Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

Surah Al Yunus

Alama Imad ud Din Ibn Kathir

Translated by Muhammad Sahib Juna Garhi

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے


الر ۚ

الر ،

حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیںان پر کلام پہلے گزر چکا ہے ان کی پوری اور سورہ بقرہ میں ان پر سیر حاصل تبصرہ ہو چکا ہے۔

ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ الر سے ان اللہ اری مراد ہے یعنی میں اللہ ہوں اور سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔

ضحاک ؓ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔

تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ (۱)

یہ پُر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں

یہ قرآن محکم و مبین کی آیتیں ہیں۔

مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حسنؒ کہتے ہیں کہ کتاب سے مراد تورات و زبور ہیں

قتادہ کا قول ہےکہ کتاب سے مراد وہ سب الہامی کتابیں ہیں جو قرآن سے قبل تھیں۔ لیکن یہ خیال لایعنی سا ہے۔

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ

کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی

کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے۔

کہتے تھے :

أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا (۶۴:۶)

کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا؟

حضرت ہود اور حضرت صالح نے اپنی قوم سے فرمایا تھا :

أَوَ عَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِّنْكُمْ (۷:۶۳)

کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی۔

کفار قریش نے بھی کہا تھا :

أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ (۳۸:۵)

کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کر دیا؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔

ابن عباس سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عربوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ اللہ کی شان تو اس سے بڑی ہے کہ محمد (ﷺ) جیسے شخص کو رسول بنا کر بھیجے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کر دیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔

أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ

کہ سب آدمیوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنائیے کہ ان کے رب کے پاس ان کو پورا اجر و مرتبہ ملے گا،

یہ بالکل اللہ کے اس قول کے مشابہ ہے:

لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا (۱۸:۲)

تاکہ سخت سزا سے ہوشیار کر دے

أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ کے بارے میں اختلاف ہے۔

ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سے مراد یہ ہے کہ پہلے ہی بیان پر تصدیق کرنا اور سعادت حاصل کر لینا ہے اور اپنے اعمال کا اجر حسن پانا ہے

قَدَمَ صِدْقٍ کے بارے میں مجاہدؒ کہتے ہیں کہ اعمال صالح مراد ہیں جیسے صلوۃ صدقہ تسبیح اور شفاعت پیغمبر ﷺ۔

قتادہؒ سلف صدق مراد لیتے ہیں ابن جریرؒ نے مجاہد کی ہم خیالی کرتے ہوئے اعمال صالح مراد لی ہے

قَدَمَ صِدْقٍ سے مراد سعادت اور نیکی کا ذکر ہے۔ بھلائیوں کا اجر ہے۔ ان کے نیک کام ہیں۔ مثلاً نماز روزہ صدقہ تسبیح۔ اور ان کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت الغرض ان کی سچائی کا ثبوت اللہ کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے نیک اعمال وہاں جمع ہیں۔ یہ سابق لوگ ہیں۔

عرب کے شعروں میں بھی قَدَمَ کا لفظ ان معنوں میں بولا گیا ہے۔

قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ (۲)

کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے ۔

اللہ فرماتا ہے کہ اس کے باوجود کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کو جو رسول ان میں ہے وہ بشیر بھی ہے ، نذیر بھی ہے ، لیکن کافروں نے اسے جادوگر کہہ کر اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی۔

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ۖ

بلا شبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کر دیا پھر عرش قائم ہوا

تمام عالم کا رب وہی ہے۔ آسمان و زمین کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے ۔

یا تو ایسے ہی معمولی دن یا ہر دن یہاں کی گنتی سے ایک ہزار دن کے برابر کا۔

پھر عرش پر وہ مستوی ہو گیا۔

جو سب سے بڑی مخلوق ہے اور ساری مخلوق کی چھت ہے۔ جو سرخ یاقوت کا ہے۔ جو نور سے پیدا شدہ ہے۔

یہ قول غریب ہے۔

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۖ

وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے

وہی تمام مخلوق کا انتظام کرتا ہے اس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔

لاَ يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَلاَ فِى الاٌّرْضِ (۳۴:۳)

اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں

اسے کوئی کام مشغول نہیں کر لیتا۔ وہ سوالات سے اکتا نہیں سکتا۔ مانگنے والوں کی پکار اسے حیران نہیں کر سکتی۔ ہر چھوٹے بڑے کا، ہر کھلے چھپے کا، ہر ظاہر باہر کا، پہاڑوں میں سمندروں میں، آبادیوں میں، ویرانوں میں وہی بندوبست کر رہا ہے۔ہر جاندار کا روزی رساں وہی ہے۔

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا (۱۱:۶)

زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر

ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے، زمین کے اندھیروں کے دانوں کی اس کو خبر ہے، ہر تر و خشک چیز کھلی کتاب میں موجود ہے۔

وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ (۶:۵۹)

اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں

کہتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت لشکر کا لشکر مثل عربوں کے جاتا دیکھا گیا۔

ان سے پوچھا گیا کہ تم کون ہو؟

انہوں نے کہا ہم جنات ہیں۔ ہمیں مدینے سے ان آیتوں نے نکالا ہے۔

مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ۚ

اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے والا نہیں

کوئی نہیں جو اس کی اجازت بغیر سفارش کر سکے۔

مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ (۲:۲۵۵)

کون جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے،

آسمان کے فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر زبان نہیں کھولتے۔

وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى (۵۳:۲۶)

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لئے چاہے اجازت دے دے۔

اسی کو شفاعت نفع دیتی ہے جس کے لیے اجازت ہو۔

وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ (۳۴:۲۳)

شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہو جائے

ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (۳)

ایسا اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔‏

یہی اللہ تم سب مخلوق کا پالنہار ہے۔ تم اسی کی عبادت میں لگے رہو۔ اسے واحد اور لاشریک مانو۔ مشرکو! اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے؟ جو اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہو حالانکہ جانتے ہو کہ خالق مالک وہی اکیلا ہے۔ اس کے وہ خود قائل تھے۔ زمین آسمان اور عرش عظیم کا رب اسی کو مانتے تھے۔

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ (۴۳:۸۷)

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً جواب دیں گے اللہ نے،

قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَـوَتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ـ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلاَ تَتَّقُونَ (۲۳:۸۶)

دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت با عظمت عرش کا رب کون ہے؟‏ وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے ۔

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ

تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعدہ کر رکھا ہے،

قیامت کے دن ایک بھی نہ بچے گا سب اپنے اللہ کے پاس حاضر کئے جائیں گے اس کے وعدے اٹل ہیں۔

إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۚ

بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انصاف کے ساتھ جزا دے

جیسے اس نے شروع میں پیدا کیا تھا۔ ایسے ہی دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہوگا۔

وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ (۳۰:۲۷)

وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔

عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (۴)

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے ۔

کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی۔ گرم پانی، گرمی، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے۔

هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ـ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ (۳۸:۵۷،۵۸)

یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیپ اس کے علاوہ اور طرح طرح کے عذاب۔‏

وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے۔

هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ـ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ (۵۵:۴۳،۴۴)

یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔‏ اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے

هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا

وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا

اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے ۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے،

وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ

اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لیا کرو

ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَـهُ مَنَازِلَ حَتَّى ۔۔۔ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۳۶:۳۹،۴۰)

اور چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں ۔‏

دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے۔

وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً (۶:۹۶)

اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے

مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (۵)

اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بےفائدہ نہیں پیدا کیں۔ وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔‏

یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ بحکمت ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں باطل پیدا شدہ نہیں۔ یہ خیال تو کافروں کا ہے۔ جن کا ٹھکانا دوزخ ہے۔

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ (۳۸:۲۷)

اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی۔‏

تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کر دیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو۔ یاد رکھو میں اللہ ہوں، میں مالک ہوں، میں حق ہوں، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں۔ عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰٰ مخلوق ہے۔

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ ـ فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ (۲۳:۱۱۵،۱۱۶)

کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔‏

اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے

حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں۔

إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ

بلا شبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں

رات دن کے رد و بدل میں، ان کے برابر جانے آنے میں رات پر دن کا آنا، دن پر رات کا چھا جانا، ایک دوسرے کے پیچھے برابر لگا تار آنا جانا اور زمین و آسمان کا پیدا ہونا اور ان کی مخلوق کا رچایا جانا یہ سب عظمت رب کی بولتی ہوئی نشانیاں ہیں۔

يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا (۷:۵۴)

وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے

لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ (۳۶:۴۰)

نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے

فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً (۶:۹۶)

وہ صبح کا نکالنے والا اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے

وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (۶)

اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے دلائل ہیں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔‏

ان سے منہ پھیر لینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہوگا؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو۔

وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ (۱۲:۱۰۵)

آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔

قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ (۱۰:۱۰۱)

آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں۔‏

أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ (۳۴:۹)

کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟

إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ (۳:۱۹۰)

آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔

عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کر سکیں۔

إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (۷)

جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے اور وہ دنیاوی زندگی پر راضی ہوگئے اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔‏

جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں۔ جو اس دنیا پر خوش ہوگئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے،

أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (۸)

ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے۔‏

ان کی آخری جگہ جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيمَانِهِمْ ۖ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (۹)

یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا رب ان کو ان کے ایمان کے سبب ان کے مقصد تک پہنچا دے گا نعمت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی۔‏

نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہو جائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا۔ جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ آیت بِإِيمَانِهِمْ کا ب سببیت کی ہو۔ اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔

ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟

وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔

پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے

اور کافروں کا عمل نہایت بد صورت، بد بو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔

دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ

ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی ' سبحان اللہ ' اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا ' السلام علیکم '

یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کرکے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہو جائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔

ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہوگا۔

تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَـمٌ (۳۳:۴۴)

جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا

لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً (۵۶:۲۵،۲۶)

نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات،‏ صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی

وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی۔ درو دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔

رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔

سَلاَمٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ (۳۶:۵۸)

مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا ۔‏

فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آکر سلام کریں گے۔

وَالمَلَـئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّن كُلِّ بَابٍسَلَـمٌ عَلَيْكُمُ (۱۳:۲۳،۲۴)

ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے۔‏ کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو،

وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۱۰)

اور ان کی اخیر بات یہ ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔‏

آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔

وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں ، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔

اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں

جیسے یہ آیات:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ (۱۸:۱)

تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا

الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْض (۶:۱)

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا

وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد و ثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

اہل جنت کی تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لا محالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔

وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ

اور اگر اللہ لوگوں پر جلدی سے نقصان واقع کر دیا کرتا جس طرح وہ فائدہ کے لئے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعدہ کبھی سے پورا ہو چکا ہوتا

فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (۱۱)

سو ہم نے ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔‏

فرمان ہے کہ میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آکر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کر بیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرمالیا کرتا ہوں ۔ ورنہ یہ تباہ ہو جاتے ۔

پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

چنانچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہو جائے۔

اسی مضمون کا بیان اس آیت میں ہے:

وَيَدْعُ الإِنْسَـنُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهُ بِالْخَيْرِ (۱۷:۱۱)

اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح

غرض یہ ہے کہ انسان کا کسی وقت اپنی اولاد مال وغیرہ کے لیے بد دعا کرنا کہ اللہ اسے غارت کرے وغیرہ۔ ایک نیک دعاؤں کی طرح قبولیت میں ہی آجا کرے تو لوگ برباد ہو جائیں۔

وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی۔

اسی آیت جیسی یہ آیت ہے :

وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ (۴۱:۵۱)

اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا بن جاتا ہے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَسَّهُ ۚ

پھر جب ہم اسکی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لئے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا

ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہو نے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہو گیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔

كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۲)

ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لئے اس طرح خوش نما بنا دیا گیا ہے ۔‏

ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور وہ انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔

إِلاَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ (۱۱:۱۱)

سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے:

مؤمن کی حالت پر تعجب ہے۔ اس کے لیے ہر الہٰی فیصلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ اسے تکلیف پہنچی اس نے صبر و استقامت اختیار کی اور اسے نیکیاں ملیں۔ اسے راحت پہنچی، اس نے شکر کیا، اس پر بھی نیکیاں ملیں، یہ بات مؤمن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا ۙ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ۚ

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کر دیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دلائل لے کر آئے، اور ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے،

كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ(۱۳)

ہم مجرموں لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل آچکے ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

دنیا میٹھی ، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ دنیا سے ہوشیار رہو۔ اور عورتوں سے ہوشیار رہو۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا۔ (مسلم)

حضرت عوف بن مالک نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اسے مکمل تھام لیا، پھر لٹکائی گئی تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر منبر کے ارد گرد لوگوں نے ناپنا شروع کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تین ذراع بڑھ گئے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خواب سن کر فرمایا بس ہٹاؤ بھی۔ ہمیں خوابوں کیا حاجت؟

پھر اپنی خلافت کے زمانے میں عمر فاروق نے کہا عوف تمہارا خواب کیا تھا؟

حضرت عوف نے کہا جانے دیجئے۔ جب آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ نے جب مجھے ڈانٹ دیا پھر اب کیوں پوچھتے ہیں؟

آپ نے فرمایا اس وقت تو تم خلیفۃالرسول کو ان کی موت کی خبر دے رہے تھے۔

اب بیان کروانہوں نے بیان کیا۔

تو آپ نے فرمایا لوگوں کا منبر کی طرف تین ذراع پانا یہ تھا کہ ایک تو خلیفہ برحق تھا۔ دوسرے خلیفہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل بےپرواہ تھا۔ تیسرا خلیفہ شہید ہے۔

ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (۱۴)

پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو۔‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا کہ ہم تمہارے اعمال دیکھیں۔

اے عمر کی ماں کے لڑکے تو خلیفہ بنا ہوا ہے۔ خوب دیکھ بھال لے کہ کیا کیا عمل کر رہا ہے؟

آپ کا فرمان کہ "میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا" سے مراد ان چیزوں میں ہے جو اللہ چاہے۔

شہید ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اس وقت مسلمان آپ کے مطیع و فرمانبردار تھے۔

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں

تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے

مکے کے کفار کا بغض دیکھئے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔

قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ

آپ ﷺ یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کر دوں

تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں

إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (۱۵)

بس میں تو اس کی پیروی کرونگا جو میرے پاس وحی کے ذریعے پہنچا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں ۔

میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔

قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُمْ بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (۱۶)

آپ یوں کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ میں تم کو وہ پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کی اطلاع فرماتا،

کیونکہ میں اس سے پہلے تو ایک بڑے حصہ عمر تک تم میں رہ چکا ہوں۔ پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک بےپڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معارضہ اور مقابلہ نہیں کر سکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟۔

شاہ روم ہرقل نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟

تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہو نے کے کہنا پڑا کہ نہیں،

یہ ہے آپ کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بےساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔

حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ہم میں اللہ نے جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔

سعید بن مسیب سے تینتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ (۱۷)

سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلائے، یقیناً ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہوگی۔‏

اس سے زیادہ ظالم، اس سے زیادہ مجرم ، اسے زیادہ سرکش اور کون ہوگا؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو۔ رسالت کا دعویٰ کر دے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی اس سے غافل رہیں؟

یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کر دیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے ایک طرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو رکھئے تو اتنا ہی فرق معلوم ہوگا۔ جتنا آدھی رات اور دوپہر کے وقت میں دونوں کے اخلاق عادات ، حالات کا معائنہ کرنے والا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اس کی غلط گوئی میں کوئی شک نہیں کر سکتا۔

اسی طرح سجاح اور اسود عنسی کا دعوی ٰہے کہ نظر ڈالنے کے بعد کسی کو ان کے جھوٹ میں شک نہیں رہتا۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے لوگ آپ کے دیکھنے کے لیے گئے۔ میں بھی گیا آپ کے چہرے پر نظریں پڑتے ہی میں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں۔ پاس گیا تو سب سے پہلے آپ کی زبان مبارک سے یہ کلام سنا کہ لوگو سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاتے رہا کرو۔ صلہ رحمی قائم رکھو۔ راتوں کو لوگوں کی نیند کے وقت تہجد کی نماز پڑھا کرو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے۔

اسی طرح جب سعد بن بکر کے قبیلے کے وفد میں ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پوچھا کہ اس آسمان کا بلند کرنے والا کون ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ ہے۔

اس نے پوچھا ان پہاڑوں کا زمین میں گاڑنے والا کون ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا اللہ

اس نے پوچھا اس زمین کا پھیلانے والا کون ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا اللہ ۔

تو اس نے کہا میں آپ کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ جس نے ان آسمانوں کو بلند کیا۔ ان پہاڑوں کو گاڑ دیا اس زمین کو پھیلا دیا کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا ہاں اسی اللہ کی قسم ہاں۔

اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کی بابت بھی اس نے ایسی ہی تاکیدی قسم دلا کر سوال کیا اور آپﷺ نے بھی قسم کھا کر جواب دیا۔

تب اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ نہ میں اس پر بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا۔ پس اس شخص نے صرف اسی پر قناعت کر لی۔ اور جو دلائل آپ کی صداقت کے اس کے سامنے تھے ان پر اسے اعتبار آگیا۔

حضرت حسان نے آپ کی تعریف میں کتنا اچھا شعر کہا ہے

لو لم تکن فیہ ایات مبینتہ کانت بدیھتہ تاتیک بالخیر

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اگر اور ظاہر اور کھلی نشانیاں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی ایک بات کافی تھی کہ چہرہ دیکھتے ہی بھلائی اور خوبی تیری طرف لپکتی ہے۔

برخلاف آپ کے کذاب مسیلمہ کے جس نے اسے بیک نگاہ دیکھ لیا اس کا جھوٹ اس پر کھل گیا۔ خصوصاً جس نے اس کے فضول اقوال اور بدترین افعال دیکھ لئے۔ اسے اس کے جھوٹ میں ذرا سا شائبہ بھی نہ رہا۔ جسے وہ اللہ کا کلام کہہ رہا تھا اس کلام کی بدمزگی، اس کی بےکاری، تو اتنی ظاہر ہے کہ کلام کے سامنے پیش کئے جانے کے بھی قابل نہیں۔ لو اب تم ہی انصاف کرو۔

آیت الکرسی کے مقابلے میں اس ملعون نے یہ آیت بنائی تھی۔ یاضفدع بنت ضفد عین نقی کم تنقین لا للماء تکدرین ولا الشاور ب تمنعین یعنی اے مینڈکوں کے بچے میں مینڈک تو ٹراتا رہ۔ نہ تو پانی خراب کر سکے نہ پینے والوں کو روک سکے۔

اس طرح اس کے ناپاک کلام کے نمونے میں اس کی بنائی ایک اور آیت ہے کہ لقد انعم اللہ علی الجبلی اذا خرج منھا نسمۃ تسعی من بین صفاق وحشی اللہ نے حاملہ پر بڑی مہربانی فرمائی کہ اس کے پیٹ سے چلتی پھرتی جان برآمد کی، جھلی اور آنتوں کے درمیان سے۔

سورۃ الفیل کے مقابلے میں وہ پاجی کہتا ہے الفیل وما ادراک ما الفیل لہ خرطوم طویل یعنی ہاتھی اور کیا جانے تو کیا ہے ہاتھی؟ اس کی بڑی لمبی سونڈھ ہوتی ہے۔

والنازعات کا معارضہ کرتے ہوئے یہ کمینہ کہتا ہے والعاجنات عجنا والخابزات خبزا والاقمات لقما اھالتہ و سمعان ان قریشا قوم یعتدون یعنی آٹا گوندھنے والا اور روٹی پکانے والیاں، اور لقمے بنانے والیاں، سالن اور گھی سے۔

قریش لوگ بہت آگے نکل گئے۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے یا نہیں؟ شریف انسان تو سوائے مذاق کے ایسی بات منہ سے بھی نہیں نکال سکتا

پھر اس کا انجام دیکھئے لڑائی میں مارا گیا۔ اس کا گروہ مٹ گیا۔ اس کے ساتھیوں پر لعنت برسی۔ حضرت صدیق اکبر کے پاس خائب و خاسر ہو کر منہ پر مٹی مل کر پیش ہوئے اور رو دھو کر توبہ کر کے جوں جوں کر کے جان بچائی۔ پھر تو اللہ کے سچے دین کی چاشنی سے ہونٹ چوسنے لگے۔

ایک روز ان سے خلیفۃ المسلمین امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسیلمہ کا قرآن تو سناؤ تو بہت سٹ پٹائے بیحد شرمائے اور کہنے لگے حضرت ہمیں اس ناپاک کلام کے زبان سے نکالنے پر مجبور نہ کیجئے ہمیں تو اس سے شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں تو ضرور سناؤ تاکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو بھی اس کی رکاکت اور بےہودگی معلوم ہو جائے۔ آخر مجبور ہو کر انہوں نہایت ہی شرماتے ہوئے کچھ پڑھا جس کا نمونہ اوپر گزرا کہ کہیں میں مینڈک کا ذکر کہیں ہاتھی کا کہیں روٹی کا کہیں حمل کا۔ اور وہ سارے ہی ذکر بےسود بےمزہ اور بےکار۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آخر میں فرمایا یہ تو بتاؤ تمہاری عقلیں کہاں ماری گئیں تھیں؟ واللہ اسے تو کوئی بیوقوف بھی ایک لمحہ کے لیے کلام اللہ نہیں کہہ سکتا۔

مذکور ہے:

عمرو بن العاص اپنے کفر کے زمانے میں مسیلمہ کے پاس پہنچا۔ یہ دونوں بچپن کے دوست تھے اس سے پوچھا کہو عمرو تمہارے ہاں کے نبی پر آج کل جو وحی اتری ہو اس میں سے کچھ سنا سکتے ہو؟

اس نے کہا ہاں ان کے اصحاب ایک مختصر سورت پڑھتے تھے جو میری زبان پر بھی چڑھ گئی لیکن بھائی اپنی مضمون کے لحاظ سے وہ سورت بہت بڑی اور بہت ہی اعلیٰ ہے اور لفظوں کے اعتبار سے بہت ہی مختصر اور بڑی جامع ہے۔ پھر اس نے سورہ والعصر پڑھ سنائی۔

مسیلمہ چپکا ہو گیا بہت دیر کے بعد کہنے لگا مجھ پر اسی جیسی سورت اتری ہے۔

اس نے کہا ہاں تو بھی سنا دے تو اس نے پڑھا یا وبر یا وبر انما انت اذنان و صدر و سائرک حقر لغر یعنی اے وبر جانور تیرے تو بس دو کان ہیں اور سینہ ہے، اور باقی جسم تو تیرا بالکل حقیر اور عیب دار ہے۔

یہ سنا کر عمرو سے پوچھتا ہے کہو دوست کیسی کہی؟

اس نے کہا دوست اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی اور کیسی کہی؟

پس جب کہ ایک مشرک پر بھی سچے جھوٹے کی تمیز مشکل نہ ہوئی تو ایک صاحب عقل تمیز دار اور بایمان پر کیسے یہ بات چھپ سکتی ہے؟

اس کا بیان اس آیت میں ہے :

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ ۔۔۔ قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنَزلَ اللَّهُ (۶:۹۳)

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی

اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی لاتا ہوں

مندرجہ بالا آیت میں بھی یہی فرمان ہے۔

پس وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ، وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ حجت ظاہر ہو جانے پر بھی نہ مانے۔

حدیث میں ہے:

سب سے بڑا سرکش اور بدنصیب وہ ہے جو کسی نبی کو قتل کرے یا نبی اسے قتل کرے۔

وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ ۚ

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں

مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔

قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ

آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں

تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔

سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (۱۸)

وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے ۔

اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے۔

وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ۚ

اور تمام لوگ ایک ہی اُمت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیدا کر لیا

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ شرک لوگوں میں پیدا ہو گیا۔ اس کا وجود نہیں تھا پھر ہو گیا۔ سب لوگ دین واحد پر تھے اور وہ ابتدا ہی سے اسلام تھا۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرن گزرے یہ لوگ آدمؑ کے سچے دین پر تھے۔پھرلوگوں میں اختلاف رونما ہوا اوراصنام اور اوثان کی لوگ عبادت کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نےاپنے رسول دلائل و براہین کے ساتھ بھیجے۔ جس نے اللہ کی دلیل کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا اور جس نے دلیل کو لے لیا وہ سلامت بچ گیا۔

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَىَّ عَن بَيِّنَةٍ (۸:۴۲)

تاکہ جو ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، وہ بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زندہ رہے

وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (۱۹)

اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں انکا قطعی فیصلہ ہو چکا ہوتا

اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب نہیں دیتا جب تک پیغمبروں کو بھیج کر اس پر دلیل و حجت نہ قائم کر دے۔ اللہ تعالیٰ تو مخلوق کو ایک وقت مقرر تک زندہ رکھتا پھر مار دیتا ہے اور جس بارے میں وہ آپس میں اختلافات رکھتے تھے قیامت کے روز اس کا فیصلہ کر دے گا۔ مؤمن کامیاب رہیں گے اور کافر ناکام۔

\

وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۖ

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی؟

کہتے ہیں کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو جیسے آل ثمود کو اونٹنی ملی تھی انہیں ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں ملی؟ چاہیے تھا کہ یہ صفا پہاڑ کوسونا بنا دیتا یا مکے کے پہاڑوں کو ہٹا کر یہاں کھیتیاں باغ اور نہریں بنا دیتا۔

گو اللہ کی قدرت اس سے عاجز نہیں لیکن اس کی حکمت کا تقاضا وہی جانتا ہے۔

تَبَارَكَ الَّذِى إِن شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْراً مِّن ۔۔۔ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيراً (۲۵:۱۰،۱۱)

اللہ تعالیٰ تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جس کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے ۔

بات یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں اور قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔‏

اگلوں نے بھی ایسے معجزے طلب کئے دکھائے گئے پھر بھی جھٹلایا تو عذاب اللہ آگئے

وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ (۱۷:۵۹)

ہمیں نشانات (معجزات) کے نازل کرنے سے روک صرف اسی کی ہے کہ اگلے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا گیا تھا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دوں لیکن پھر بھی یہ کافر رہے تو غارت کر دیئے جائیں گے اور اگر چاہو تو مہلت دوں۔ آپ نے اپنے حلم و کرم سے دوسری بات ہی اختیار کی۔

فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ (۲۰)

سو آپ انہیں فرما دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔‏

یہاں حکم ہوتا ہے کہ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے تمام کاموں کا انجام وہی جانتا ہے۔ تم ایمان نہیں لاتے تو نتیجے کے منتظر رہو۔ دیکھو میرا کیا ہوتا ہے اور تمہارا کیا ہوتا ہے؟

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ ـ وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ (۱۰:۹۶،۹۷)

یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔‏ گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں

آہ ! کیسے بدنصیب تھے جو مانگتے تھے اس سے بدرجہا بڑھ کر دیکھ چکے تھے اور سب معجزوں کو جانے دو چاند کو ایک اشارے سے دو ٹکڑے کر دینا ایک ٹکڑے کا پہاڑ کے اس طرف اور دوسرے کا اس طرف چلے آنا کیا یہ معجزہ کس طرح اور کس معجزے سے کم تھا؟

لیکن چونکہ ان کا یہ سوال محض کفر کی بنا پر تھا ورنہ یہ بھی اللہ دکھا دیتا جن پر عذاب عملاًآجاتا ہے وہ چاہے دنیا بھر کے معجزے دیکھ لیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا۔

وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى ۔۔۔ إِلاَّ أَن يَشَآءَ اللَّهُ (۶:۱۱۱)

اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھی بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو لا کر جمع کر دیتے ہیں

تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے

اگر ان پر فرشتے اترتے اگر ان سے مردے باتیں کرتے اگر ہر ایک چیز ان کے سامنے کر دی جاتی پھر بھی انہیں تو ایمان نصیب نہ ہوتا

اسی کا بیان اس آیت میں ہے:

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ (۱۵:۱۴)

اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں۔‏

اور آیت میں ہے:

وَإِنْ يَرَوْا كِسْفًا مِنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَرْكُومٌ (۵۲:۴۴)

اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہہ بہ تہہ بادل ہے ۔

اور آیت میں ہے:

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـباً فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ (۶:۷)

اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ پر نازل فرماتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے

پس ایسے لوگوں کو ان کے منہ مانگے معجزے دکھانے بھی بےسود ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے تو کفر پر گرہ لگا لی ہے ۔ اس لیے فرما دیا کہ آگے چل کر دیکھ لینا کہ کیا ہوتا ہے۔

وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا ۚ

اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ تو فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں

باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ مصیبتوں کا مزہ چکھنے کے بعد جب انسان کو ہماری رحمتوں سے سابقہ پڑتا ہے جیسے مفلسی کے بعد خوشحالی قحط کے بعد کاشت میں بہترین پیداوار اور بارش وغیرہ تو وہ تمسخر اور تکذیب کے درپے ہو جاتے ہیں اور جب انسان کو مصیبتیں آ گھیرتی ہیں تو وہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے دعاؤں کی بھرمار شروع کر دیتا ہے۔

وَإِذَا مَسَّ الإِنسَـنَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًا (۱۰:۱۲)

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی

رات کو بارش ہوئی، صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟

صحابہؓ نے کہا ہمیں کیا خبر؟

آپ نے فرمایا اللہ کا ارشاد ہوا ہے:

صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے۔

قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ (۲۱)

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں۔‏

یہاں فرماتا ہے کہ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آجاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہوگی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔

هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ

وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے

اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔

حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا

یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ بری اور بحری سفر کے لئے اس نے تمہارے لئے آسانیاں پیدا کر دیں اور پانی کے اندر بھی اس نے تم کو اپنی پناہ اور حفاظت میں لے لیا اور جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو ہوائیں ان کشتیوں کو چلانے لگتی ہیں تو انکی نرم رفتاری یا سرعتہ سیر پر خوش ہوتے ہو

جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ

ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (برے) آگھرے

عین خوشی کے عالم میں ان کشتیوں کو تیز و تند آندھی آ گھیرتی ہے اور ہر طرف سے موجیں لپٹ پڑتی ہیں تو تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب تو ہلاک ہو گئے

دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (۲۲)

(اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔‏

اب زار زار اللہ سے دعائیں مانگیں لگتے ہوؔ اس وقت تم کو نہ کوئی صنم یاد آتا ہے نہ کوئی اور بت لات و ہبل بلکہ ہمیں کو مخاطب کرتے ہو۔

وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا (۱۷:۶۷)

اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے پھر جب تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ۔

یہاں کہا گیا کہ(اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں

فَلَمَّا أَنْجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ

پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں

لیکن ادھر نجات ملی ، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکر و توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہوگئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آگئے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ ۖ

اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال ہونے والی ہے

لوگو ! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں۔

مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۲۳)

دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلا دیں گے۔‏

تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہوگے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے

لہذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔

إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ

پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں،

دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بےرونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اُٹھی۔ طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہوگئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزیں ، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں ، چاروں طرف پھیل پڑیں،

حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا

خوب گنجان ہو کر نکلی یہاں تک کہ جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی

اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے ہیں تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آپڑا

زمین سر سبز ہو گئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور اناج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل ٹھٹھر گئے۔ ، جل گئے،

فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ

سو ہم نے اس کو ایسا صاف کر دیا کہ گویا کل وہ موجود ہی نہ تھی۔

کھیت و باغات ایسے ہوگئے گویا تھے ہی نہیں اور جو چیز کل تھی بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھی۔

حدیث میں ہے:

بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لاکر جہنم میں ایک غوطہ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری؟

وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔

اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لا یا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے؟

جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں۔

كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (۲۴)

ہم اس طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو سوچتے ہیں۔‏

اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کرلیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے۔ اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی زندگی کی مثال اسی طرح ہے اور بھی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔

مثلاً سورۃ زمر اور سورۃ حدید میں اورسورہ کہف کی اس آیت میں بھی:

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۔۔۔ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا (۱۸:۴۵)

ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اور اس سے زمین کا سبزہ ملا جلا (نکلتا) ہے،

پھر آخرکار وہ چورا چورا ہو جاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لیئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے ۔‏

اور سورۃ زمر اور سورۃ حدید میں۔

وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۲۵)

اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف اپنے بندوں کو بلاتا ہے جو دنیا کی طرف فانی نہیں بلکہ باقی ہے دنیا کی طرف دو دن کے لیے زینت دار نہیں بلکہ ہمیشہ کی نعمتوں اور ابدی راحتوں والی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پھر فرمایا گیا ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا ۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دسترخوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔

پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

یہ روایت مرسل ہے۔

دوسری متصل بھی ہے اس میں ہے :

ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔

پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا۔

ایک حدیث میں ہے:

ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔

قرآن فرماتا ہے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے (ابن ابی حاتم ا، ابن جریر)

لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ

جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت،

یہاں جس نے نیک اعمال کئے اور باایمان رہا وہاں اسے بھلائیاں اور نیک بدلے ملیں گے۔

هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ (۵۵:۶۰)

احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے

ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک ۔ جنت حور و قصور وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے

بہت سے سلف خلف صحابہؓ سے مروی ہے کہ زِيَادَة سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا :

جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو ! تم سے اللہ کا ایک وعدہ ہوا تھا، اب وہ بھی پورا ہو نے کو ہے۔ bb

یہ کہیں گے الحمد اللہ ہمارے میزان بھاری ہوگئے، ہمارے چہرے نورانی ہوگئے ، ہمیں دوزخ سے نجات دی ہم جنت میں پہنچ گئے، اب کیا چیز باقی ہے؟

اس وقت حجاب ہٹ جائے گا اور یہ اپنے پاک پرودگار کا دیدار کریں گے۔

واللہ کسی چیز میں انہیں وہ لذت و سرور نہ حاصل ہوا ہوگا جو دیدار الہٰی میں ہوگا۔ (مسلم وغیرہ)

اور حدیث میں کہ منادی کہے گا الْحُسْنَى سے مراد جنت اور زِيَادَةسے مراد دیدار الہٰی ہے۔

أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (۲۶)

یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‏

ایک حدیث میں یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے:

میدان محشر میں ان کے چہروں پر سیاہی نہ ہوگی نہ ذلت ہوگی ۔ جیسے کہ کافروں کے چہروں پر یہ دونوں چیزیں ہوں گی۔

جیسے قرآن میں فرمان الہٰی ہے:

فَوَقَـهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَومِ وَلَقَّـهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً (۷۶:۱۱)

پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔

غرض ظاہر اور باطنی اہانت سے وہ دور ہوں گے۔ چہرے پر نور دل راحتوں سے مسرور ۔

اللہ ہمیں بھی انہیں میں کرے آمین۔

وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ

اور جن لوگوں نے بد کام کئے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی اور ان کی ذلت چھائے گی،

نیکوں کا حال بیان فرما کر اب بدوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ ان کی نیکیاں بڑھا کر ان کی برائیاں برابر ہی رکھی جائیں گی۔ نیکی کم مگر بدکاریاں ان کے چہروں پر سیاہیاں بن کر چڑھ جائیں گی ذلت و پستی سے ان کے منہ کالے پڑ جائیں گے۔

وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَـشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ (۴۲:۴۵)

اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ (جہنم کے) سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جا رہے ہونگے

وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَـفِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّـلِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأَبْصَـرُ ـ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ (۱۴:۴۲،۴۳)

نا انصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھو وہ تو انہیں اس دن تک مہلت دیئے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ وہ اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ رہے ہونگے

یہ اپنے مظالم سے اللہ کو بےخبر سمجھتے رہے حالانکہ انہیں اس دن تک کی ڈھیل ملی تھی۔ آج آنکھیں چڑھ جائیں گی شکلیں بگڑ جائیں گی،

مَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۖ

ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا

کوئی نہ ہوگا جو کام آئے اور عذاب سے بچائے، کوئی بھاگنے کی جگہ نہ نظر آئے گی۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

يَقُولُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ـ كَلاَّ لاَ وَزَرَ ـ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (۷۵:۱۰،۱۲)

اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ۔‏نہیں نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ۔‏آج تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاہ ہے

كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (۲۷)

گویا انکے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیئے گئے ہیں یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‏

کافروں کے چہرے ان کے کفر کی وجہ سے سیاہ ہوں گے، اب کفر کا مزہ اٹھاؤ۔مؤمنوں کے منہ نورانی اور چمکیلے، گورے اور صاف ہوں گے، کافروں کے چہرے ذلیل اور پست ہوں گے۔

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۔۔۔ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ (۳:۱۰۶،۱۰۷)

جس دن بعض چہرے سفید ہونگے اور بعض سیاہ سیاہ چہروں والوں (سے کہا جائے گا) کہ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔

‏ اور سفید چہرے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونگے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‏

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ـ ضَـحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ ـ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ (۸۰:۳۸،۴۰)

اس دن بہت سے چہرے روشن ہونگے۔‏(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔‏

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنْتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو /span>

مؤمن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔

وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا ۔ (۱۸:۴۷)

ہم ان سب کو اکھٹا کریں گے، کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے۔

پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا۔

وَاُمتازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ (۳۶:۵۹)

اے گناہ گارو ! آج تم الگ ہو جاؤ ۔‏

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ (۳۰:۱۴)

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہوجائیں گی ۔

يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ (۳۰:۴۳)

اس دن لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَاؤُهُمْ مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ (۲۸)

پھر ہم ان کی آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وہ شرکا کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے؟‏

ان مجرموں کی جماعت مؤمنوں سے الگ ہو جائے گی ، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا۔

كَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ (۱۹:۸۲)

وہ تو پوجا سے منکر ہوجائیں گے،

إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ (۲:۱۶۶)

جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہوجائیں گے

اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مؤمن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ اُمت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ ۔۔۔ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً (۴۶:۵،۶)

اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں

بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہوجائیں گے

اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔

فَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ (۲۹)

سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی ہے گواہ کے طور پر کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی ۔

اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بےکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بےخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔

اس حی و قیوم ، سمیع و بصیر ، قادر و مالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو۔

هُنَالِكَ تَبۡلُواْ كُلُّ نَفْسٍ مَا أَسْلَفَتْ ۚ

اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کی جانچ کر لے گا

وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔

يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ (۸۶:۹)

جس دن پوشیدہ باتوں کی جانچ پڑتال ہوگی۔

وَكُلَّ إِنْسَـنٍ أَلْزَمْنَـهُ طَـئِرَهُ فِى عُنُقِهِ ۔۔۔ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا (۱۷:۱۳،۱۴)

اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پائے گا۔‏

لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔‏

اپنی بھلائی برائی معلوم کر لے گا۔ نیک و بد سامنے آجائے گا۔ اسرار بےنقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کر لے گا۔

تَبۡلُواْ کی دوسری قرآت تَتۡلُواْ بھی ہے۔

اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔

حدیث میں ہے:

ہر اُمت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔

سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے ، بت پرست بتوں کے پیچھے۔

وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (۳۰)

اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے ۔

سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔

مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اُٹھ جائیں گے۔

قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے

اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ ان سے پوچھو گے کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟

أَءِلـهٌ مَّعَ اللهِ (۲۷:۶۲)

کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟

پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟

دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟

فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبّاً ـ وَعِنَباً وَقَضْباً ـ وَزَيْتُوناً وَنَخْلاً ـ وَحَدَآئِقَ غُلْباً ـ وَفَـكِهَةً وَأَبّاً (۸۰:۲۷:۳۱)

پھر اس میں اناج اگائے۔‏ اور انگور اور ترکاری۔ اور زیتون اور کھجور۔‏ اور گنجان باغات۔‏ اور میوہ اور (گھاس) چارہ (بھی اگایا)۔‏

اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی۔اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے۔

أَمَّنْ هَـذَا الَّذِى يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ (۶۷:۲۱)

اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا

أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ

یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے

کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔

قُلْ هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ (۶۷:۲۳)

کہہ دیجئے کہ وہی اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور اور دل بنائے

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَـرَكُمْ (۶:۴۶)

آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت اور بصارت بالکل لے لے

پیدا کرنے والا وہی ، اعضا کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا۔

وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ

اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے

اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔

وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ

اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟

وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔

يَسْأَلُهُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ (۵۵:۲۹)

سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں ہر روز وہ ایک شان میں ہے

فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (۳۱)

ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ' اللہ ' تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔‏

ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے باز پرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے۔ کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بےکس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے ۔

ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔

پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔

فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔

فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (۳۲)

سو یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ پھر حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو ۔

وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بےشریک ہے۔

مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر اوروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔

كَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ فَسَقُوا أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۳۳)

اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات کہ ایمان نہ لائیں گے، تمام فاسق لوگوں کے حق میں ثابت ہو چکی ہے ۔

کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے ۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔

قَالُواْ بَلَى وَلَـكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَـفِرِينَ (۳۱:۷۱)

یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ

آپ یوں کہیے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوبارہ بھی پیدا کرے؟

مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کر سکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتدا پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔

قُلِ اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (۳۴)

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔ تم کہاں پھرے جاتے ہو؟

بلکہ اللہ ہی ابتدا کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ

آپ کہئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ حق کا راستہ بتاتا ہے؟

کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟

یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔

قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتاتا ہے

ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں۔

أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَى ۖ

تو پھر آیا جو شخص حق کا راستہ بتاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو بغیر بتائے خود ہی راستہ نہ سوجھے

پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟

یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟

يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْئاً (۱۹:۴۲)

ابا جان! آپ انکی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں‏

جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں۔

اپنی قوم سے فرماتے ہیں:

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ـ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (۳۷:۹۵،۹۶)

تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو‏ حالانکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے

فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (۳۵)

پس تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو ۔

یہاں فرماتا ہے تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہوگئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔

وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ

اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا

رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی۔ دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑ گئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بےکار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔

إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ (۳۶)

یہ جو کچھ کر رہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے ۔

اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔

وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے ہی سے) گھڑ لیا گیا ہو۔

قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہو نے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بےمثل قرآن بےمثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بےنظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بےمثل صفتیں بےمثل، جس کے اقوال بےمثل، جس کے افعال بےمثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہو سکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔

وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۳۷)

بلکہ یہ تو (ان کتابوں کی) تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے قبل نازل ہو چکی ہیں اور کتاب (احکام ضروریہ) کی تفصیل بیان کرنے والا اس میں کوئی بات شک کی نہیں کہ رب العالمین کی طرف سے ہے ۔‏

یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے،ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بےحجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہو نے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں۔ سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (۳۸)

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیر اللہ کو بلا سکو، بلا لو اگر تم سچے ہو

اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہو نے میں شک ہے اور اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو۔

قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ ۔۔۔ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (۱۷:۸۸)

کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں ۔

یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔

اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہو چکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔

أ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ (۱۱:۱۳)

کیا جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کے مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو ۔

جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تواور آسانی کر دی گئی اور سورہ بقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو۔

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (۲:۲۳)

ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ،

وہاں ساتھ ہی فرمایا کہ نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات۔ پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الہٰی مول نہ لو۔

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي (۲:۲۴)

پس اگر تم نے نہ کیا۔ اور تم ہرگز نہیں کر سکتے تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو

بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ

بلکہ ایسی چیز کو جھٹلا نے لگے جس کو اپنے احاطہ، علمی میں نہیں لائے اور ہنوز ان کو اس کا ہی نتیجہ ملا

اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کٍے زمانے کے جادوگر جو اپنی ساحری میں یکتائے زمانہ تھے بول اٹھے کہ موسیٰ کا یہ مظاہرہ عصا سحر سے کوئی تعلق نہیں رکھتا یہ تاعید ربانی ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس ئے یقناً موسی الہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں کیونکہ کوئی صاحب فن ہی کسی فن کے کمال کو سمجھ سکتا ہے۔ اور اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو ایسے زمانے میں پیدا ہوئے تھے جب کہ طب نےکمال درجہ کی ترقی حاصل کر لی تھی اور مریضوں کے علاج میں ماہرین طب اپنا کمال دکھا رہے تھے ایسے وقت میں مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفا دے دینا بلکہ مردوں کو بحکم الہٰی جِلا دینا۔ ، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔

اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کردیں۔ ان کے دلوں میں یقین آگیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے۔

یہ (کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔

كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ (۳۹)

جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی جھٹلایا تھا، سو دیکھ لیجئے ان ظالموں کا انجام کیا ہوا

ان سے پہلے کی اُمتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔

وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔

تیری اُمید کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔

وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ (۴۰)

اور آپ کا رب فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے ۔

اور بعض اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ (۴۱)

اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لئے میرا عمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں ۔

فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بےزاری کا اعلان کردے۔ اور کہہ دے کہ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ۔

جیسے کہ وہ سورہ لکافرون میں بیان ہوا ہے:

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (۱۰۹:۱،۲)

آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو ‏ نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔‏

اور جیسے کہ حضرت خلیل اللہ اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:

إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ (۶۰:۴)

ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ۔

وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے بیٹھے ہیں

ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔

لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا ، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے ہے

أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ (۴۲)

کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو

لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟

یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔

وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْظُرُ إِلَيْكَ ۚ

اور ان میں بعض ایسے ہیں آپ کو دیکھ رہے ہیں۔

یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق ، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مؤمن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔ مؤمن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔

وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً (۲۵:۴۱)

اور تمہیں جب کبھی دیکھتے ہیں تو تم سے مسخرہ پن کرنے لگتے ہیں

أَفَأَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوا لَا يُبْصِرُونَ (۴۳)

پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت نہ ہو

پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (۴۴)

یہ یونہی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔

اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔

اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے:

اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔

اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔

پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔ (مسلم)

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَنْ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ

اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ ان کو (اپنے حضور) جمع کرے گا (تو ان کو ایسا محسوس ہوگا) کہ گویا وہ (دنیا میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہونگے ا

ور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں ۔

بیان ہو رہا ہے کہ وہ وقت بھی آرہا ہے جب قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے اٹھا کر میدان قیامت میں جمع کرے گا۔ اس وقت انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ گویا گھڑی بھر دن ہم رہے تھے۔

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ (۴۶:۳۵)

یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعدہ دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ دن کی ایک گھڑی ہی دنیا میں) ٹھہرے تھے

یعنی صبح یا شام ہی تک ہمارا رہنا ہوا تھا۔

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا (۷۹:۴۶)

جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں

کہیں گے کہ دس روز دنیا میں گزارے ہوں گے۔ تو بڑے بڑے حافظے والے کہیں گے کہاں کے دس دن تم تو ایک ہی دن رہے۔

يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ ۔۔۔ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلاَّ يَوْماً (۲۰:۱۰۲،۱۰۴)

جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناہ گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر لائیں گے‏ وہ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہےہونگے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے۔‏

جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اسکی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیادہ اچھی رائے والا کہہ رہا ہوگا کہ تم صرف ایک ہی دن دنیا میں رہے

قیامت کے دن یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت ہی رہے ۔

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيْرَ سَاعَةٍ (۳۰:۵۵)

اور جس دن قیامت برپا ہو جائے گی گناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے

ایسی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ دنیا کی زندگی آج بہت تھوڑی معلوم ہوگی۔

قَـلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِى الاٌّرْضِ عَدَدَ سِنِينَ ۔۔۔ إِلاَّ قَلِيلاً لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (۲۳:۱۱۲،۱۱۴)

اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟‏

وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، گنتی گننے والوں سے بھی پوچھ لیجئے اللہ تعالیٰ فرمائے گا فی الواقع تم وہاں بہت ہی کم رہے ہو اے کاش! تم اسے پہلے ہی جان لیتے؟

اس وقت بھی ہر ایک دوسرے کو پہچانتا ہوگا جیسے دنیا میں تھے ویسے ہی وہاں بھی ہوں گے رشتے کنبے کو، باپ بیٹوں الگ الگ پہنچان لیں گے۔ لیکن ہر ایک نفسا نفسی میں مشغول ہوگا۔ جیسے فرمان الہٰی ہے :

فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ (۲۳:۱۰۱)

پس جب صور پھونک دیا جائیگا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے

وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً (۷۰:۱۰)

اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (۴۵)

و اقعی خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔‏

جو اس دن کو جھٹلاتے رہے وہ آج گھاٹے میں رہیں گے

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (۷۷:۱۵)

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔

ان کے لیے ہلاکت ہوگی انہوں نے اپنا ہی برا کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔ اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہوگا کہ ایک دوسرے سے دور ہے دوستوں کے درمیان تفریق ہے، حسرت و ندامت کا دن ہے۔

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ (۴۶)

اور جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اس میں کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں یا (ان کے ظہور سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے۔

پھر اللہ ان کے سب افعال پر گواہ ہے ۔

فرمان ہے کہ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالیں۔ بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے۔ اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔

طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری اُمت پیش کی گئی

کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے۔

آپ ﷺنے فرمایا ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہنچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (۴۷)

اور ہر اُمت کے لئے ایک رسول ہے، سو جب ان کا وہ رسول آچکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔‏

ہر اُمت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہو گئی۔

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (۱۷:۱۵)

اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب بھیج دیا جاتا

اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔

جیسےاس آیت میں ہے:

وَأَشْرَقَتِ الاٌّرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (۳۹:۶۹)

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی

ہر اُمت اللہ کے سامنے ہوگی، رسول موجود ہوگا، نامہ اعمال ساتھ ہوگا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری اُمت آئے گی اس شریف اُمت کا فیصلہ سب سے پہلے ہوگا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے۔

اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ اُمت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔

وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (۴۸)

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو۔‏

ان کا بےفائدہ سوال دیکھو۔ وعدہ کا دن کب آئے گا؟ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مؤمن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔

يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ (۴۲:۱۸)

اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے اور جو اس پر یقین رکھتے ہیں وہ تو اس سے ڈر رہے ہیں انہیں اس کے حق ہونے کا پورا علم ہے

قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ

آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو،

ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں

لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ

ہر اُمت کے لئے ایک معین وقت ہے

ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے

إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (۴۹)

جب ان کا وہ معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں ۔

جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی۔

وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْساً إِذَا جَآءَ أَجَلُهَآ (۶۳:۱۱)

اور جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ بَيَاتًا أَوْ نَهَارًا مَاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ (۵۰)

آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ ا سکو جلدی مانگ رہے ہیں

پھر فرمایا کہ وہ تو اچانک آنے والی ہے ممکن ہے رات کو آجائے دن کو آجائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟

پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟

أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ ۚ

کیا پھر جب وہ آہی پڑے گا اس پر ایمان لاؤ گے۔

کیا جب قیامت آجائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟

جو اب مانا وہ محض بےسود ہے۔

اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔

رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا (۳۲:۱۲)

کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا

آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ (۵۱)

ہاں اب مانا! حالانکہ تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‏

کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں۔لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بےنفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔

فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ ۔۔۔ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ (۴۰:۸۴،۸۵)

ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان لائے اور جن جن کو ہم شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا۔‏ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔

اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آرہا ہے اور اس جگہ کافر خراب و خستہ ہوئے۔

ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ (۵۲)

پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ تم کو تو تمہارے کئے کا ہی بدلہ ملا ہے۔‏

اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ۔

يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ۔۔۔ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (۵۲:۱۳،۱۶)

جس دن وہ دھکے دے کر آتش جہنم کی طرف لائے جائیں گے۔‏ یہی وہ آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے ۔‏(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟

یا تم دیکھتے نہیں جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لئے یکساں ہے۔ تمہیں فقط تمہارے کئے کا بدل دیا جائے گا۔‏

انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔

وَيَسْتَنْبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ

اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا عذاب واقعی سچ ہے؟

پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے ؟

قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ ۖ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ (۵۳)

آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی وہ واقعی سچ ہے اور تم کسی طرح اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔‏

تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے

إِنَّمَآ أَمْرُهُ إِذَآ أَرَادَ شَيْئاً أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (۳۶:۸۲)

وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، تو وہ اسی وقت ہو جاتی ہے۔

اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ سورہ سبا میں ہے:

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لاَ تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَى وَرَبِّى لَتَأْتِيَنَّكُمْ (۳۴:۳)

کفار کہتے ہیں ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجئے! مجھے میرے رب کی قسم!وہ یقیناً تم پر آئے گی

سورہ تغابن میں ہے:

قُلْ بَلَى وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (۶۴:۷)

آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے پھر جو تم نے کیا اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بلکہ آسان ہے ۔‏

ان دونوں آیات میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْأَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ ۗ

اور اگر ہر جان، جس نے ظلم (شرک) کیا ہے، کے پاس اتنا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچا نے لگے

اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔

وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ ۖ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (۵۴)

اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے۔ اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا۔اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔‏

دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ

یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کی ملک ہیں۔

مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

أَلَا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۵۵)

یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن بہت سے آدمی علم نہیں رکھتے۔‏

اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ۔

هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۵۶)

وہی جان ڈالتا ہے وہی جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کے پاس لائے جاؤ گے۔

جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔

جسم سے علیحدہ ہو نے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہو نے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ (۵۷)

اے لوگوں! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے

اور دلوں میں جو روگ ہیں انکے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے ۔‏

اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں ، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مؤمنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں۔

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّـلِمِينَ إَلاَّ خَسَارًا (۱۷:۸۲)

یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مؤمنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی ۔

اور آیت میں ہے :

قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ (۴۱:۴۴)

آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لئے ہدایت و شفا ہے

قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (۵۸)

آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔‏

اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہوجانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیے۔

ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے :

جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق میں پہنچا تو آپ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بیشمار تھے۔ حضرت عمر نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ نے مولیٰ عمرو نے کہا یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔

آپ نے فرمایا تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔

قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا

آپ کہیے یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا ۔

مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔

جیسے اور آیت میں ہے؛

وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالاٌّنْعَامِ نَصِيباً (۶:۱۳۶)

اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا

مسند احمد میں ہے:

حضرت عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا ، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔

آپﷺ نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟

میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔

آپ ﷺنے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیے۔

پھر آپﷺ نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟

میں نے کہا ہاں۔

فرمایا وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟

میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے۔

قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ (۵۹)

آپ پوچھئے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر بہتان ہی کرتے ہو۔‏

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔

وَمَا ظَنُّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ

اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے

انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بےبس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔

إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ (۶۰)

واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے ۔‏

اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل وکرم ہی کرتا ہے۔ وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کردی ہیں۔ صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے۔ جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔

لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کر لی تھیں۔

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے:

قیامت کے دن اولیا اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔

پہلی قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہوگا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟

وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔

پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟

وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔ پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر

تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے

پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟

وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں ۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے ۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔

اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔

وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ

اور آپ کسی حال میں ہوں آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو

اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اُمت کے تمام احوال ہر وقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (۶۱)

اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے

ساری مخلوق کے کل کام اس کے علم میں ہیں۔ اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔

جیسے فرمان ہے:

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ ۔۔۔ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ (۶:۵۹)

اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کےاور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہےا

ور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں پڑتااور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں

الغرض درختوں کا ہلنا۔ جمادات کا ادھر ادھر ہونا، جانداروں کا حرکت کرنا، کوئی چیز روئے زمین کی اور تمام آسمانوں کی ایسی نہیں، جس سے علیم و خبیر اللہ بےخبر ہو۔

فرمان ہے:

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَـلُكُمْ (۶:۳۸)

اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں

ایک اور آیت میں ہے:

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا (۱۱:۶)

زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں

جب کہ درختوں، ذروں جانوروں اور تمام تر و خشک چیزوں کے حال سے اللہ عزوجل واقف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بندوں کے اعمال سے وہ بےخبر ہو۔ جنہیں عبادت رب کی بجا آوری کا حکم دیا گیا ہے۔

چنانچہ فرمان ہے:

وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ـ الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ـ وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ (۲۶:۲۱۷،۲۱۹)

اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ۔‏جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے۔‏اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی

یہی بیان یہاں ہے کہ تم سب ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو۔

حضرت جبرائیل نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا :

أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك

اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۶۲)

یاد رکھو کے اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں‏

اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بےخوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے ۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔

بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے ۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔

الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (۶۳)

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔‏

ابن جریر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا ءبھی رشک کریں گے

لوگوں نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟

ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں۔ صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہوگا لیکن یہ بالکل بےخوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بےغم ہوں گے۔

پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔

یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ واللہ اعلم

مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے:

دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہوگئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے۔ دین میں سب ایک ہوں گے۔ ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ بااطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں۔

لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ

ان کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا :

یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں۔

حضرت ابوالدرداء سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ بات پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ تجھ سے پہلے میرے کسی اُمتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا۔

خود انہی صحابی سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔

اور روایت میں ہے:

حضرت عبادہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے۔

فرمایا نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں۔ یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺسے پوچھا کہ یارسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی دنیوی بشارت ہے۔ (مسلم)

فرماتے ہیں:

دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مؤمن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔

چاہیے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے۔ (مسند احمد)

اور روایت میں ہے کہ نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔

اور حدیث میں ہے:

دنیوی بشارت نیک خواب۔ اور اُخروی بشارت جنت۔

ابن جریر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں۔

الْبُشْرَى کی یہی تفسیر ابن مسعود، ابو ہریرہ، ابن عباس مجاہد، عروہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح، وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مؤمن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکران آیات میں ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ ۔۔۔ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (۴۱:۳۰،۳۲)

(واقعی) جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو ۔

تمہاری دنیاوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لئے (جنت میں موجود) ہے۔‏

غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے۔‏

حضرت براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے:

مؤمن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت ترو تازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔ تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہو نے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔

اور آخرت کی بشارت کا ذکراس آیت میں ہے:

لاَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الاٌّكْبَرُ وَتَتَلَقَّـهُمُ الْمَلَـئِكَةُ هَـذَا يَوْمُكُمُ الَّذِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ (۲۱:۱۰۳)

وہ بڑی گھبراہٹ (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے رہے۔‏

یعنی انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا۔

ایک دوسری آیت میں ہے:

يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَـتِ ۔۔۔ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (۵۷:۱۲)

(قیامت کے) دن تو دیکھے گا کہ ایماندار مردوں اور عورتوں کا نور انکے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا

آج تمہیں ان جنتوں کی خوشخبری ہے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔ یہ ہے بڑی کامیابی ہے

لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (۶۴)

اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔‏

اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری ، یہ ہے زبردست کامیابی ، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔

وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ۚ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (۶۵)

آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے وہ سنتا اور جانتا ہے۔‏

ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مؤمنوں کو عزت دے گا۔

وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔

أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ

یا رکھو جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں یہ سب اللہ ہی کے ہیں

آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔

وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (۶۶)

اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کی عبادت کر رہے ہیں کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں اور محض اٹکلیں لگا رہے ہیں ۔

اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بےدلیل ہے۔ صرف گمان ، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ

وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ،

حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر ، سفر تجارت، کاروبار کر سکو،

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (۶۷)

تحقیق اس میں دلائل ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں۔‏

ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔

قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ هُوَ الْغَنِيُّ ۖ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ

وہ کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وہ تو کسی کا محتاج نہیں اس کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے

جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا ۔ أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا ۔ (۱۹:۹۰،۹۱)

اس بات سے کہ وہ کہتے ہیں رحمٰن کی اولاد ہے، قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔

إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِهَذَا ۚ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (۶۸)

تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔‏

تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔

تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟

بھلا اس کی اولاد کیسے ہوگی؟

اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہو نے والی ہے۔ سب اس کی شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے ۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہو نے والا ہے۔

وَقَالُواْ اتَّخَذَ الرَّحْمَـنُ وَلَداً ـ ۔۔۔وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً (۱۹:۸۸،۹۵)

ان کا قول یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔‏ یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز لائے ہو۔‏

قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں‏ کہ وہ رحمٰن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ۔ شان رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔‏

آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ۔ ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پورے گن بھی رکھا ہے یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں

قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (۶۹)

آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں وہ کامیاب نہ ہونگے۔‏

یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (۷۰)

یہ دنیا میں تھوڑا سی عیش ہے پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے۔‏

دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادتی کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا۔

ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ (۳۱:۳۴)

لیکن (بالآخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکالے جائیں گے

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ

اور آپ ان کو نوح ؑ کا قصہ پڑھ کر سنائیے

اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیے اور میری پکڑ سے بےخوف نہ ہونا چاہئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ

جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الہٰی کی نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے

حضرت نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بےخوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔

فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ

تو میرا اللہ پر ہی بھروسہ ہے

میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔

فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ (۷۱)

تم اپنی تدبیر معہ اپنے شرکاء کے پختہ کر لو پھر تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعث نہ ہونی چاہے پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو‏

یہی حضرت ہودؑ نے فرمایا تھا:

إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا ۔۔۔ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ (۱۱:۵۴،۵۶)

میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو ۔

اللہ کے سوا اچھا تم سب ملکر میرے خلاف چالیں چل لو مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو ۔ میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے

فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ

پھر بھی اگر تم اعراض ہی کئے جاؤ تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا میرا معاوضہ تو صرف اللہ ہی کے ذمہ ہے

حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا۔ کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی ، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں،

وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (۷۲)

اور مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں ۔‏

مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہو نے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو الحمد اللہ میں مسلمان ہوں۔ اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔

تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے۔ گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو۔جیسے فرمان ہے:

جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا (۵:۴۸)

تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کر دی

دیکھئے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العالمین کے لیے میں اسلام لایا۔ اسی کی وصیت آپ اور حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہو نے کی حالت میں ہی موت آئے۔

إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ ۔۔۔ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (۲:۱۳۱،۱۳۲)

جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہو جا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔

اس کی وصیت ابراہیمؑ اور یعقوبؑ نے اپنی اولاد کو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا

حضرت یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا :

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِى مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى ۔۔۔ وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ (۱۲:۱۰۱)

اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور کارساز ہے،

تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے

موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:

يقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءامَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُواْ إِن كُنْتُم مُّسْلِمِينَ (۱۰:۸۴)

اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو ۔

اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو۔ آپ کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں تو ہمیں مسلمان اٹھانا :

رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (۷:۱۲۶)

اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال

بلقیس کہتی ہیں میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں۔

رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ (۲۷:۴۴)

میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں۔

قرآن فرماتا ہے ہے کہ تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں۔

إِنَّآ أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ (۵:۴۴)

ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت و نور ہے یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے

حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں:

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ ءَامِنُواْ بِى وَبِرَسُولِى قَالُواْ ءَامَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (۵:۱۱۱)

اور جبکہ میں نے حواریین کو حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں

خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں۔ میں اول مسلمان ہوں یعنی اس اُمت میں ۔

قُلْ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى ۔۔۔ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (۶:۱۶۲،۱۶۳)

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‏

اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں

ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ ۔

پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ

سو وہ لوگ ان کو جھٹلاتے رہے پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور ان کو جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کر دیا۔

پھر فرماتا ہے قوم نوح نے نوحؑ کو نبی نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔

نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے

فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ (۷۳)

سو دیکھنا چاہیے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ڈرائے جا چکے تھے۔‏

پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مؤمنوں کو بچا لیا۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ

پھر نوح ؑ کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے

حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔

فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۚ

پس جس چیز کو انہوں نے اول میں جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے

لیکن عموما ًان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا

جیسےاس آیت میں ہے:

وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ (۶:۱۱۰)

اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے

كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ (۷۴)

اللہ تعالیٰ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے۔‏

پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہو جاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعی نبیوں اور ان کے تابعداروں کو بچا لینا اور مخالفین کو ہلاک کرنا۔

حضرت نوح نبی علیہ السلام کے بعد سے برابر یہی ہوتا رہا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں بھی انسان زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں بت پرست شروع ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام کو ان میں بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے تو کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس زمانے گزرے اور وہ سب اسلام میں ہی گزرے ہیں۔

اسی لیے فرمان اللہ ہے :

وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ (۱۷:۱۷)

ہم نے نوح کے بعد بھی بہت سی قومیں ہلاک کیں

مقصود یہ کہ ان باتوں کو سن کر مشرکین عرب ہوشیار ہو جائیں کیونکہ وہ سب سے افضل و اعلیٰ نبی کو جھٹلا رہے ہیں۔ پس جب کہ ان کے کم مرتبہ نبیوں اور رسولوں کے جھٹلانے پر ایسے دہشت افزاء عذاب سابقہ لوگوں پر نازل ہو چکے ہیں تو اس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھٹلانے پر ان سے بھی بدترین عذاب ان پر نازل ہوں گے۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى وَهَارُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ ؑاور ہارون ؑ کو فرعون اور ان کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔

فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ (۷۵)

سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ مجرم قوم تھے ۔

لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم

فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ (۷۶)

پھر جب ان کو ہمارے پاس سے صحیح دلیل پہنچی تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقیناً یہ صریح جادو ہے ۔

اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود رائی اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔

وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً (۲۷:۱۴)

انہوں نے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر

قَالَ مُوسَى أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَذَا وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ (۷۷)

موسیٰؑ نے فرمایا کہ کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جو تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے، حالانکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے

اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟

کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟

قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا

وہ لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے

وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ (۷۸)

اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے۔‏

ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔

اس قصے کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔

فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔

پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ فالحمد اللہ

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ (۷۹)

اور فرعون نے کہا میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو۔‏

سورہ اعراف، سورہ طہ، سورہ شعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورہ اعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔

فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا۔

وَأُلْقِىَ السَّحَرَةُ سَـجِدِينَ ـ قَالُواْ ءَامَنَّا بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ ـ رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ (۷:۱۲۰،۱۲۲)

اور وہ جو ساحر تھے سجدہ میں گر گئے۔‏ کہنے لگے ہم ایمان لائے رب العالمین پر جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے

اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے ، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے،

فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَى أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ (۸۰)

پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ ؑنے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو۔‏

انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو۔ آپ نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور بال کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔ یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ نے انہیں فرمایا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کر دو۔

قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى ـ قَالَ بَلْ أَلْقُواْ (۲۰:۶۵،۶۶)

کہنے لگے اے موسیٰ! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔‏ جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو

فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَى مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ ۖ

سو جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم لائے ہو جادو ہے۔

انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہر کیا۔ جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہوگیا فورا اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ خبردار ڈرنا مت۔

قُلْنَا لاَ تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الاٌّعْلَى ۔۔۔ وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى (۲۰:۶،۶۹)

ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا ۔ اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے،

انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔‏

إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ (۸۱)

یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو بھی درہم برہم کئے دیتا ہے اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا

اب حضرت موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔

وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (۸۲)

اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ثابت کر دیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں۔‏

حضرت لیث بن ابی سلیم فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفا ہے۔

ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے

آیت فَلَمَّا أَلْقَوْا سے وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (۱۰:۸۱،۸۲)تک یہ آیتیں

اور فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۷:۱۱۸) سے چار آیتوں تک

اور آیت إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍۖ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ (۲۰:۶۹) (ابن ابی حاتم)

فَمَا آمَنَ لِمُوسَى إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِنْ قَوْمِهِ عَلَى خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَنْ يَفْتِنَهُمْ ۚ

پس موسیٰ ؑ پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعوں سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے

وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ (۸۳)

اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا ۔‏

ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبے والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہو گیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا۔

پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا۔ اس کی بیوہ تھی وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے حضرت موسیٰ پر بنی اسرائیل کی تھوڑی سی تعداد کا ایمان لانا ہے۔

یہ بھی مروی ہے کہ ذُرِّيَّةٌ سے مراد قلیل ہے یعنی بہت کم لوگ۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد بھی مراد ہے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ نبی بن کر آئے اس وقت جو لوگ ہیں ان کی موت کے بعد ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ ایمان لائے۔

امام ابن جریر تو قول مجاہد کو پسند فرماتے ہیں کہ قَوْمِهِ میں ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ ہیں کیونکہ یہی نام اس سے قریب ہے۔ لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ ذُرِّيَّةٌ کے لفظ کا تقاضا جوان اور کم عمر لوگ ہیں اور بنو اسرائیل تو سب کے سب مؤمن تھے جیسا کہ مشہور ہے

یہ تو حضرت موسیٰ کے آنے کی خوشیاں منا رہے تھے ان کی کتابوں میں موجود تھا کہ اس طرح نبی اللہ آئیں گے اور ان کے ہاتھوں انہیں فرعون کی غلامی کی ذلت سے نجات ملے گی

ان کی کتابوں کی یہی بات تو فرعون کے ہوش و حواس گم کئے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس نے حضرت موسیٰ کی دشمنی پر کمر کس لی تھی اور آپ کی نبوت کے ظاہر ہو نے سے پہلے اور آپ کے آنے سے پہلے اور آپ کے آجانے کے بعد ہم تو اس کے ہاتھوں بہت ہی تنگ کئے گئے ہیں۔

آپ نے انہیں تسلی دی کہ جلدی نہ کرو۔ اللہ تمہارے دشمن کا ناس کرے گا، تمہیں ملک کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو؟

قَالُواْ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا ۔۔۔ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (۷:۱۲۹)

قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپکی تشریف آوری کے بعد بھی

موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا اور بجائے انکے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا ۔‏

پس یہ تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت سے مراد قوم موسیٰ کی نئی نسل ہو۔ اور یہ کہ بنو اسرائیل میں سے سوائے قارون کے اور کوئی دین کا چھوڑنے والا ایسا نہ تھا جس کے فتنے میں پڑ جانے کا خوف ہو۔

قارون گو قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن وہ باغی تھا فرعون کا دوست تھا۔ اس کے حاشیہ نشینوں میں تھا، اس سے گہرے تعلق رکھتا تھا۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ مَلَئِهِمْ میں ضمیر فرعون کی طرف عائد ہے اور بطور اس کے تابعداری کرنے والوں کی زیادتی کے ضمیر جمع کی لائی گئی ہے۔ یا یہ کہ فرعون سے پہلے لفظ ال جو مضاف تھا محذوف کر دیا گیا ہے۔ اور مضاف الیہ اس کے قائم مقام رکھ دیا ہے۔ ان کا قول بھی بہت دور کا ہے۔

گو امام ابن جریر نے بعض نحویوں سے بھی ان دونوں اقوال کی حکایت کی ہے اور اس سے اگلی آیت جو آ رہی ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل سب مؤمن تھے۔

وَقَالَ مُوسَى يَا قَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ (۸۴)

اور موسیٰؑ نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ اگر تم مؤمن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (۳۹:۳۶)

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (۶۵:۳)

اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔

عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔

فرمان رب ہے:

فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ (۱۱:۱۲۳)

پس تجھے اس کی عبادت کرنی چاہیے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

ایک اور آیت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ هُوَ الرَّحْمَـنُ ءَامَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا (۶۷:۲۹)

آپ کہہ دیجئے کہ وہی رحمٰن ہے۔ ہم تو اس پر ایمان لاچکے اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے

فرماتا ہے:

رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً (۷۳:۹)

مشرق و مغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنا لے۔‏

مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں ۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے۔

تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے:

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (۱:۵)

ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ۔‏

فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (۸۵)

انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا، اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ظالموں کیلئے فتنہ نہ بنا۔‏

بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے ۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے

یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں پاتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔

وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (۸۶)

اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے

اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔

وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۗ

اور ہم نے موسیٰ ؑاور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو

اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو اور نماز کے پابند رہو

بنی اسرائیل کی فرعون اور فرعون کی قوم سے نجات پانا، اس کی کیفیت بیان ہو رہی ہے دونوں نبیوں کو اللہ کی وحی ہوئی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنالو۔ اور اپنے گھروں کو مسجدیں مقرر کر لو۔ اور خوف کے وقت گھروں میں نماز ادا کر لیا کرو۔

چنانچہ فرعون کی سختی بہت بڑھ گئی تھی ۔ اس لیے انہیں کثرت سے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔

یہی حکم اس اُمت کو ہے کہ ایمان دار و صبر اور نماز سے مدد چاہو۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ ہوتی فوراً نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔

یہاں بھی حکم ہوتا ہے کہ اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو،

اسرائیلیوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے ہم اپنی نماز اعلان سے نہیں پڑھ سکتے تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گھر قبلہ رو ہو کر وہیں نماز ادا کر سکتے ہو اپنے گھر آمنے سامنے بنانے کا حکم ہو گیا۔

وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (۸۷)

اور آپ مسلمانوں کو بشارت دے دیں۔‏

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان مؤمنوں کو تم بشارت دو انہیں دار آخرت میں ثواب ملے گا اور دنیا میں ان کی تائید و نصرت ہوگی۔

وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ ۖ

اور موسیٰؑ نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب!

تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے اے ہمارے رب! (اسی واسطے دیئے ہیں کہ) وہ تیری راہ سے گمراہ کریں۔

جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تجبر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بےرحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے ۔

یہ مطلب تو ہے جب لِيُضِلُّوا پڑھا جائے

جو ایک قرأت ہے اور جب لِيُضِلَّوا پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لئے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟

لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ (۷۲:۱۷)

تاکہ ہم اس میں انہیں آزما لیں

رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ

اے ہمارے رب! انکے مالوں کو نیست و نابود کر دے

اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔

چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہوگئیں

حضرت محمد بن کعب اس سورہ یونس کی تلاوت امیرالمؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ اطْمِسْ کیا چیز ہے؟

آپ نے فرمایا ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔

حضرت عمر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔

وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (۸۸)

اور انکے دلوں کو سخت کردے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں

اور دعا کی کہ پروردگار ان کے دل سخت کر دے ان پر مہر لگادے کہ انہیں عذاب دیکھنے تک ایمان لانا نصیب نہ ہو۔

یہ بد دعا صرف دینی حمیت اور دینی دل سوزی کی وجہ سے تھی یہ غصہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر تھا۔ جب دیکھ لیا اور مایوسی کی حد آگئی

اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی دعا ہے کہ الہٰی زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ ورنہ اورں کو بھی بہکائیں گے اور جو نسل ان کی ہوگی وہ بھی انہیں جیسی بے ایمان بدکار ہوگی۔

وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لاَ تَذَرْ عَلَى الاٌّرْضِ ۔۔۔ وَلاَ يَلِدُواْ إِلاَّ فَاجِراً كَفَّاراً (۷۱:۲۶،۲۷)

اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑ

اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراہ کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے۔‏

قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (۸۹)

حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی، سو تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں ۔

جناب باری تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارون ؑدونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔

اسی وقت وحی آئی کہ تمہاری یہ دعا مقبول ہو گئی اور اس سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف حضرت موسیٰؑ تھے آمین کہنے والے حضرت ہارونؑ تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔

پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ۔

اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔

وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا ۖ

ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا

فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہو نے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔

بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر انکے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔

بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے ، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔

فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ (۲۶:۶۱)

پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم یقیناً پکڑ لئے گئے

بنی اسرائیل گھبرا گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے لو اب پکڑ لئے گئے کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا۔

كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ (۲۶:۶۲)

ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راہ دکھائے گا

تم بےفکر رہو۔ وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔

اسی وقت وحی ربانی آئی کہ اپنی لکڑی دریا پر مار دے۔ آپ نے یہی کیا۔ اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہو گیا۔

فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى (۲۰:۷۷)

اور ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا لےپھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطرہ ہوگا نہ ڈر ۔

ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو نے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔

ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔ بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔

انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔

فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا ۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آگئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔

اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھہر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔

حضرت میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھے کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔

پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہوگئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا ۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کرکے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کردئیے۔

حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (۹۰)

یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا میں ایمان لاتا ہوں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔‏

فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔

فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ ۔۔۔ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ (۴۰:۸۴،۸۵)

ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان لائے اور جن جن کو ہم شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا۔‏

اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آرہا ہے اور اس جگہ کافر خراب و خستہ ہوئے۔

آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ (۹۱)

(جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے؟ اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا ۔

ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔

اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا۔ ملک میں فساد مچاتا رہا۔ خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا۔ لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا۔ قیامت کے دن بےیارومددگار رہے گا۔

وَجَعَلْنَـهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيـمَةِ لاَ يُنصَرُونَ (۲۸:۴۱)

اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کئے جائیں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہو نے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے۔

ابن عباس فرماتے ہیں:

ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔ واللہ اعلم

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ

سو آج ہم تیری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لئے نشان عبرت جو تیرے بعد ہیں

کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہو گیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔

چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الہٰی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔

وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ (۹۲)

اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔‏

باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔

آپ ﷺنے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو۔

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّى جَاءَهُمُ الْعِلْمُ ۚ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا

اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آس پاس انہیں جگہ دی۔ تمام ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئی۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی۔ جیسے قرآن میں بیان ہے

ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کر دیا۔ برکت والی زمین انکے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا۔ فرعون، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں

وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ ۔۔۔ وَمَا كَانُواْ يَعْرِشُونَ (۷:۱۳۷)

اور ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے اس سرزمین کے پورب پچھم کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا

اور ہم نے فرعون کے اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے سب کو درہم برہم کر دیا ۔

اور آیتوں میں ہے:

فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ ـ وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ـ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ (۲۶:۵۷،۵۹)

بالآخر ہم نے انہیں باغات سے اور چشموں سےاور خزانوں سےاور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا اسی طرح ہوا اور ہم نے ان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا

اور آیتوں میں ہے:

كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ـ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ـ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ (۴۴:۲۵،۲۷)

وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔‏ اور کھتیاں اور راحت بخش ٹھکانے۔‏ اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کر رہے تھے۔‏

لیکن بنی اسرائیل موسیٰ سے ہمیشہ ہی بیت المقدس کا مطالبہ کرتے رہتے تھے جوحضرت خلیل الرحمن علیہ السلام کا وطن ہےوہاں عمالقہ کی قوم کا قبضہ تھا ان سے لڑنے کے لئے کہا گیا تو وہ انکار کر بیٹھے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا۔ وہیں حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا۔

ان کے بعد یہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا۔

یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ کے کسی حواری پر آپ کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ کے دھوکے میں اسے قتل کر دیا اور سولی پر لٹکا دیا۔

یقیناً جناب روح اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطنیہ نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا۔

دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا۔ حیلہ اور مکر وفریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کرکے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا۔

اس نے کلیسا، گرجے ، خانقاہیں، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا۔ جو بےچارے موحد، متبع انجیل اور سچے تابعدار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دن پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کر دیا۔ یہ لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اُٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھا گئے۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں۔

بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی شاندار، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں۔ صلیب کی پرستش ، مشرق کا قبلہ، کنیسوں کی تصویریں، سؤر کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کر دیا۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں۔

اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کیا۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا۔

الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا ًبھی حلال اور طبعاً بھی طیب۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہو نے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کر دی۔ ایک دو نہیں بہتر(۷۲) فرقے قائم ہوگئے۔

اللہ اپنے رسول پر درود سلام نازل فرمائے آپ نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا :

میری اُمت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہو جائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے

پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں؟

فرمایا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مستدرک حاکم)

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (۹۳)

یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن پر وہ اختلاف کرتے تھے۔‏

اللہ فرماتا ہے ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا

فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ

پھر اگر آپ اس کی طرف سے شک میں ہوں جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو آپ سے پہلی کتابوں کو پڑھتے ہیں،

جب یہ آیت اتری تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔

پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی اُمت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں ۔

جیسےاس آیت میں ہے:

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ (۷:۱۵۷)

جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں

ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہو نے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور قیام حجت کے باوجود ایمان نہیں لاتے۔ ۔

لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (۹۴)

بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آئی ہے۔ آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔

شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ (۹۵)

اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا، کہیں آپ خسارہ پانے والوں میں سے نہ ہوجائیں

پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ (۹۶)

یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔‏

اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر حق کی حجت قائم ہو چکی ہے

وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (۹۷)

گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں ۔

لیکن کیسا ہی ثبوت ان کو کیوں نہ ملے یہ اس وقت ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ عذاب کو نہ دیکھ لیں یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بےسود ہوگا۔

فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَ (۴۰:۸۵)

جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بددعا کی تھی۔

رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ (۱۰:۸۸)

اے ہمارے رب! انکے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور انکے دلوں کو سخت کردے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں

اسی طرح فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةَ ۔۔۔ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ (۶:۱۱۱)

اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھی بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو لا کر جمع کر دیتے ہیں تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاتے

ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیادہ لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ

چنا نچہ کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ ایمان لانا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس ؑکی قوم کے

ابن مسعودؓ فَلَوْلَا كَانَتْ کو فَلھَلَا كَانَتْ پڑھتے ہیں۔

کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی پر کبھی ایمان نہیں لائے۔ یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔

سورہ یٰسین میں فرمایا :

يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (۳۶:۳۰)

(ایسے) بندوں پر افسوس! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو۔‏

ایک آیت میں ہے:

كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (۵۱:۵۲)

اس طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔‏

تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکشوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے۔

وَكَذَلِكَ مَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ ۔۔۔ وَإِنَّا عَلَى ءَاثَـرِهِم مُّقْتَدُونَ (۴۳:۲۳)

اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راہ پر اور) ایک دین پر پایا

اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔‏

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

مجھ پر انبیاء پیش کئے گئے کسی نبی کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا۔

پھر آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت کی کثرت کا بیان کیا۔

پھر اپنی اُمت کا، اس سے بھی زیادہ ہونا زمین کے مشرق مغرب کی سمت کو ڈھانپ لینا بیان فرمایا۔

الغرض تمام انبیاء میں سے کسی کی ساری اُمت نے انہیں نبی نہیں مانا۔ سوائے اہل نینویٰ کے جو حضرت یونس علیہ السلام کی اُمت کے لوگ تھے۔ یہ بھی اس وقت جب نبی علیہ السلام کی زبان سے عذاب کی خبر معلوم ہوگئی۔ پھر اس کے ابتدائی آثار بھی دیکھ لیے۔ ان کے نبی علیہ السلام انہیں چھوڑ کر چلے بھی گئے۔ اس وقت یہ سارے کے سارے اللہ کے سامنے جھک گئے اس سے فریاد شروع کی، اس کی جناب میں عاجزی اور گریہ و زاری کرنے لگے، اپنی مسکینی ظاہر کرنے لگے۔ اور دامن رحمت سے لپٹ گئے۔ سارے کے سارے میدان میں نکل کھڑے ہوئے اپنی بیویوں، بچوں اور جانوروں کو بھی ساتھ اٹھا کر لے گئے۔ اور آنسوؤں کی جھڑیاں لگا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے دعائیں مانگنے لگے کہ یا رب عذاب ہٹا لے۔

لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ (۹۸)

جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لئے زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔‏

رحمت رب جوش میں آئی ، پروردگار نے ان سے عذاب ہٹا لیا اور دنیا کی رسوائی کے عذاب سے انہیں بچالیا۔ اور ان کی عمر تک کی انہیں مہلت دے دی اور اس دنیا کا فائدہ انہیں پہنچایا۔

یہاں جو فرمایا کہ دنیا کا عذاب ان سے ہٹا لیا۔ اس سے بعض نے کہا ہے کہ اُخروی عذاب دور نہیں۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لے کے دوسری آیت میں ہے:

فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ (۳۷:۱۴۸)

وہ ایمان لائے اور ہم نے انہیں زندگی کا فائدہ دیا۔

اس سے ثابت ہوا کہ وہ ایمان لائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان آخرت کے عذاب سے نجات دینے والا ہے۔ واللہ اعلم۔

حضرت قتادہ فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے:

کسی اہل کفر کی بستی کا عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا ان کے لیے نفع بخش ثابت نہیں ہوا۔ سوائے قوم یونس علیہ السلام کی قوم کے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نبی ان میں سے نکل گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے، اس وقت توبہ استغفار کرنے لگے ٹاٹ پہن کر خشوع و خضوع سے میلے کچیلے میدان میں آکھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے دور کردیا۔ جانوروں کے تھنوں سے ان کے بچوں کو الگ کر دیا۔ اب جو رونا دھونا اور فریاد شروع کی تو چالیس دن رات اسی طرح گزار دیئے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی سچائی دیکھ لی۔ ان کی توبہ و ندامت قبول فرمائی اور ان سے عذاب دور کردیا،

یہ لوگ موصل کے شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے۔

غرض یہ ہے کہ یہ عذاب ان کے سروں پر عذاب رات کی سیاہی کے ٹکڑوں کی طرح گھوم رہا تھا ان کے علماء نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جنگل میں نکل کھڑے ہو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اپنے عذاب کو دور کر دے اور یہ کہو

یاحی حین لاحی یاحی محیی الموتی یاحی لا الہ الا انت

قوم یونس کا پورہ قصہ سورہ الصافات کی تفسیر میں انشاء اللہ العزیز ہم بیان کریں گے۔

وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ

اور اگر آپ کا رب چاہتا تمام روئے زمین کے لوگ سب کے سب ایمان لے آتے

اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ ۔۔۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (۱۱:۱۱۸،۱۱۹)

اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کر دیتا۔ وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے۔‏ بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے،

انہیں تو اس لئے پیدا کیا ہے، اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا

کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔

أَفَلَمْ يَاْيْـَسِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن لَّوْ يَشَآءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا (۱۳:۳۱)

تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔

اور فرمایا:

يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ (۳۵:۸)

جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے۔

أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (۹۹)

تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کر سکتے ہیں یہاں تک کہ وہ مؤمن ہی ہوجائیں۔‏

یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے۔ تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کردے گا؟

جیسے فرمایا:

فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ (۳۵:۸)

پس آپ ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالیں

اور فرمایا:

لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ (۲:۲۷۲)

انہیں ہدایت پر کھڑا کرنا تیرے ذمے نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے

اور فرمایا:

لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ (۲۶:۳)

ان کے ایمان نہ لانے پر شاید آپ تو اپنی جان کھو دیں گے

تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔

إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ (۲۸:۵۶)

آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے

یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے، تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے

فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (۱۳:۴۰)

یا آپ کو ہم فوت کرلیں تو آپ پر تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔

حساب ہم خود لے لیں گے، تو تو نصیحت کر دینے والا ہے۔ ان پر داروغہ نہیں۔

فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ ـ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ (۸۸:۲۱،۲۲)

پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر دروغہ نہیں ہیں۔‏

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ

حالانکہ کسی شخص کا ایمان لانا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔

اللہ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے۔ اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مؤمن نہیں ہو سکتا۔

وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (۱۰۰)

اور اللہ تعالیٰ بےعقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے

وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کر دیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے،

وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ۔

قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ

آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی ، کبھی راتوں کاچھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن و زینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہو جانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اُگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا ، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا،

وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ (۱۰۱)

اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں۔‏

یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری ، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت ، اس کی اطاعت، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی؟

یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بے ایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں۔ آسمان انکے سر پر اور زمین انکے قدموں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے، دلیل و سند ان کے آگے، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آچکا ہے۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مؤمن نہیں ہوں گے۔

فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ

سو وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں۔

قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ (۱۰۲)

آپ فرما دیجئے کہ اچھا تو تم انتظار میں رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔‏

اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ۔

ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِينَ (۱۰۳)

پھر ہم اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کو بچا لیتے تھے، اسی طرح ہمارے ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔‏

انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کر لیا ہے۔

جیسے آیت میں ہے:

كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (۶:۵۴)

تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کر لیا ہے

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے:

اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے۔

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو

یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہو جاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔

وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ ۖ

لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے

میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہو نے والے ہو۔

اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت و قدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔

وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (۱۰۴)

اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے رہوں۔‏

یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔

وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (۱۰۵)

اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر (اس) دین کی طرف کر لینا اور کبھی مشرکوں میں سے نہ ہونا۔‏

شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ

اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے،

حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مؤمن رہوں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں ۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔

فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ (۱۰۶)

پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔

پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔

وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ

اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہیے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں

ایک حدیث میں ہے:

اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھر پور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو۔

يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (۱۰۷)

وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دےاور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے۔

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ لوگوں کو آپ خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں ، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے

فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ

اس لئے جو شخص راہ راست پر آجائے سو وہ اپنے واسطے راہ راست پر آئے گا

جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔

وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ

اور جو شخص بےراہ رہے گا تو اسکا بےراہ ہونا اسی پر پڑے گا

اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔

وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ (۱۰۸)

اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔‏

میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔

وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ ۚ

اور آپ اس کی پیروی کرتے رہیے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے

ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔

وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (۱۰۹)

اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں اچھا ہے۔‏

وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

***********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana,

Lahore, Pakistan

Visits wef Mar 2019

free hit counter