارہ الگ ہوا اور آخرت کا وبال الگ۔

وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ

اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہوگیا

کیونکہ جو کوئی شخص کسی کام کا قصد کرتا ہے اور وہ اپنے کام کو عملی صورت بھی دے دے پھر وہ اس میں کامیاب نہ ہو تو گنہگار تو وہ ہو ہی گیا ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل اور آپ کے دین کو فنا کرنے کی آرزو پھر اہتمام پھر اقدام سب کچھ انہوں نے کر لیا۔ لیکن قدرت نے دونوں جہان کا بوجھ ان پر لادھ کر انہیں جلے دل سے واپس کیا اللہ تعالیٰ نے خود ہی مؤمنوں کی طرف سے ان کا مقابلہ کیا۔ نہ مسلمان ان سے لڑے نہ انہیں ہٹایا ۔ بلکہ مسلمان اپنی جگہ رہے اور وہ بھاگتے رہے۔ اللہ نے اپنے لشکر کی لاج رکھ لی اور اپنے بندے کی مدد کی اور خود ہی کافی ہوگیا اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:

 اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اپنے لشکر کی عزت کی تمام دشمنوں سے آپ ہی نمٹ لیا اور سب کو شکست دے دی۔ اس کے بعد اور کوئی بھی نہیں (بخاری مسلم)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے موقعہ پر جناب باری تعالیٰ سے جو دعا کی تھی وہ بھی بخاری مسلم میں مروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:

اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُم

اے اللہ اے کتاب کے اتارنے والے جلد حساب لینے والے ان لشکروں کو شکست دے اور انہیں ہلا ڈال۔

  اس فرمان وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ یعنی اللہ نے مؤمنوں کی کفایت جنگ سے کردی۔ اس میں نہایت لطیف بات یہ ہے کہ نہ صرف اس جنگ سے ہی مسلمان چھوٹ گئے بلکہ آئندہ ہمیشہ ہی صحابہ اس سے بچ گئے کہ مشرکین ان پر چڑھ دوڑیں۔ چنانچہ آپ تاریخ دیکھ لیں جنگ خندق کے بعد کافروں کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ مدینے پر یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جگہ خود چڑھائی کرتے۔ ان کے منحوس قدموں سے اللہ نے اپنے نبی کے مسکن وآرام گاہ کو محفوظ کرلیا فالحمد للہ۔

بلکہ برخلاف اس کے مسلمان ان پر چڑھ چڑھ گئے یہاں تک کہ عرب کی سرزمین سے اللہ نے شرک وکفر ختم کردیا۔ جب اس جنگ سے کافر لوٹے اسی وقت رسول اکرم صلی اللہ علہ وسلم نے بطور پیشن گوئی فرمادیا تھا کہ اس سال کے بعد قریش تم سے جنگ نہیں کریں گے بلکہ تم ان سے جنگ کرو گے چنانچہ یہی ہوا۔ یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا ۔

وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا (۲۵)

اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔‏

 اللہ کی قوت کا مقابلہ بندے کے بس کا نہیں۔ اللہ کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ اسی نے اپنی مدد وقوت سے ان بپھرے ہوئے اور بکھرے ہوئے لشکروں کو پسپا کیا۔ انہیں برائے نام بھی کوئی نفع نہ پہنچا۔ اس نے اسلام اور اہل اسلام کو غالب کیا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے عبد و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ فالحمد للہ

 

بنو قریظہ کا محاصرہ

اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین ویہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان ہوچکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بیوفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کردیا پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور انکے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کرلیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے

کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے ۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا۔ آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آجاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہوگا۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہوگا۔

بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کو سخت صدمہ ہوا اور بہت ہی بھاری پڑا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے غلاموں کی مدد کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب کے مظفر ومنصور مدینے شریف کو واپس آئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہتھیار کھول دئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہتھیار اتارکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں گرد وغبار سے پاک صاف ہونے کے لئے غسل کرنے کو بیٹھے ہی تھے جو حضرت جبرائیل ظاہر ہوئے آپ کے سر پر ریشمی عمامہ تھا خچر پر سوار تھے جس پر ریشمی گدی تھی فرمانے لگے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے کمر کھول لی ؟

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں

حضرت جبرائیل نے فرمایا لیکن فرشتوں نے اب تک اپنے ہتھیار الگ نہیں کئے۔ میں کافروں کے تعاقب سے ابھی ابھی آرہا ہوں سنئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان کی پوری گوشمالی کیجئے ۔ مجھے بھی اللہ کا حکم مل چکا ہے کہ میں انہیں تھرادوں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے تیار ہو کر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو حکم دیا اور فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک عصر کی نماز بنو قریظہ میں ہی پڑھے۔ ظہر کے بعد یہ حکم ملا تھا بنو قریظہ کا قلعہ یہاں سے کئی میل پر تھا ۔ نماز کا وقت صحابہ کو راستہ میں آگیا۔ تو بعض نے تو نماز ادا کرلی اور کہا کہ حضور کا فرمان اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم تیز چلیں۔ اور بعض نے کہا ہم تو وہاں پہنچے بغیر نماز نہیں پڑھیں گے جب آپ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے دونوں میں سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔

 آپ ﷺنے مدینہ پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنایا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ لشکر کا جھنڈادیا اور آپ بھی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے پیچھے پیچھے بنو قریظہ کی طرف چلے اور جاکر ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک رہا۔ جب یہودیوں کے ناک میں دم آگیا اور تنگ حال ہوگئے تو انہوں نے اپنا حاکم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ بنو قریظہ میں اور قبیلہ اوس میں زمانہ جاہلیت میں اتفاق ویگانگت تھی ایک دوسرے کے حلیف تھے اس لئے ان یہودیوں کو یہ خیال رہا کہ حضرت سعد ہمارا لحاظ اور پاس کریں گے جیسے کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنو قینقاع کو چھڑوایا تھا

 ادھر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جنگ خندق میں انہیں اکحل کی رگ میں ایک تیر لگا تھا جس سے خون جاری تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر داغ لگوایا تھا اور مسجد کے خیمے میں ہی انہیں رکھا تھا کہ پاس ہی پاس عیادت اور بیمار پر سی کرلیا کریں۔

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی:

 اے پروردگار اگر اب بھی کوئی ایسی لڑائی باقی ہے جس میں کفار قریش تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ آئیں تو تو مجھے زندہ رکھ کہ میں اس میں شرکت کرسکوں اور اگر تو نے کوئی ایک لڑائی بھی ایسی باقی نہیں رکھی تو خیر میرا زخم خوب بہاتا رہے لیکن اے میرے رب جب تک میں بنو قریظہ قبیلے کی سرکشی کی سزا سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہ کرلوں تو میری موت کو مؤخر فرمانا۔

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مستجاب الدعوات کی دعا کی قبولیت کی شان دیکھئے کہ آپ دعا کرتے ہیں ادھر یہودان بنو قریظہ آپ کے فیصلے پر اظہار رضامندی کرکے قلعے کو مسلمانوں کے سپرد کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی بھیج کر آپ کو مدینہ سے بلواتے ہیں کہ آپ آکر ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنادیں۔ یہ گدھے پر سوار کرالئے گیے اور سارا قبیلہ ان سے لپٹ گیا کہ دیکھئے حضرت خیال رکھئے گا بنو قریظہ آپ کے آدمی ہیں انہوں نے آپ پر بھروسہ کیا ہے وہ آپ کے حلیف ہیں آپ کے قوم کے دکھ کے ساتھی ہیں ۔ آپ ان پر رحم فرمائیے گا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا۔ دیکھئے اس وقت ان کا کوئی نہیں وہ آپ کے بس میں ہیں وغیرہ

لیکن حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ محض خاموش تھے کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ ان لوگوں نے مجبور کیا کہ جواب دیں پیچھا ہی نہ چھوڑا۔ آخر آپ نے فرمایا وقت آگیا ہے کہ سعد رضی اللہ اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں۔ یہ سنتے ہی ان لوگوں کے تو دل ڈوب گئے اور سمجھ لیا کہ بنو قریظہ کی خیر نہیں۔

 جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سواری اس خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپ نے فرمایا لوگو اپنے سردار کے استقبال کے لئے اٹھو چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کو عزت واکرام وقعت واحترام سے سواری سے اتارا یہ اس لئے تھا کہ اس وقت آپ حاکم کی حیثیت میں تھے ان کے فیصلے پورے ناطق ونافذ سمجھے جائیں۔

آپ کے بیٹھتے ہی حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہو کر قلعے سے نکل آئیں ہیں اب آپ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیجئے۔

آپ نے کہا جو میں ان پر حکم کروں وہ پورا ہوگا؟

حضور نے فرمایا ہاں کیوں نہیں؟

 کہا اور اس خیمے والوں پر بھی اس کی تعمیل ضروری ہوگی؟

 آپ نے فرمایا یقیناً

پوچھا اور اس طرف والوں پر بھی ؟ اور اشارہ اس طرف کیا جس طرف خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لیکن آپ کی طرف نہیں دیکھا آپ کی بزرگی اور عزت وعظمت کی وجہ سے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں اس طرف والوں پر بھی ۔

 آپ نے فرمایا اب میرا فیصلہ سنئے میں کہتا ہوں بنو قریظہ میں جتنے لوگ لڑنے والے ہیں انہیں قتل کردیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کرلیا جائے ان کے مال قبضے میں لائے جائیں۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد رضی اللہ تم نے ان کے بارے میں وہی حکم کیا جو اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تم نے سچے مالک اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا وہی سنایا ہے۔

 پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندقیں کھائی کھدوا کر انہیں بندھا ہوا بلوا کر ان کی گردنیں ماری گئیں۔ یہ گنتی میں سات آٹھ سو تھے ان کی عورتیں نابالغ بچے اور مال لے لئے گئے۔

وَأَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيهِمْ

اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا

پس فرماتا ہے کہ جن اہل کتاب یعنی یہودیوں نے کافروں کے لشکروں کی ہمت افزائی کی تھی اور ان کا ساتھ دیا تھا ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعے خالی کرا دئیے۔

 اس قوم قریظہ کے بڑے سردار جن سے ان کی نسل جاری ہوئی تھی اگلے زمانے میں آکر حجاز میں اسی طمع میں بسے تھے کہ نبی آخر الزمان کی پیش گوئی ہماری کتابوں میں ہے وہ چونکہ یہیں ہونے والے ہیں تو ہم سب پہلے آپ کی اتباع کی سعادت سے مسعود ہونگے۔ لیکن ان ناحلقوں نے جب اللہ کی وہ نبی آئے ان کی تکذیب کی جس کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر نازل ہوئی۔

صَيَاصِي سے مراد قلعے ہیں اسی معنی کے لحاظ سے سینگوں کو بھی صَيَاصِي کہتے ہیں اس لئے کہ جانور کے سارے جسم کے اوپر اور سب سے بلند یہی ہوتے ہیں

وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا (۲۶)

اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروہ کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروہ کو قیدی بنا رہے ہو۔‏

ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا انہوں نے ہی مشرکین کو بھڑکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرائی تھی

وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَئُوهَا ۚ

اور اس نے تمہیں انکی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور انکے مال کا وارث کر دیا اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں

عالم جاہل برابر نہیں ہوتے۔ یہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جڑوں سے اکھیڑ دینا چاہا تھا لیکن معاملہ برعکس ہوگیا

پانسہ پلٹ گیا قوت کمزوری سے اور مراد نامرادی سے بدل گئی۔ نقشہ بگڑ گیا حمایتی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یہ بےدست وپا رہ گئے۔ عزت کی خواہش نے ذلت دکھائی مسلمانوں کے برباد کرنے اور پیس ڈالنے کی خواہش نے اپنے تئیں پسوا دیا۔ اور ابھی آخرت کی محرومی باقی ہے۔ کچھ قتل کردئیے گئے باقی قیدی کر دیئے گئے۔

 عطیہ فرظی کا بیان ہے کہ جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو میرے بارے میں حضور کو کچھ تردد ہوا۔

فرمایا اسے الگ لے جاؤ دیکھو اگر اس کے ناف کے نیچے بال ہوں تو قتل کردو ورنہ قیدیوں میں بٹھاددیکھا تو میں بچہ ہی تھا زندہ چھوڑ دیا گیا۔

 ان کی زمین گھر ان کے مال کے مالک مسلمان بن گئے بلکہ اس زمین کے بھی جو اب تک پڑی تھی اور جہاں مسلمان کے نشان قدم بھی نہ پڑے تھے یعنی خیبر کی زمین یا مکہ شریف کی زمین ۔ یا فارس یا روم کی زمین اور ممکن ہے کہ یہ کل خطے مراد ہوں اللہ بڑی قدرتوں والا ہے ۔

مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے:

 خندق والے دن میں لشکر کا کچھ حال معلوم کرنے نکلی۔ مجھے اپنے پیچھے سے کسی کے بہت تیز آنے کی آہٹ اور اس کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی میں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ بیٹھ گئی دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کی طرف جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حارث بن اوس تھے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈھال تھی۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے لیکن بڑے لانبے چوڑے تھے زرہ پورے بدن پر نہیں آئی تھی ہاتھ کھلے تھے اشعار رجز پڑھتے ہوئے جھومتے جھاُمتے چلے جا رہے تھے

میں یہاں سے اور آگے بڑھی اور ایک باغیچے میں چلی گئی وہاں کچھ مسلمان موجود تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور ایک اور صاحب جو خود اوڑھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے دیکھ لیا پس پھر کیا تھا؟ بڑے ہی بگڑے اور مجھ سے فرمانے لگے یہ دلیری؟ تم نہیں جانتیں لڑائی ہو رہی ہے؟ اللہ جانے کیا نتیجہ ہو؟ تم کیسے یہاں چلی آئیں وغیرہ وغیرہ ۔

جو صاحب مغفر سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ باتیں سن کر اپنے سر سے لوہے کا ٹوپ اتارا دیکھا اب میں پہچان گئی کہ وہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاموش کیا کہ کیا ملامت شروع کر رکھی ہے نتیجے کا کیا ڈر ہے؟ کیوں تمہیں اتنی گھبراہٹ ہے؟ کوئی بھاگ کے جائے گا کہاں؟ سب کچھ اللہ کے ہاتھ ہے

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک قریشی نے تاک کر تیر لگایا اور کہا لے میں ابن عرقہ ہوں۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رگ اکحل پر وہ تیر پڑا اور پیوست ہوگیا۔ خون کے فوارے چھوٹ گئے اسی وقت آپ نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو۔ اللہ کی شان سے اسی وقت خون تھم گیا۔ مشرکین کو ہواؤں نے بھگادیا اور اللہ نے مؤمنوں کی کفایت کردی ابوسفیان اور اسکے ساتھی تو بھاگ کر تہامہ میں چلے گئے عینیہ بن بدر اس کے ساتھی نجد میں چلے گئے۔ بنو قریظہ اپنے قلعہ میں جاکر پنا گزین ہوگئے۔ میدان خالی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں واپس تشریف لے آئے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے مسجد میں ہی چمڑے کا ایک خیمہ نصب کیا گیا

 اسی وقت حضرت جبرائیل آئے آپ کا چہرہ گرد آلود تھا فرمانے لگے آپ نے ہتھیار کھول دئیے؟ حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں۔ اٹھئے بنو قریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ان پر چڑھائی کیجئے حضور نے فوراً ہتھیار لگا لئے اور صحابہ میں بھی کوچ کی منادی کرادی۔

 بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل ہی تھے راہ میں آپ نے ان سے پوچھا کیوں بھئی؟ کسی کو جاتے ہوئے دیکھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے ہیں۔ حالانکہ تھے تو وہ حضرت جبرائیل لیکن آپ کی ڈاڑھی چہرہ وغیرہ بالکل حضرت دحیہ کلبی سے ملتاجلتا تھا ۔

 اب آپ نے جاکر بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کیا پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ جب وہ گھبرائے اور تنگ آگئے تو ان سے کہا گیا کہ قلعہ ہمیں سونپ دو اور تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرمادیں گے۔ انہوں نے حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اس صورت میں تو اپنی جان سے ہاتھ دھولینا ہے۔ انہوں نے یہ معلوم کرکے اسے تو نامنظور کردیا اور کہنے لگے ہم قلعہ خالی کردیتے ہیں آپ کی فوج کو قبضہ دیتے ہیں ہمارے بارے کا فیصلہ ہم حضرت سعد بن معاذ کو دیتے ہیں۔ آپ نے اسے بھی منظور فرمالیا۔

 حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا آپ تشریف لے آئے گدھے پر سوار تھے جس پر کجھور کے درخت کی چھال کی گدی تھی آپ اس پر بمشکل سوار کرادیئے گئے تھے آپ کی قوم آپ کو گھیرے ہوئے تھی اور سمجھارہی تھی کہ دیکھو بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ہمارے دوست ہیں ہماری موت زیست کے شریک ہیں اور ان کے تعلقات جو ہم سے ہیں وہ آپ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ خاموشی سے سب کی باتیں سنتے جاتے تھے جب ان کے محلہ میں پہنچے تو ان کی طرف نظر ڈالی اور کہا وقت آگیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقاً پرواہ نہ کروں۔ جب حضور کے خیمے کے پاس ان کی سواری پہنچی تو حضور نے فرمایا اپنے سید کی طرف اٹھو اور انہیں اتارو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہمارا سید تو اللہ ہی ہے ۔ آپ نے فرمایا اتارو۔ لوگوں نے مل جل کر انہیں سواری سے اتارا حضور نے فرمایا سعد رضی اللہ ان کے بارے میں جو حکم کرنا چاہو کر دو۔

 آپ نے فرمایا ان کے بڑے قتل کردئیے جائیں اور ان کے چھوٹے غلام بنائیے جائیں ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔
آپ ﷺنے فرمایا سعد رضی اللہ تم نے اس حکم میں اللہ اور اس کے رسول کی پوری موافقت کی۔

 پھر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا مانگی کہ اے اللہ اگر تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی کوئی اور چڑھائی ابھی باقی ہو تو مجھے اس کی شمولیت کے لئے زندہ رکھ ورنہ اپنی طرف بلالے۔ اسی وقت زخم سے خون بہنے لگا حالانکہ وہ پورا بھر چکا تھا یونہی سا باقی تھا چنانچہ انہیں پھر اسی خیمے میں پہنچا دیا گیا اور آپ وہیں شہد ہوگئے رضی اللہ عنہ۔

 خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی عنہ وغیرہ بھی آئے سب رو رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز عمر رضی اللہ کی آواز میں پہچان بھی ہو رہی تھی میں اس وقت اپنے حجرے میں تھی ۔ فی الواقع اصحاب رسول اللہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ نے فرمایا رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (۴۸:۲۹) آپس میں ایک دوسرے کی پوری محبت اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والے تھے۔

 حضرت علقمہ رضی اللہ نے پوچھا ام المؤمنین یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رویا کرتے تھے؟

فرمایا آپ کی آنکھیں کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں ہاں غم ورنج کے موقعہ پر آپ داڑھی مبارک اپنی مٹھی میں لے لیتے تھے۔

وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا (۲۷)

اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔‏

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمتعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (۲۸)

اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ

 اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔‏

وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا (۲۹)

اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے

 تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔

-         اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں

-         اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔

اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔

حضرت عائشہؓ کا بیان ہے:

 اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔

میں نے فوراً جواب دیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کونسی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے۔ آپ کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا

 اور روایت میں ہے کہ تین دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ خوش ہوگئے اور ہنس دیئے، پھر آپ دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے۔

 فرماتی ہیں کہ اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا۔

مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابوبکر ؓنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔

گئے دیکھا کہ آپ کی ازواج مطہرات آپ کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ خاموش ہیں۔

حضرت عمر ؓنے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔

 پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔

یہ سنتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟

ابوبکرؓ حضرت عائشہؓ کی طرف لپکے اور عمر ؓحضرت حفصہؓ کی طرف اور فرمانے لگے افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ کے پاس نہیں۔

وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں برگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔

 اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔

 اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ حضرت صدیقہؓ کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا ۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یارسول اللہ آپ اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ میں نے آپ کو اختیار کیا۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا۔

 حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ آؤ میں تمہارے حقوق ادا کردوں اور تمہیں رہائی دے دوں اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے واللہ اعلم۔

 جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ کی نوبیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں رضی اللہ عنہن وارضاھن اجمعین۔

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بےحیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے یعنی مؤمنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لئے مقرر ہو چکیں۔ تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ اگر بالفرض تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہئے۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی۔

وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (۳۰)

اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے۔‏

 اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں۔

 یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فرمان بطور شرط کے ہے اور شرط کا ہونا ضروری نہیں ہوتا

جیسے فرمان ہے:

لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ  (۳۹:۶۵)

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے۔

نبیوں کا ذکر کر کے فرمایا:

وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (۶:۸۸)

اگر یہ شرک کریں تو ان کی نیکیاں بیکار ہو جائیں

 اور آیت میں ہے:

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ  (۴۳:۸۱)

اگر رحمان کے اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے عابد ہوں

 اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے:

لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ (۳۹:۴)

اگر اللہ کو اولاد منظور ہوتی تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا پسند فرما لیتا وہ پاک ہے وہ یکتا اور ایک ہے وہ غالب اور سب پر حکمران ہے

 پس ان پانچوں آیتوں میں شرط کے ساتھ بیان ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔

 نہ نبیوں سے شرک ہونا ممکن نہ سردار رسولاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ممکن۔ نہ اللہ کی اولاد۔

 اسی طرح امہات المؤمنین کی نسبت بھی جو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کھلی لغو حرکت کرے تو اسے دگنی سزا ہوگی اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ واقعی ان میں سے کسی نے کوئی ایسی نافرمانی اور بدخلقی کی ہو۔ نعوذ باللہ

وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا (۳۱)

اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے

اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے۔‏

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل و فضل کا بیان فرما رہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تمہاری اطاعت گزاری اور نیک کاری پر تمہیں دگنا اجر ہے اور تمہارے لئے جنت میں باعزت روزی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی منزل میں ہوں گی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل اعلیٰ علیین میں ہے جو تمام لوگوں سے بالا تر ہے۔ اسی کا نام وسیلہ ہے۔ یہ جنت کی سب سے اعلیٰ اور سب سے اونچی منزل ہے جس کی چھت عرش اللہ ہے۔

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ ۚ

اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں

إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا (۳۲)

اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جسکے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو۔‏

 پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔

 پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى ۖ

اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو

فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے لئے آنا بھی شرعی ضرورت ہے جیسے کہ حدیث میں ہے:

 اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔

لیکن انہیں چاہئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں۔

 ایک روایت میں ہے کہ ان کے لئے ان کے گھر بہتر ہیں۔

 بزار میں ہے:

 عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔

 آپ ﷺنے فرمایا :

تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی۔

 ترمذی میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔

 ابو داؤد میں ہے:

 عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے۔

جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

 حضرت نوح اور حضرت ادریس کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لئے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہوگئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزارہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زنا کاری کا عام رواج ہو گیا۔

یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔

وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ

 اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو

ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو۔

 اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔

 ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (۳۳)

اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو! تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔

فرمایا اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا۔

یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لئے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔

 آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔

حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے (ابن جریر)

ابن ابی حاتم میں حضرت عکرمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو چاہے مجھ سے مباہلہ کر لے۔

یہ آیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

 اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔

مسند احمد اور ترمذی میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لئے جب نکلتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔

 امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔

 ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔

 مسند میں ہے شد اد بن عمار کہتے ہیں:

 میں ایک دن حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علیؓ کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے حضرت واثلہ ؓنے فرمایا تو نے بھی حضرت علیؓ کی شان میں گستا خانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔ تو فرمایا سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔

 میں ایک مرتبہ حضرت علی کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا:

 اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔

 دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں:

 میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ کے اہل بیت میں سے ہوں؟

 آپ نے فرمایا تو بھی میرے اہل میں سے ہے۔

حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لئے بہت ہی بڑی امید کا ہے

 اور روایت میں ہے:

 حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن حضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے۔

میں نے کہا میں بھی؟

 آپ نے فرمایا ہاں تو بھی۔

میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے۔

 مسند احمد میں ہے:

 حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری ۔

پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الہٰی  یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر

 میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں

 آپ ﷺنے فرمایا یقیناً تو بہتری کی طرف ہے فی الواقع تو خیر کی طرف ہے۔

 اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلوم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔

 دوسری سند سے انہی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے :

 ایک مرتبہ ان کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ میرے ہاں آئے اور فرمایا کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا۔

 تھوڑی دیر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟

 پھر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟

 پھر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔

 پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔

جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الہٰی  یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔

 پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے

 میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟

 لیکن اللہ جانتا ہے آپ اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا تو خیر کی طرف ہے۔

مسند کی اور روایت میں ہے

میرے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ گئے ہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں۔

 میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی

 جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن میں دوسرا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت۔

 میں نے کہا میں بھی؟

فرمایا ہاں تو بھی۔

اور روایت میں ہے:

 میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟

 آپ نے فرمایا تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے

 اور روایت میں ہے:

 میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا تو میری اہل ہے۔

 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی۔ مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

 وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ کی محبوب تھیں۔ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا

 میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے اہل بیت سے ہوں

 آپ نے فرمایا دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو۔ (ابن ابی حاتم)

حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔

اور سند سے یہ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ واللہ اعلم

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں (ابن جریر)

صحیح مسلم شریف میں ہے:

 حضرت یزید بن حبان فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ کی حدیثیں سنیں، آپ کے ساتھ جہاد کئے، آ پکے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔

 آپ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہو گیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کر لو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔

 سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا :

میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔

پھر فرمایا اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔

تو حصین نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا آپ کے اہل بیت کون ہیں؟

 کیا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت نہیں ہیں؟

فرمایا آپ کی بیویاں تو آپ کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے،

پوچھا وہ کون ہیں؟

 فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم۔

پوچھا کیا ان سب پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے؟

 کہا ہاں!

دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے:

 میں نے پوچھا کیا آپ کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟

 کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دے دے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپکے بعد صدقہ حرام ہے۔

 اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ رائج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔

جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لئے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔

پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول حضرت قتادہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الہٰی  نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے یہ اس لئے بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لئے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ کی اہل بیت ہیں۔

 جیسے حدیث میں گزر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔

 اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے۔ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ  (۹:۱۰۸)  کہ یہ اتری تو ہے مسجد قبا کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔

 لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟

 تو آپ نے فرمایا وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی۔

پس جو صفت مسجد قبا میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لئے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے:

 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہوگئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا  اتری ہے۔ اس پر آپ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو بار بار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔

 ایک مرتبہ آپ نے ایک شامی سے فرمایا تھا کیا تو نے سورہ احزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟

 اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟

 فرمایا ہاں!

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا (۳۴)

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے والا خبردار ہے۔‏

اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو،اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اوریہ فضیلتیں تمہیں دیں ۔

پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے :

 اے نبی کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اسکا شکر کرنا چاہئے اور اسکی حمد پڑھنی چاہئے تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا۔

حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔

 اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی ﷺ کی بیویاں بننے کے لئے منتخب کر لیا۔

 پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جزوکل سے۔

اسلام اور ایمان میں فرق اور ذکر الہٰی

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ مردوں کا ذکر تو قرآن میں آتا رہتا ہے لیکن عورتوں کا تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا۔ ایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھی اپنے سر کے بال سلجھا رہی تھی جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز منبر پر سنی میں نے بالوں کو تو یونہی لپیٹ لیا اور حجرے میں آ کر آپ کی باتیں سننے لگی تو آپ اس وقت یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے۔ نسائی

 اور بہت سی روایتیں آپ سے مختصراً مروی ہیں۔

 ایک روایت میں ہے کہ چند عورتوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تھا

 اور روایت میں ہے کہ عورتوں نے ازواج مطہرات سے یہ کہا تھا۔

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ

 بیشک مسلمان مرد اور عورتیں مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں

اسلام و ایمان کو الگ الگ بیان کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ایمان اسلام کا غیر ہے اور ایمان اسلام سے مخصوص و ممتاز ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا (۴۹:۱۴)  والی آیت اور بخاری و مسلم کی حدیث کہ زانی زنا کے وقت مؤمن نہیں ہوتا پھر اس پر اجماع کہ زنا سے کفر لازم نہیں آتا۔ یہ اس پر دلیل ہے اور ہم شرح بخاری کی ابتداء میں اسے ثابت کر چکے ہیں۔

وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ

فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں

قنوت سے مراد سکون کے ساتھ کی اطاعت گزاری ہے جیسے:

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ ءَانَآءَ الَّيْلِ سَـجِداً وَقَآئِماً يَحْذَرُ الاٌّخِرَةَ وَيَرْجُواْ رَحْمَةَ رَبِّهِ  (۳۹:۹)

 بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتاہو

اور فرمان ہے:

وَلَهُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَـنِتُونَ  (۳۰:۲۶)

آسمان و زمین کی ہر چیزاللہ کی فرماں بردار ہے

 اور فرماتا ہے:

يمَرْيَمُ اقْنُتِى لِرَبِّكِ وَاسْجُدِى وَارْكَعِى مَعَ الرَكِعِينَ  (۳:۴۳)

اے مریم تو اپنے رب کی اطاعت کیا کر اور سجدہ کرتی رہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتا رہ۔

اور فرماتا ہے:

وَقُومُواْ لِلَّهِ قَـنِتِينَ  (۲:۲۳۸)

اللہ کے سامنے با ادب فرماں برداری کی صورت میں کھڑے ہوا کرو۔

 پس اسلام کے اوپر کا مرتبہ ایمان ہے اور ان کے اجتماع سے انسان میں فرماں برداری اور اطاعت گزاری پیدا ہو جاتی ہے۔

 باتوں کی سچائی اللہ کو بہت ہی محبوب ہے اور یہ عادت ہر طرح محمود ہے۔ صحابہ کبار میں تو وہ بزرگ بھی تھے جنہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا، سچائی ایمان کی نشانی ہے اور جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔

 سچا نجات پاتا ہے۔ سچ ہی بولا کرو۔ سچائی نیکی کی طرف رہبری کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔

 جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور فسق وفجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔

 انسان سچ بولتے بولتے اور سچائی کا قصد کرتے کرتے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے اور جھوٹ کا قصد کرتے ہوئے اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے

 اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ

صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں،عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں،

صبر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں پر صبر ہوتا ہے اس علم پر کہ تقدیر کا لکھا ٹلتا نہیں۔ سب سے زیادہ سخت صبر صدمے کے ابتدائی وقت پر ہے اور اسی کا اجر زیادہ ہے۔ پھر تو جوں جوں زمانہ گزرتا ہے خواہ مخواہ ہی صبر آ جاتا ہے۔

 خشوع سے مراد تسکین دلجمعی تواضح فروتنی اور عاجزی ہے۔ یہ انسان میں اس وقت آتی ہے جبکہ دل میں اللہ کا خوف اور رب کو ہر وقت حاضر ناظر جانتا ہو اور اس طرح اللہ کی عبادت کرتا ہو جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ نہیں تو کم از کم اس درجے پر وہ ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ

خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں،روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنی والی عورتیں،

 صدقے سے مراد محتاج ضعیفوں کو جن کی کوئی کمائی نہ ہو نہ جن کا کوئی کمانے والا ہو انہیں اپنا فالتو مال دینا اس نیت سے کہ اللہ کی اطاعت ہو اور اس کی مخلوق کا کام بنے۔

 بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے :

سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا

 ان میں ایک وہ بھی ہے جو صدقہ دیتا ہے لیکن اسطرح پوشیدہ طور پر کہ داہنے ہاتھ کے خرچ کی بائیں ہاتھ کو خبر نہیں لگتی

 اور حدیث میں ہے :

صدقہ خطاؤں کو اسطرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے

 اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔

 روزے کی بابت حدیث میں ہے:

 یہ بدن کی زکوٰۃ ہے یعنی اسے پاک صاف کر دیتا ہے اور طبعی طور پر بھی ردی اخلاط کو مٹا دیتا ہے۔

 حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 رمضان کے روزے رکھ کر جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھ لئے وہ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ  میں داخل ہو گیا۔

روزہ شہوت کو بھی جھکا دینے والا ہے۔

 حدیث میں ہے:

 اے نوجوانو تم میں سے جسے طاقت ہو وہ تو اپنا نکاح کر لے تاکہ اس سے نگاہیں نیچی رہیں اور پاک دامنی حاصل ہو جائے اور جسے اپنے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، یہی اس کے لئے گویا خصی ہونا ہے۔

وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ

 اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں،بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں

اسی لئے روزوں کے ذکر کے بعد ہی بدکاری سے بچنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ایسے مسلمان مرد و عورت حرام سے اور گناہ کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں۔ اپنی اس خاص قوت کو جائز جگہ صرف کرتے ہیں۔

 جیسے اور آیت میں ہے:

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَـفِظُونَ ـ إِلاَّ عَلَى أَزْوَجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ـ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَآءَ ذلِكَ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (۷۰:۲۹،۳۱)

یہ لوگ اپنے بدن کو روکے رہتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے اور لونڈیوں سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں اسکے سوا جو اور کچھ طلب کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے

ذکر اللہ کی نسبت ایک حدیث میں ہے:

 جب میاں اپنی بیوی کو رات کے وقت جگا کر دو رکعت نماز دونوں پڑھ لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لئے جاتے ہیں (ابوداؤد)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے درجے والا بندہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون ہے؟

 آپ نے فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا۔

 میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ کے مجاہد سے بھی؟

 آپ نے فرمایا اگرچہ وہ کافروں پر تلوار چلائے یہاں تک کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنے والا اس سے افضل ہی رہے گا۔ (مسند احمد)

مسند ہی میں ہے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے راستے میں جا رہے تھے جمدان پر پہنچ کر فرمایا یہ جمدان ہے مفرد بن کر چلو۔

 آگے بڑھنے والوں نے پوچھا مفرد سے کیا مراد ہے؟

فرمایا اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے۔

پھر فرمایا اے اللہ حج و عمرے میں اپنا سرمنڈوانے والوں پر رحم فرما!

لوگوں نے کہا بال کتروانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے

 آپ نے فرمایا یا اللہ سرمنڈوانے والوں کو بخش ۔

 لوگوں نے پھر کتروانے الوں کے لئے درخواست کی

تو آپ نے فرمایا کتروانے والے بھی۔

 آپﷺ کا فرمان ہے :

 اللہ کے عذابوں سے نجات دینے والا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑا نہیں۔

 ایک مرتبہ آپ نے فرمایا میں تمہیں سب سے بہتر سب سے پاک اور سب سے بلند درجے کا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے حق میں سونا چاندی اللہ کی راہ میں لٹانے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو جب تم کل دشمن سے ملو گے اور ان کی گردنیں مارو گے اور وہ تمہاری گردنیں ماریں گے۔

 لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائے

فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر۔

 مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے:

 ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا مجاہد افضل ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ۔

 اس نے پھر روزے دار کی نسبت پوچھا

یہی جواب ملا

پھر نماز، زکوۃ،حج صدقہ، سب کی بابت پوچھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا یہی جواب دیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا پھر اللہ کا ذکر کرنے والے تو بہت ہی بڑھ گئے

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔

 کثرت ذکر اللہ کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اسی سورت کی آیت يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اذْكُرُواْ اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً (۳۳:۴۱) کی تفسیر میں ہم ان احادیث کو بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔

أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (۳۵)

 (ان سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع مغفرت) اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔‏

 پھر فرمایا یہ نیک صفتیں جن میں ہوں ہم نے ان کے لئے مغفرت تیار کر رکھی ہے اور اجر عظیم یعنی جنت

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ

اور (دیکھو) کسی مؤمن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کا پیغام لے کر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔

 انہوں نے کہا  میں اس سے نکاح نہیں کروں گی

 آپ ﷺنے فرمایا! ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کر لو۔

 حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ اچھا پھر کچھ مہلت دیجئے میں سوچ لوں۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔

 اسے سن کر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ یا رسول اللہ! کیا آپ اس نکاح سے رضامند ہیں؟

آپ ﷺنے فرمایا ہاں۔

 تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا

 اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت حضرت زید کے زیادہ شریف تھیں۔ حضرت زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے ۔

 حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 یہ آیت عقبہ بن ابومعیط کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نفس آپ کو ہبہ کرتی ہوں۔

 آپ ﷺنے فرمایا مجھے قبول ہے۔

 پھر حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی علیحدگی کے بعد ہوا ہو گا۔ اس سے حضرت ام کلثوم ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری

بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کر دیا گیا اور فرما دیا گیا کہ النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (۳۳:۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤمنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں۔ پس آیت وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ  خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔

 مسند احمد میں ہے:

 ایک انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کرلوں ۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا ،ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کورد کردیا اور اب جلیبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح کر دیں۔

 انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کورد کرتے ہو؟جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرناچاہیے۔

 اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔

چنانچہ انصاری سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا آپ اس بات سے خوش ہیں؟

 آپ ﷺنے فرمایا! ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں۔

کہا پھر آپ کو اختیار ہے آپ نکاح کر دیجئے، چنانچہ نکاح ہو گیا۔

 ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لئے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا۔

ایک اور روایت میں حضرت ابوبردہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لئے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کرلیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا۔

 اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت جلیبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ کو شہید کر دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چار پائی وغیرہ نہ تھی۔

یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔

 اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لئے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھاکہ انکار نہ کرو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد نہ کرو اس وقت یہ آیت وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ  نازل ہوئی تھی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت طاؤس نے پوچھا کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھ سکتے ہیں؟

 آپ نے منع فرمایا اور اسی آیت کی تلاوت کی

پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کر سکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔

جیسے فرمایا :

فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِى أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً (۴:۶۵)

قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایمان دار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا۔

 صحیح حدیث میں ہے

 اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہو گا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں۔

وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا (۳۶)

یاد رکھو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔‏

 اسی لئے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے۔ جیسے فرمان ہے:

فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَـلِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۲۴:۶۳)

جو لوگ ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو۔

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ

 (یاد کرو) جبکہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا کہ جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر

وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ ۖ

 تو نے اپنے دل میں وہ جو چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا،

حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ کو ہر طرح سمجھایا ۔ ان پر اللہ کا انعام تھا کہ اسلام اور متابعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق دی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان حب الرسول کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہؓ کو بھی حب بن حب کہتے تھے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے:

 جس لشکر میں انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے اس لشکر کا سردارانہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بن جاتے (احمد )

بزار میں ہے:

 حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما آئے اور مجھ سے کہا جاؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔

 میں نے آپﷺ کو خبر کی

 آپﷺ نے فرمایا جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں ؟

 میں نے کہا نہیں !

آپ ﷺنے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ

یہ آئے اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بتائیے آپ کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟

 آپﷺ نے فرمایا میری بیٹی فاطمہ ؓ۔

 انہوں نے کہا ہم حضرت فاطمہؓ کے بارے میں نہیں پوچھتے ۔

 آپ ﷺنے فرمایا پھر اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی ۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت جحش اسدیہؓ سے کرادیا تھا۔

 دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک دوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں ۔

 ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔

 حضرت زید نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر شکایت شروع کی تو آپ ﷺانہیں سمجھانے لگے کہ گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو۔

 ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں ۔

مسند احمد میں بھی ایک روایت حضرت انس سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لئے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 یہ آیت حضرت زینب بنت جحشؓ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہے ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے:

 اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں آئیں گی ۔ یہی بات تھی جسے آپ نے ظاہر نہ فرمایا اور حضرت زیدؓ کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں ۔

 حضرت عائشہ فرماتی ہیں:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے ۔

فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا

پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا

وَطَرًا کے معنی حاجت کے ہیں ۔

مطلب یہ ہے کہ جب زیدؓ ان سے سیر ہوگئے اور باوجود سمجھانے بجھانے کے بھی میل ملاپ قائم نہ رہ سکا بلکہ طلاق ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب ؓکو اپنے نبی ﷺکے نکاح میں دے دیا۔ اس لئے ولی کے ایجاب و قبول سے مہر اور گواہوں کی ضرورت نہ رہی۔

 مسند احمد میں ہے:

 حضرت زینب کی عدت پوری ہو چکی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ؓسے کہا کہ تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ۔

 حضرت زیدؓ گئے اس وقت آپ آٹاگوندھ رہی تھیں ۔ حضرت زیدؓ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کر سکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔

 حضرت زینب نے فرمایا ٹھہرو!میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرلوں ۔

یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے ان کا نکاح تجھ سے کر دیا۔ چنانچہ اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے اطلاع چلے آئے پھر ولیمے کی دعوت میں آپﷺ نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ آپ باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے ۔ آپ انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں ؟

مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے ۔

 اس کے بعد آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ہمراہ تھا میں نے آپ کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ کے درمیان حجاب ہو گیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ نبی کے گھروں میں بے اجازت نہ جاؤ۔ (مسلم)

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ازواج مطہرات سے فخر اً کہا کرتی تھیں کہ تم سب کے نکاح تمہارے ولی وارثوں نے کئے اور میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر کرا دیا۔

سورۃ نور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں کہ حضرت زینب نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر حضرت عائشہ نے فرمایا میری برأت کی آیتیں آسمان سے اتریں جس کا حضرت زینب نے اقرار کیا۔

 ابن جریر میں ہے :

حضرت زینب نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا مجھ میں اللہ تعالیٰ نے تین خصوصیتیں رکھی ہیں جو آپ کی اور بیویوں میں نہیں

-        ایک تو یہ کہ میرا اور آپ کا دادا ایک ہے ۔

-         دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مجھے آپ کے نکاح میں دیا۔

-         تیسرے یہ کہ ہمارے درمیان سفیر حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔

لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ

تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک بیویوں کے بارے میں کسی طرح تنگی نہ رہے جب کہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کرلیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لئے جائز کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے ۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کر سکیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے حضرت زیدؓ کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا ۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کر دی اور حکم دیا کہ انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو پھر حضرت زید ؓنے جب حضرت زینب کو طلاق دے دی تو اللہ پاک نے انہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے کر یہ بات بھی ہٹادی۔

وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا (۳۷)

اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے والا ہے

جس آیت میں حرام عورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں بھی یہی فرمایا کہ تمہارے اپنے صلبی لڑکوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں ۔ تاکہ لے پالک لڑکوں کی لڑکیاں اس حکم سے خارج رہیں ۔ کیونکہ ایسے لڑکے عرب میں بہت تھے۔ یہ امر اللہ کے نزدیک مقرر ہو چکا تھا۔ اس کا ہونا حتمی ، یقینی اور ضروری تھا۔ اور حضرت زینب کو یہ شرف ملنا پہلے ہی سے لکھا جا چکا تھا کہ وہ ازواج مطہرات امہات المؤمنین میں داخل ہوں رضی اللہ عنہا۔

مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ۖ

جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں

فرماتا ہے کہ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متنبی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔

سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ

 (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہے جو پہلے ہوئے

وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا (۳۸)

اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں۔‏

 اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں ، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔

الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ ۗ

یہ سب ایسے تھے کے اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے

وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا (۳۹)

اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔

ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے ۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر ایک امر میں سب کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی ۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔

 قرآن میں فرمان الہٰی  ہے:

قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا  (۷:۱۵۸)

لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔

پھر آپ کے بعد منصب تبلیغ آپ کی اُمت کو ملا ۔ ان میں سب کے سردار آپ کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم ۔ جو کچھ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا ۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے ، سفر و حضر کے ، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے ۔ اللہ ان پر اپنی رضامندی نازل فرمائے ۔

پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتدا سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے ۔

 اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔

 مسند احمد میں ہے:

 تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے ۔

 لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے!

فرمایا خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے ۔ قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی کہ تو کیوں خاموش رہا؟

یہ کہے گا کہ لوگوں کے ڈر سے ۔

 اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی ،

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ

 (لوگو) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں

پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ کہا جائے ۔

 لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے ۔

 تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زید کے والد نہیں ۔

یہی ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں ۔ قاسم ، طیب اور طاہر تین بچے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے، حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک بچہ ہوا جس کا نام حضرت ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے ۔

آپ کی لڑکیاں حضرت خدیجہؓ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین

ان میں سے تین تو آپ کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ کے چھ ماہ بعد ہوا۔

وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (۴۰)

لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو (خوب) جانتا ہےـ

 پھر فرماتا ہے بلکہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں

جیسے فرمایا:

اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ  (۶:۱۲۴)

اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے ۔

یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔

 اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں ؟

 کوئی نبی ، رسول آپ کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے ۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ۔

متواتر احادیث سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے ۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں ۔

 مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورامکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کر لی جاتی ۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں ۔

 امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے ۔

 مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ۔

 صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ بات گراں گزری تو آپ نے فرمایا لیکن خوش خبریاں دینے والے ۔

صحابہ نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں ۔

فرمایا مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہیں ۔

یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں

 محل کی مثال والی حدیث ابو داؤد طیالسی میں بھی ہے ۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیا علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے ۔

 اسے بخاری مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں ۔

 مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کر دی ۔

مسند میں ہے:

 میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے ۔

 پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہیں ؟

 فرمایا اچھے خواب یا فرمایا نیک خواب ۔

 عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی ؟ پس میں وہ اینٹ ہوں ۔

صحیح مسلم شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں ،

-        مجھے جامع کلمات عطافرمائے گئے ہیں ۔

-        صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے ۔

-        میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ۔

-         میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی ،

-        میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔

-         اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا گیا ۔

یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں ۔

صحیح مسلم میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کر دی ۔

مسند میں ہے میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے:

 میرے کئی نام ہیں ،

-         میں محمد ہوں

-         اور میں احمد ہوں

-         اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹادے گا

-         اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہو گا

-         اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں

حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا :

-        میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

-         میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں ۔

-        میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں ۔

-        میرا اپنی اُمت سے تعارف کرایا گیا ہے ۔

-        جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ ۔ جب میں رخصت ہوجاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو (مسندامام احمد)

اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں ۔

 اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے رحم وکرم سے ایسے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان ، سچا اور سہل دین آپ کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔

رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ پس جو شخص بھی آپ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے ۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کردینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بیرنگیاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دکھوکہ اور مکاری ہے ۔

 یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہو گئی ۔ یہی حال ہوگا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی ۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مؤمن اس کا کذاب ہونا جان لے گا

پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں ۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں ۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے ۔

 جیسے فرمان باری ہے:

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ  (۲۶:۲۲۱،۲۲۲)

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں ؟ ہر ایک بہتان بازگنہگار کے پاس۔

سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے ، استقاُمت والے ، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے ۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے ۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے

 اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (۴۱)

مسلمانوں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کیا کرو۔‏

بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے ۔

 ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں؟

 لوگوں نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے ؟

 فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ)

یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے ۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔

دعا یہ ہے

اللہم اجعلنی اعظم شکرک واتبع نصیحتک واکثر ذکرک واحفظ وصیتک

اے اللہ تو مجھے اپنا بہت بڑا شکر گزار، فرماں بردار، بکثرت ذکر کرنے والا اور تیرے احکام کی حفاظت کرنے والا بنا دے

دو اعرابی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ایک نے پوچھا سب سے اچھا شخص کون ہے ؟

 آپﷺ نے فرمایا جو لمبی عمر پائے ، اور نیک اعمال کرے۔

 دوسرے نے پوچھاحضور صلی اللہ علیہ وسلم احکام اسلام تو بہت سارے ہیں مجھے کوئی چوٹی کا حکم بتا دیجئے کہ اس میں چمٹ جاؤں

 آپﷺ نے فرمایا ذکر اللہ میں ہر وقت اپنی زبان کو تر رکھ (ترمذی )

فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ کا ذکر میں ہر وقت مشغول رہو یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں (مسند احمد)

فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو یہاں تک کہ منافق تمہیں ریا کار کہنے لگیں ۔ (طبرانی )

فرماتے ہیں:

 جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت افسوس کا باعث بنے گی۔ (مسند)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:

 ہر فرض کام کی کوئی حد ہے ۔ پھر عذر کی حالت میں وہ معاف بھی ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد نہیں نہ وہ کسی وقت ٹلتا ہے ۔ ہاں کوئی دیوانہ ہو تو اور بات ہے ۔

فَاذْكُرُواْ اللَّهَ قِيَـماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِكُمْ  (۴:۱۰۳)

اللہ تعالیٰ کا ذکر کروکھڑے بیٹھے لیٹے رات کو دن کو

خشکی میں تری میں سفر میں حضر میں غنا میں فقر میں صحت میں بیماری پوشیدگی میں ظاہر میں غرض ہر حال میں ذکر اللہ کرنا چاہیے ۔ صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔ تم جب یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لئے ہر وقت دعاگو رہیں گے ۔

 اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث و آثار ہیں ۔

 اس آیت میں بھی بکثرت ذکر اللہ کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے ۔ بزرگوں نے ذکر اللہ اور وظائف کی بہت سی مستقل کتابیں لکھی ہیں ۔ جیسے امام نسائی امام معمری وغیرہ ۔ ان سب میں بہترین کتاب اس موضوع پر حضرت امام نووی رحمتہ اللہ علیہ کی ہے ،

وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (۴۲)

اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔‏

صبح شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو ۔

جیسے فرمایا:

فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ـ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَعَشِيّاً وَحِينَ تُظْهِرُونَ (۳۰:۱۷،۱۸)

اللہ کے لئے پاکی ہے ۔ جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور بعد از زوال اور ظہر کے وقت ،

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ

وہی ہے جو تم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں)

پھر اس کی فضیلت بیان کرنے اور اس کی طرف رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے وہ خود تم پر رحمت بھیج رہا ہے ۔ یعنی جب وہ تمہاری یاد رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ تم اس کے ذکر سے غفلت کرو؟

جیسے فرمایا:

كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنْكُمْ يَتْلُواْ عَلَيْكُمْ آيَـتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ ـ

 فَاذْكُرُونِى أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِ (۲:۱۵۱،۱۵۲)

جس طرح ہم نے تم میں خود تمہی میں سے رسول بھیجا جو تم پر ہماری کتاب پڑھتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جسے تم جانتے ہی نہ تھے۔

پس تم میرا ذکر کرو میں تمہاری یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

حدیث قدسی میں ہے:

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں ۔ اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے ۔

صلوٰۃ جب اللہ کی طرف مضاف ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی اپنے فرشتوں کے سامنے بیان کرتا ہے ۔

 اور قول میں ہے مراد اس کی رحمت ہے ۔ اور دونوں قولوں کا انجام ایک ہی ہے ۔

فرشتوں کی صلوٰۃ ان کی دعا اور استغفار ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے:

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ

رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَاتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ

 إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيّئَـتِ (۴۰:۷،۹)

عرش کے اٹھانے والے اور اس کے پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح و حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں

 اور اس پر ایمان رکھتے ہیںاور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں،

کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہرچیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے،

 پس انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔

 اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے

 اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اولاد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں

یقیناً تو غالب و باحکمت ہے۔‏انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ

 

        لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ

تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے

وہ اللہ اپنی رحمت کو تم پر نازل فرما کر اپنے فرشتوں کی دعا کو تمہارے حق میں قبول فرما کر تمہیں جہالت وو ضلالت کی اندھیریوں سے نکال کر ھدایت و یقین کے نور کی طرف لے جاتا ہے ۔

وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (۴۳)

اور اللہ تعالیٰ م