Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

Surah Al An'am

Alama Imad ud Din Ibn Kathir

Translated by Muhammad Sahib Juna Garhi

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے


الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کو بنایا

اللہ تعالیٰ اپنے نفس کریمہ کی مدح فرماتاہے کہ اس نے آسمانوں کو زمینوں کو پیدا کیا۔ گویا کہ بندوں کو حمد کرنا سکھلا رہا ہے۔ دن میں نور کو اور رات میں تاریکی کو اپنے بندوں کو ایک منفعت قرار دیتا ہے ۔

یہاں لفظ نور کو واحد لایا گیا ہے اور ظلمات کو جمع لایا گیا ہےکیونکہ اشرف چیز کو واحد ہی لاتے ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے

ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ (۱۶:۴۸) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ (۶:۶۰) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا ۔

ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (۱)

پھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔‏

اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے ،

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِنْدَهُ ۖ ثُمَّ أَنْتُمْ تَمْتَرُونَ (۲)

وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر ایک وقت معین کیا اور دوسرا معین وقت خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے پھر بھی تم شک رکھتے ہو۔‏

اس رب نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے ، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے ،

پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش ، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ ،

ابن عباسؓؓ اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے کہ قَضَى أَجَلًا سے مراد مدت دنیا ہے اور أَجَلٌ مُسَمًّى سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ (۶:۶۰) سے ہو ،

ابن عباسؓؓ سے مروی ہے کہ ثُمَّ قَضَى أَجَلًا سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے ، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور أَجَلٌ مُسَمًّى سے مراد موت ہے

یہ قول غریب ہے

عِنْدَهُ سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے جیسے فرمایا :

إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلاَّ هُوَ (۷:۱۸۷)

آپ فرما دیجئے اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا

سورہ نازعات میں بھی فرمان ہے :

يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَٮٰهَا ـ فِيمَ أَنتَ مِن ذِكۡرَٮٰهَآ ـ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَہَٮٰهَآ (۷۹:۴۲،۴۴)

لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟

یعنی لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے،

باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں

وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ (۳)

اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، وہ تمہارے پوشیدہ احوال کو بھی اور تمہارے ظاہر احوال کو بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اس کو بھی جانتا ہے ۔

آیت زیر ذکر میں ارشاد ہوتا ہے کہ تم قیامت کے بارے میں شک کرتے ہو وہ تمہارے پوشیدہ احوال کو بھی اور تمہارے ظاہر احوال کو بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اس کو بھی جانتا ہے ۔

یہ جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے ، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے ، نعوذ باللہ اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے،

آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی ، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی ، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں ، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے:

وَهُوَ الَّذِى فِى السَّمآءِ إِلَـهٌ وَفِى الاٌّرْضِ إِلَـهٌ (۴۳:۸۴)

وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے ،

یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے ،

اب اس آیت کا اور جملہ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا

اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ، جانتا ہے ۔ پس يَعْلَمُ متعلق ہو گا فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی

وَهُوَ اللَّهُ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ

ایک قول یہ بھی ہے کہ وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ

امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں ۔

پھر فرماتا ہے تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے ۔

وَمَا تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ (۴)

اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں‏

مشرکین معاندین کے بارے میں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ کی کوئی آیت ان کے پاس آتی ہے یعنی کوئی معجزہ یا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کوئی واضح دلیل یا رسول اللہ ﷺ کی کوئی نشانی۔ تو یہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اور اس کی پرواہ تک نہیں کرتے۔

فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (۵)

انہوں نے اس سچی کتاب کو بھی جھٹلایا جب کہ وہ ان کے پاس پہنچی، سو جلد یہی ان کو خبر مل جائے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ مذاق کیا کرتے تھے ۔

اور جب حق بات ان کے پاس آئی تو انکار کرنے لگے۔ اس کے بارے میں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔

یہ بات ان کے لئے تہدید اور وعید شدید ہے۔ کیونکہ انہوں نے حق کو جھٹلا دیا۔ اب تکذیب کا نتیجہ انہیں دیکھنا ضروری ہے۔

أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی

اللہ تعالیٰ انہیں سمجھا رہا ہے اور ڈرا رہا کہ پہلے کے لوگوں نے بھی جو ان سے زیادہ قوی اور کثیر التعداد تھے اور اموال و اولاد بھی زیادہ رکھتے تھے ۔ دولت و حکومت بھی حاصل تھی۔ پھر بھی انہیں کیسا عذاب پہنچا تھا اسی قسم کے عذاب سے تمہیں بھی سابقہ پڑ سکتا ہے

وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ

اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں۔

بارشیں پے درپے حسب ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے ۔

فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ (۶)

پھر ہم نے ان کو گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کر دیا ۔

جب وہ تکبر میں آ گئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کر دیئے گئے ۔ تہس نہس ہو گئے ، بھوسی اڑ گئی ۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئےاور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا ۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلتے تو یہی سلوک ان کے ساتھ بھی ہوتا، اتنی نظیریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے ، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ ۔

اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں ۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو ، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے ۔

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (۷)

اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ پر نازل فرماتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے

کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں ۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کر لیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے ، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں ، جیسے اور جگہ ہے:

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ـ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ (۱۵:۱۴،۱۵)

اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس پر چڑھنے بھی لگ جائیں تب بھی کہیں گے آنکھیں متوالی ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

اور آیت میں ہے:

وَإِنْ يَرَوْا كِسْفًا مِنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَرْكُومٌ (۵۲:۴۴)

اور اگر وہ آسمان سے گرتا ہوا ٹکڑا بھی دیکھ لیں تو کہیں گے کہ تہہ بہ تہہ بادل ہیں۔

غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا،

وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ۖ

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا

یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟

وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُونَ (۸)

اور اگر ہم فرشتہ بھی بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہو جاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی ۔

اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے:

مَا نُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ (۱۵:۸)

فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں ۔ اگریہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے

اور جگہ ہے :

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَـئِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ (۲۵:۲۲)

جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گنہگار کو کوئی بشارت نہیں ہو گی،

وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ (۹)

اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اس کو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب کا اشکال کر رہے ہیں

پھر فرماتا ہے بالفرض رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کر سکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں ۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہو جائے

اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانیں یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہےاور آیت میں ہے:

قُل لَوْ كَانَ فِى الاٌّرْضِ مَلَـئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً (۱۷:۹۵)

آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے

پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں ۔چنانچہ ارشاد ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ (۳:۱۶۴)

بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے

مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لئے اسے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا ،

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (۱۰)

اور واقع آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا مذاق اڑاتے تھے۔‏

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں آپ سے پہلے بھی جتنے انبیاء آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالآخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہو گئے اسی طرح آپ کے ساتھ بھی جو لوگ بے ادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے ،

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (۱۱)

آپ فرما دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والے کا کیا انجام ہوا۔‏

لوگو! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بد سلوکی کی ، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے ، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے ۔

قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلْ لِلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۚ

آپ کہئے کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملکیت ہے، آپ کہہ دیجئے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے، اللہ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے

آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے ، سب اللہ کا ہے ، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے ،

جیسے فرمایا:

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ (۷:۱۵۶)

اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہےتو وہ رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے :

اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ،

لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ

تم کو اللہ قیامت کے روز جمع کرے گا، اس میں کوئی شک نہیں،

پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے ،

حضور ﷺسے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہو گا؟

آپ ﷺنے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان حوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی ۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لئے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ،

یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب،

ترمذی شریف کی حدیث میں ہے:

ہر نبی کے لئے حوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ،

الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۱۲)

جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا ہے اور وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‏

جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں،

وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (۱۳)

اور اللہ ہی کی ملک ہیں وہ سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہی بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔‏

زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے ، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے ، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے ۔

پھر اپنے نبی کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے حکم دیتا ہے کہ

قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ

آپ کہئے کہ کیا اللہ کے سوا، جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو کہ کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی کھانےکو نہیں دیتا اور کسی کو معبود قرار دوں

آپ اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے ،

قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَـهِلُونَ (۳۹:۶۴)

آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو ۔‏

فرماتا ہے میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے ،

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ (۵۱:۵۶)

میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔

ایک قرأت میں وَلَا يَطْعَمُ بھی ہے یعنی وہ خود نہیں کھاتا،

قبا کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، جب حضور کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا،

اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں ، ہم اس کی نا شکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بےنیاز ہو سکتے ہیں،

الحمد للہ اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا ، کپڑے پہنائے ، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی ، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی ۔اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ،

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ

آپ فرما دیجئے کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں

پھر فرماتا ہے کہ اے پیغمبر اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس اُمت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں،

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (۱۴)

اور تو مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونا۔‏

پھر فرماتا ہے خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا ،

قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (۱۵)

آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔

یہ بھی اعلان کر دیجئے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے

مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ ۚ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ (۱۶)

جس شخص سے اس روز وہ عذاب ہٹا دیا جائے تو اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے۔‏

جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے

اور آیت میں فرمایا ہے:

فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ (۳:۱۸۵)

پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہوگیا

وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۱۷)

اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہرچیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔

اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا، اسی آیت جیسی یہ آیت ہے :

مَّا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلاَ مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلاَ مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ (۳۵:۲)

اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کیلئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے تو اسکے بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں

اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا ، صحیح حدیث میں ہے:

رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ،

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (۱۸)

اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔‏

فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے ، سب کی گردنیں اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں ، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے ، حکم اسی کا چلتا ہے ، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے ،اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے ، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے ، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے،

قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ

آپ کہیں کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے،

پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟

قُلِ اللَّهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ

آپ کہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے

جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے ،

وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ۚ

اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں

جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے ،میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے ، جیسے اور آیت میں ہے:

وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ (۱۱:۱۹)

اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے

حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا ۔

حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا ۔

حضرت ربیع بن انس کا قول ہے:

اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں

أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى ۚ قُلْ لَا أَشْهَدُ ۚ

کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا۔

مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے:

فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ (۶:۱۵۰)

پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو آپ اس کی شہادت نہ دیجئے

قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (۱۹)

آپ فرما دیجئے کہ بس وہ تو ایک ہی معبود ہے اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔‏

یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں ۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ۘ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ لوگ رسول کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں،

پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں ، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی اُمت کی صفت ، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں ،

الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۲۰)

جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔

پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں ، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا ، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے ،

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (۲۱)

اور اس سے زیادہ بے انصاف کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا بتلائے ایسے بے انصافوں کو کامیابی نہ ہوگی ۔

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟

اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے ، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ (۲۲)

وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکا، جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے۔‏

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟سورۃ قصص کی اس آیت میں بھی یہ موجود ہے ۔

وَيَوْمَ يُنَـدِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ (۲۸:۶۲)

اور جس دن اللہ تعالیٰ انہیں پکار کر فرمائے گا کہ تم جنہیں اپنے گمان میں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے کہاں ہیں

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (۲۳)

پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے ۔

اس آیت میں جو لفظ فِتْنَتُهُمْ ہے اس کا مطلب فتنہ ہے اور اس سے مراد حجت و دلیل ، عذرو معذرت ، ابتلا ءاور جواب ہے ۔

حضرت ابن عباسؓؓ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل صلاۃ کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہو رہا ہے تو آپس میں کہیں گے کہ آؤ ہم شرک کا انکار کر دیں۔

چنانچہ وہ اپنے مشرک ہونے کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبانوں پر مہر لگا دے گا تو پھر ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے ۔

یہ توجیہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ نے فرمایا اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا ؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بےعلمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں ۔

یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے ۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں ۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ (۵۸:۱۸) ہے ۔

انْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ ۚ

ذرا دیکھو تو انہوں نے کس طرح جھوٹ بولا اپنی جانوں پر

دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟

وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (۲۴)

اور جن چیزوں کو وہ جھوٹ موٹ تراشا کرتے تھے وہ سب غائب ہوگئے ۔

اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہو گئے؟ چنانچہ دوسری جگہ ہے:

ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ ـ مِن دُونِ اللَّهِ قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً (۴۰:۷۳،۷۴)

پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جنہیں تم شریک کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟‏ جو اللہ کے سوا تھے وہ کہیں گے کہ وہ تو ہم سے بہک گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی پکارتے ہی نہ تھے

وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں

فرماتا ہے بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے ۔

وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ

اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے اس سے کہ وہ اسکو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے

ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں، جیسے اور جگہ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی:

وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَآءً وَنِدَآءً (۲:۱۷۱)

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی سنتے ہیں (سمجھتے نہیں)

وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ

اور اگر وہ لوگ تمام دلائل کو دیکھ لیں تو بھی ان پر کبھی ایمان نہ لائیں،

یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بےسمجھ بھی ہیں، اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا،

وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ (۸:۲۳)

اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا

حَتَّى إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (۲۵)

یہاں تک کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے خواہ مخواہ جھگڑتے ہیں یہ لوگ جو کافر ہیں یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے چلی آرہی ہیں

ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لئے گئے ہیں

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ۖ

اور یہ لوگ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور دور رہتے ہیں

اس آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں حضور ﷺکی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے ، جیسے کہ ابو طالب جو حضور ﷺکا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا ۔ آپ کے دس چچا تھے جو علانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے ۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔

وَإِنْ يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (۲۶)

اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے ۔

افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پر پڑ رہا ہے ۔

وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (۲۷)

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں تو کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہوجائیں

کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں،

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ

بلکہ جس چیز کو اس سے قبل چھپایا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آگئی ہے

حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بے ایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی ،جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا :

ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ ۔۔۔ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ (۶:۲۳،۲۴)

پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے ۔

ذرا دیکھو تو انہوں نے کس طرح جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور جن چیزوں کو وہ جھوٹ موٹ تراشا کرتے تھے وہ سب غائب ہوگئے ۔

اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے ، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں ۔

لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ (۱۷:۱۰۲)

یہ تو تجھے علم ہو چکا ہے کہ آسمان و زمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں،

خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً (۲۷:۱۴)

انہوں نے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہراً مؤمن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو ۔اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے ۔ ملاحظہ ہو سورۃ عنکبوت جہاں صاف فرمان ہے:

وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ (۲۹:۱۱)

جو لوگ ایمان لائے انہیں بھی ظاہر کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی ظاہر کر کے رہے گا

پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہو جائیں گے ، واللہ اعلم،

وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (۲۸)

اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقیناً یہ بالکل جھو ٹے ہیں

اب ان کی تمنا ہو گی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں

رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ (۲۳:۱۰۷،۱۰۸)

اے ہمارے رب ہمیں اس جہنم سے نکال لے اگر ہم دوبارہ تیری نافرمانی کریں تو یقیناً ظالم ہیں

اللہ تعالیٰ فرما‏ئے گا اسی میں ذلیل و خوار پڑے رہو مجھ سے بات نہ کرو

یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہو گی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لئے ہو گی ،

رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (۳۲:۱۲)

اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا پس ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آ گیا ہے۔

چنانچہ عالم الغیب اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہو جائیں گے ۔

وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ (۲۹)

اور یہ کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہماری زندگی ہے اور ہم زندہ نہ کئے جائیں گے

ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے ۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے ، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں ۔ نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے

وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ ۚ

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اللہ فرمائے گا کیا یہ امر واقعی نہیں ہے؟

پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے ۔اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہو گیا؟اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں؟

قَالُوا بَلَى وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ (۳۰)

وہ کہیں گے بیشک قسم اپنے رب کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اب اپنے کفر کے عوض عذاب چکھو ۔‏

اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو۔

أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ (۵۲:۱۵)

(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے نہیں

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ ۖ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً

بیشک خسارے میں پڑے وہ لوگ جس نے اللہ سے ملنے کی تکذیب کی، یہاں تک کہ جب وہ معین وقت ان پر دفعتاً آپہنچے گا،

قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ ۚ

کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہوئی، اور حالت ان کی یہ ہوگی کہ وہ اپنے بار (بوجھ)اپنی پیٹھوں پر لادے ہونگے،

قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا ۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے ۔

فِيهَا کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے حیاۃ ہو اور ممکن ہے اعمال ہو اور ممکن ہے دار آخرت ہو ، یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ (۳۱)

خوب سن لو کہ بری ہوگی وہ شے جس کو وہ لادیں گے

آہ! کیا برا بوجھ ہے؟

حضرت ابو مرزوق فرماتے ہیں:

کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک ، خوفناک اور بد صورت ہو گا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بد بو آ رہی ہو گی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے ؟

وہ کہے گا خوب! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں؟

یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بد صورت کریہہ منظر اور تیز بد بو والا ہے تجھ سے زیادہ بد صورت کوئی بھی نہ ہو گا ،

وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا ۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہو جاؤں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جائے گا

یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے،

حضرت سدی فرماتے ہیں:

جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بد صورت سخت بد بودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بد صورت ہے بد بو دار ہے

یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے

وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے ،

یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے

وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون؟

یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں ۔

وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (۳۲)

اور دنیاوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو لعب کے اور دار آخرت متقیوں کے لئے بہتر ہے، کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں۔‏

دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا ، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم ، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہو گیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے ؟

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ (۳۳)

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو انکے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‏

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں ،فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو ، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟

فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ (۳۵:۸)

پس آپ ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالیں

کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے ۔

لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ (۲۶:۳)

ان کے ایمان نہ لانے پر شاید آپ تو اپنی جان کھو دیں گے

یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں ۔

فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً (۱۸:۶)

پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے‏

چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے ، حکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ،

ابن ابی حاتم میں ہے:

ابوجہل کو حضور ﷺسے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بےدین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں ۔ ہم صرف خاندانی بناء پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے ۔ ہم نے آج تک نبی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی ۔ الغرض حضور کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے،

امام محمد بن اسحق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے:

حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل ، ابو سفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بےخبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے ۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور سے قرآن سننے کے لئے چپ چاپ آ گئے تھے۔ اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے ۔

دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کر کے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہو گی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا ۔ اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا ۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے ۔

لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا ، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔

صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابو سفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابو حنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟

اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں ۔

اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے ،

اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ یہ کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے ، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا ۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے ، اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے ، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے ۔

اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا ۔

اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے:

بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننھیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے ، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آ گئی تو ان میں تو تم ہی ہو ، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا،

اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا ،

اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا ۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھر یرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لئے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟

اسی کا ذکر اس آیت میں ہے ، پس آیات اللہ سے مراد ذات حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے ۔

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ

اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ کہ ہماری امداد ان کو پہنچی

پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کرے گا اور آپ کے مخالفین مغلوب ہوں گے ۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ کی ہی ہو گی ۔

وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ

اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں

رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتاجیسے اور آیت میں ہے:

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ـ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ ـ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ (۳۷:۱۷۱،۱۷۳)

اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے۔‏ کہ یقیناً وہ ہی مدد کئے جائیں گے۔‏ اور ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا ۔

اور آیت میں فرماتا ہے:

كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ (۵۸:۲۱)

اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے ،

وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ (۳۴)

اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں ۔‏

ان نبیوں کے اکثر قصے آپ کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ کو پہنچ چکے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی ،

وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ ۚ

اگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ لو اور پھر کوئی معجزہ لے آؤ

پھر فرماتا ہے اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھو دلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ ۔

میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے ۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھتا پھرے،

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ (۳۵)

تو اور اگر اللہ کو منظور ہو تو ان سب کو جمع کر دینا سو آپ نادانوں میں سے نہ ہو جایئے ۔

یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیےجیسے اور آیت میں ہے :

وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِي الأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا (۱۰:۹۹)

اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مؤمن بنا دیتا،

آپ کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق اسی کی رفیق ہو گئی ۔

إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ

وہ ہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں

پھر فرمایا کہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ کے کام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے ، جیسے اور آیت میں ہے:

لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّاً وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَـفِرِينَ (۳۶:۷۰)

یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو ، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے ۔

وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (۳۶)

اور مردوں کو اللہ زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف لائے جائیں گے

اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے ۔

مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی ۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے ۔

وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۚ

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے

کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ ،

لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا (۱۷:۹۰)

انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان لانے کے نہیں تا وقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کر دیں۔‏

قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۳۷)

آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کو بیشک پوری قدرت ہے اس پر کہ وہ معجزہ نازل فرما دے لیکن ان میں اکثر بےخبر ہیں

فرماتا ہے کہ قدرت الہٰی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہٰیہ کا تقاضا یہ نہیں ۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہٰیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے

وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ ۔۔۔ وَمَا نُرْسِلُ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ تَخْوِيفًا (۱۷:۵۹)

ہمیں نشانات (معجزات) کے نازل کرنے سے روک صرف اسی کی ہے کہ اگلے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں

ہم نے ثمودیوں کو بطور بصیرت کے اونٹنی دی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں۔‏

ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں،

إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ (۲۶:۴)

اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہوجاتیں

وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ ۚ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ۚ

اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی

چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک اُمت ، انسان ایک اُمت، جنات ایک اُمت وغیرہ،

یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں ،سب پر اللہ کا علم محیط ہے ، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے ۔ جیسے فرمان ہے :

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ (۱۱:۶)

زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔‏

ان کے نام، ان کی گنتی ، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں اور مقام پر ارشاد ہے:

وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيم(۲۹:۶۰)

بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے ،

ابو یعلی ٰمیں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے :

حضرت عمر ؓکی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ کو بہت خیال ہوا اور شام عراق یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟

یمن و الا قاصد جب واپس آیا تو آپ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور حضرت فاروق اعظم کے سامنے ڈال دیں

آپ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار اُمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ۔ ان تمام اُمتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ،

ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (۳۸)

پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے ۔

پھر فرماتا ہے سب کا حشر اللہ کی طرف ہے یعنی سب کو موت ہے ، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے ، ایک قول تو یہ ہے ،

دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے جیسے فرمایا:

وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (۸۱:۵)

اور جب وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے

مسند احمد میں ہے:

دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر ؓسے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟

جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟

فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ،

ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ،

مسند کی اور روایت میں ہے کہ بےسینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے:

تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی ۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہو گا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا تم مٹی ہو جاؤ ۔

اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ۔

صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے ۔

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ ۗ

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ تو طرح طرح کی ظلمتوں میں بہرے گونگے ہو رہے ہیں

کافر اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں ۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں ۔ جیسے سورہ بقرہ کی ابتداء میں ہے:

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْتَوْقَدَ نَاراً ۔۔۔ فَهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ (۲:۱۷،۱۸)

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا،

جو نہیں دیکھتے۔ بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وہ نہیں لوٹیں گے (سیدھے راستے کی طرف)

اور آیت میں ہے:

أَوْ كَظُلُمَـتٍ فِى بَحْرٍ لُّجِّىٍّ يَغْشَـهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ ۔۔۔ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِن نُورٍ (۲۴:۴۰)

یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔

الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پے درپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے اور بات یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی۔‏

مَنْ يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۳۹)

اللہ جس کو چاہے بے راہ کر دےجس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا دے۔‏

پھر فرمایا ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کر دے ۔

قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (۴۰)

آپ کہئے کہ اپنا حال تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا کوئی عذاب آپڑے یا تم پر قیامت ہی آپہنچے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ اگر تم سچے ہو۔‏

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے ،

اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے

اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے ، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے

بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ (۴۱)

بلکہ خاص اسی کو پکارو گے، پھر جس کے لئے تم پکارو گے اگر وہ چاہے تو اس کو ہٹا بھی دے اور جن کو شریک ٹھہراتے ہو ان سب کو بھول بھال جاؤ گے

پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو، چنانچہ اور آیت میں ہے:

وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ (۱۷:۶۷)

اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ (۴۲)

اور ہم نے اور اُمتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا، تاکہ وہ اظہار عجز کر سکیں۔‏

ہم نے اگلی اُمتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سمانے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں،

فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا

سو جب ان کو ہماری سزا پہنچتی تھی تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہیں کی،

پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟مسکینی کیوں نہ جتائی ؟

وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۴۳)

لیکن ان کے قلوب سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کر دیا

بلکہ انکے دل سخت ہو گئے ، شرک ، دشمنی ، ضد ، تعصب ، سرکشی ، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے،

فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ

پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جس کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہرچیز کے دروازے کشادہ کر دیئے

جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں ، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے

حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ (۴۴)

یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہوگئے۔‏

یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اتر گئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے ،

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے:

جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے ۔

پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں

رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں ،

حضرت قتادہ کا فرمان ہے:

جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لئے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نا فرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نا فرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ ۔ اس لئے کہ یہ تو بدکار اور بےنصیب لوگوں کا کام ہے ،

زہری فرماتے ہیں ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے ،

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ،

پھر حضور نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی

اور حدیث میں ہے:

جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں نا گہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض نا امید ہو جاتے ہیں۔ (مسند)

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۴۵)

پھر ظالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔

پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے ۔

تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُمْ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ ۗ

آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت اور بصارت بالکل لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے کہ یہ تم کو پھیر دے۔

فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے:

هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ (۶۷:۲۳)

اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں،

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے ، جیسے فرمان ہے:

أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ والاٌّبْصَـرَ (۱۰:۳۱)

وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے

اور فرمان ہے:

وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ (۸:۲۴)

جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے ،

انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ (۴۶)

آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں ۔

یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟

یعنی کوئی نہیں رکھتا ، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں ،

قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ (۴۷)

آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آپڑے خواہ اچانک یا اعلانیہ تو کیا بجز ظالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا ۔

پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بےخبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہو گی؟

یعنی نہ ہو گی ۔

اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گےجیسے اور آیت میں ہے:

الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (۶:۸۲)

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ۖ

اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈرائیں

پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں،

فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۴۸)

پھر جو ایمان لے آئے وہ درستی کر لے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے ۔

جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں ، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (۴۹)

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں عذاب پہنچے گا بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں ۔

کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے ۔

قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ ۚ

آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔

میں تو صرف جو کچھ میرے پاس ہے وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے ، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہو جاتی ہے ،

میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا ۔

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (۵۰)

آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہو سکتے ہیں سو کیا تم غور نہیں کرتے۔‏

کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟

کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے ؟

اور آیت میں ہے:

أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الأَلْبَـبِ (۱۳:۱۹)

کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں؟

وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (۵۱)

اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا، اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں ۔

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں،

الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ (۲۳:۵۷)

یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔‏

یعنی حساب کا کھٹکار رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے

يَخْشَوْنَ رَبَّهُموَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ (۱۳:۲۱)

اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں

اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا ۔

یہ تیرا ڈرانا اس لئے ہے کہ شاید وہ متقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اور ثابت کے مستحق بن جائیں ،

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ

اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو صبح شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اسکی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں

پھر فرماتا ہے یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ ۔ جیسے اور آیت میں ہے:

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ ۔۔۔ كَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (۱۸:۲۸)

اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے(رضا مندی چاہتے) ہیں

خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیاوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔

دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جسکے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے ۔

بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں

بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں

اور آیت میں ہے:

وَقَالَ رَبُّكُـمْ ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ (۴۰:۶۰)

تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا

ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے ، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں ،

مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ(۵۲)

ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‏

ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر ،

جناب نوح علیہ السلام سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا :

قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ـ إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ (۲۶:۱۱۲،۱۱۳)

آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تمہیں شعور ہو تو۔‏

پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہو جائے گا

مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اس وقت آپ کی مجلس مبارک میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ تو آیت وَأَنذِرْ بِهِ سے بِالشَّاكِرِينَ (۶:۵۱،۵۳) تک اتری ۔

ابن جریر میں ہے:

ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بے سہارا لوگ بھی ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں دیکھئے حضرت اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو وہ آپ کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں اس پر آیت وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ سے بِالشَّاكِرِينَ (۶:۵۲،۵۳) تک اتری ۔

ابن ابی حاتم میں قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری ،

اس روایت میں یہ بھی ہے:

تنہائی میں مل کر انہوں نے حضورﷺ کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بےحیثیت لوگوں کے ساتھ ہمیں بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے ، آپ کی مجلس میں عرب کا وفد آیا کرتے ہیں وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو آپ کم سے کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائین، ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ کو اختیار ہے جب یہ بات طے ہو گئی اور آپ نے بھی اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے کہا ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آ جانا چاہیے آپ ﷺنے کاغذ منگوایا اور حضرت علیؓ کو لکھنے کیلئے بلوایا،مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل اترے اور یہ آیت نازل ہوئی

حضور ﷺنے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حلقے میں لے لیا ،

لیکن یہ حدیث غریب ہے آیت مکی ہے اور اقرع اور عینیہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں

حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت چھ اصحاب نبی ﷺ کے بارے میں اتری ہے جن میں سے ایک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی میں جاتے اور آپ کے اردگرد بیٹھتے تاکہ پور طرح اور شروع سے آخر تک آپ کی حدیثیں سنیں ۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی اس کے برخلاف یہ آیت اتری (مستدرک حاکم)

وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا ۗ

اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں، کیا یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا

پھر فرماتا ہے اسی طرح ہم ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امرا ءان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کر دیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں سے اللہ کو یہی لوگ پسند آئے ؟

حضور ﷺ کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بےمایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اِکا دُکا آ گیا تھا ۔ یہی لوگ دراصل انبیاء علیہم السلام کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے ۔

قوم نوح نے کہا تھا:

مَا نَرَاكَ إِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ (۱۱:۲۷)

ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے

شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے حضور ﷺ کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا ضعیف لوگوں نے ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو کار یہی طبقہ ہوتا ہے ،

الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آ جائے اور ہم یونہی رہ جائیں؟

قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے:

لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ (۴۶:۱۱)

اگر یہ بہتر چیز ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں یہ ہم سے سبقت نہ کرتے

اور آیت میں ہے:

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ءَايَـتُنَا بِيِّنَـتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً (۱۹:۷۳)

جب انکے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہی کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے

اس کے جواب میں رب نے فرمایا:

وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثاً وَرِءْياً (۱۹:۷۴)

ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں ،

أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ (۵۳)

کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شکرگزاروں کو خوب جانتا ہے

چنانچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اورصحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے ، جیسے فرمان ہے:

وَالَّذِينَ جَـهَدُواْ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (۲۹:۶۹)

لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشس کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے،

صحیح حدیث میں ہے:

اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ،

عکرمہ فرماتے ہیں:

ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کر لیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہو گی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آ جائے اور ہم بھی مان لیں ،

ابو طالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟

اللہ عزوجل نے وَأَنذِرْ بِهِ سے بِالشَّاكِرِينَ (۶:۵۱،۵۳) تک آیتیں اتریں ۔

یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح ، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد ، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات رضی اللہ عنہم اجمعین،

انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت وَكَذَ‌ٰلِكَ فَتَنَّا (۶:۵۳) بھی نازل ہوئی ۔

حضرت عمر ؓان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر یہ اگلی آیت وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ نازل ہوئی ،

وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ

یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو (یوں) کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی ہے

اس آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو

كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ

تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کر لیا ہے

ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس کریمہ پر رحمت کو واجب کر لیا ہے ،

أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۵۴)

کہ جو شخص تم میں سے برا کام کر بیٹھے جہالت سے پھر وہ اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح رکھے تو اللہ (کی یہ شان ہے کہ وہ) بڑی مغفرت کرنے والا ہے

بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے ،

عکرمہ فرماتے ہیں دنیا ساری جہالت ہے ،

غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کر لے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کر لے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا ۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضا و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔

ابن مردویہ میں حضور کا فرمان ہے:

جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہو گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں ، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لئے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے،

یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں آیت وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (۷:۱۵۶) کی تفسیر میں آئیں گی ان شاء اللہ تعالیٰ

ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے :

حضورﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوجھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔

پھر فرمایا جانتے ہو بندے جب یہ کر لیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے،

مسند احمد میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے ۔

وَكَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ (۵۵)

اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہو جائے۔‏

یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے ۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے ۔

ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے ۔

قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ

آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔

قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (۵۶)

آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی اتباع نہ کروں گا کیونکہ اس حالت میں تو میں بےراہ ہو جاؤں گا اور راہ راست پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا ۔

اے نبی ﷺ کہہ دو جو وحی اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس پر بصیرت رکھتے ہوئے قائم ہوں تم نے تو حق کو جھٹلا دیا ہے

قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَكَذَّبْتُمْ بِهِ ۚ مَا عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ ۚ

آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے اور تم اس کی تکذیب ہو، جس چیز کی تم جلد بازی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الہٰی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے ، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو ،

تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں ۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے ۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے،

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ (۵۷)

حکم کسی کا نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اللہ تعالیٰ واقعی بات کو بتلا دیتا ہے اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔‏

وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے ،

قُلْ لَوْ أَنَّ عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۗ

آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو تو میرا اور تمہارا باہمی قصہ فیصل ہو چکا ہوتا

سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا ، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں ، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے ،

وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ (۵۸)

اور ظالموں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔‏

وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے،

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ احد سے زیادہ سختی کا تو آپ پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟

آپﷺ نے فرمایا عائشہ کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں ؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی ، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں،

قرن ثعالب میں آ کر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے ، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت جبرائیل ؑ مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا ۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں انہیں حکم دیجئے یہ بجا لائیں گے،

اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ فرمائیں میں بجا لاؤں ، اگر آپ حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں،

ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا

جبکہ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور آیت میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا ۔ حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو یہ بتلایا کہ بحکم الٰہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آ گیا اور نرمی برتی ، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ واللہ اعلم

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ

اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے

حضور کا فرمان ہے :

غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے آیت إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ..(۳۱:۳۴) تک پڑھی ، یعنی قیامت کا علم ، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم۔

اس حدیث میں جس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضورﷺ سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں ۔

پھر آپ نے آیت إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ..(۳۱:۳۴)تلاوت فرمائی ۔

وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ

اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے

پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں ۔

صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے ۔

فلا یحفی علیہ الذراما یترای للنواظر او تواری

کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں،

وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا

اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے

وہ سب کی حرکات سے بھی واقف ہے ، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کونسا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟ جیسے فرمان عالی شان ہے:

يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ (۴۰:۱۹)

آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں ۔

حضرت ابن عباسؓؓ فرماتے ہیں:

خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے ،

وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (۵۹)

اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں

پھر فرماتا ہے زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے ۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے ، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر ۔

حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں:

زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں ۔

ابن عباسؓؓ سے مروی ہے

اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے امور لکھے ۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے پھر یہی آیت پڑھی ۔

وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُسَمًّى ۖ

اور وہ ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو (ایک گونہ) قبض کر دیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر تم کو جگا اٹھاتا ہے تاکہ میعاد معین تمام کر دی جائے

اللہ پاک فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو رات کے وقت خواب وفات دیتا ہے۔ اور یہ وفات اصغر ہے

جیسے اس آیت میں ہے:

إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ (۳:۵۵)

جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں

اور جیسے اس آیت میں ہے:

اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا ۔۔۔ وَيُرْسِلُ الاٍّخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (۳۹:۴۲)

اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے

اس آیت میں دونوں وفات بیان کر دی ہیں ۔ وفات کبریٰ اور وفات صغریٰ

اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے ، وفات صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفات کبریٰ یعنی حقیقی موت کا ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہ رات کے وقت تم کو وفات دے دیتا ہے تم کاروبار سے رک جاتے ہو لیکن دن میں تم اپنے کام میں لگے رہتے ہو اور وہ تمہارے دن بھر کے اعمال کو جانتا ہے۔

یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں ، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے ،

جیسے فرمان ہے:

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ (۱۳:۱۰)

تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بآواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر و یکساں ہیں۔‏

اور آیت میں ہے:

وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ (۲۸:۷۳)

یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا

اور آیت میں ارشاد ہے:

وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاساً ـ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشاً (۷۸:۱۰،۱۱)

رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا

یہاں فرمایا رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے ، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے ۔

ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ وہ نیند میں ( خواب ) تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہےلیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں،

ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے:

ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الہٰی لوٹا دیتا ہے،

یہی معنی اس آیت کے جملے وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو،

ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۶۰)

پھر اسی کی طرف تم کو جانا ہے پھر تم کو بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔‏

قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا،

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۖ

اور وہی اپنے بندے کے اوپر غالب ہے برتر ہے

وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں

وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ (۶۱)

اور تم پر نگہداشت رکھنے والا بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آپہنچتی ہے، اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کر لیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔

وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں جیسے فرمان عالیشان ہے:

لَهُ مُعَقِّبَـتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ (۱۳:۱۱)

اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔

پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الہٰی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں ، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں جیسے فرمایا:

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـفِظِينَ (۸۲:۱۰)

یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔‏

ان ہی فرشتوں کا ذکران آیات میں ہے:

إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ـ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلاَّ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (۵۰:۱۷،۱۸)

جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔‏(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے ۔‏

پھر فرمایا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں ۔

حضرت ابن عباسؓؓ فرماتے ہیں ملک الموت کے کئی مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں ۔اس کا مفصل بیان آیت يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (۱۴:۲۷) میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔

پھر فرمایا وہ کوئی کمی نہیں کرتے یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں نیک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں ۔

ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۚ

پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جائیں گے

پھر وہ سب اپنے سچے مولیٰٰ کی طرف بلا لئے جائیں گے ۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:b

مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا ، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے

پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے ،

(اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے )

اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل ، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لئے مرحبا نہیں ، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے ، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے ، پھر قبر پر لائی جاتی ہے ، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں ۔

پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں ۔ یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن،

أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ (۶۲)

خوب سن لو فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وہ بہت جلد حساب لے گا۔‏

پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا:

قُلْ إِنَّ الاٌّوَّلِينَ وَالاٌّخِرِينَ ـ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَـتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ (۵۶:۴۹،۵۰)

آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے۔ ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت۔‏

اور آیت میں ہے:

وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا (۱۸:۴۷)

ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے

یہاں بھی فرمایا کہ اپنے سچے مولیٰ کی طرف سب کو لوٹنا ہے ۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے ۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا ۔

قُلْ مَنْ يُنَجِّيكُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ

آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات سے نجات دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو ۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو ۔

یہی مضمون قرآن کریم کی ان آیات میں بھی بیان ہوا ہے ۔

وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ (۱۷:۶۷)

اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے

هُوَ الَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۔۔۔ مِنْ هَـذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ (۱۰:۲۲)

وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں

ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (برے) آگھرے (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔‏

أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۔۔۔ أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۲۷:۶۳)

یا وہ جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند و بالا تر ہے۔‏اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے ،

تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَئِنْ أَنْجَانَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (۶۳)

تم اس کو پکارتے ہو تو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‏

تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً کے معنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں ۔

الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے ۔

قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنْتُمْ تُشْرِكُونَ (۶۴)

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے، تم پھر بھی شرک کرنے لگتے ہو۔‏

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ۗ

آپ کہئیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے لئے بھیج دے یا تو تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے

پھر فرماتا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیچے سے لے آئے جیسے کہ سورۃ سبحان بیان فرمایا ۔

رَّبُّكُمُ الَّذِى يُزْجِى لَكُمُ الْفُلْكَ فِى الْبَحْرِ ۔۔۔ ثُمَّ لاَ تَجِدُواْ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا (۱۷:۶۶،۶۹)

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وہ تمہارے اوپر بہت مہربان ہے اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے

پھر جب تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ۔

تو کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین) میں دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی بھیج دے پھر تم اپنے لئے کسی نگہبان کو نہ پا سکو۔‏

کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ پھر تمہیں دوبارہ دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز و تند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعث تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا (پیچھا) کرنے والا کسی کو نہ پاؤ گے ۔

حضرت حسن فرماتے ہیں اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں

حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس آیت میں اسی اُمت کو ڈرایا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی ۔

ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں

بخاریؒ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا یعنی تم فرقے فرقے بن کر آپس میں تفرقہ بندیاں کرنے لگو اور ایک دوسرے سے لڑ بیٹھو۔ یعنی اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسے عذاب میں بھی تمہیں مبتلا فرما سکتا ہے۔

حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں

اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی ۔

پھر یہ سن کر کہ یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے تو حضور نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ،

ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں حضرت جابر کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپ کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔

مسند میں ہے :

حضور ﷺسے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔

یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں،

مسند احمد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے :

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی پھر آپ نے لمبی مناجات کی اور فرمایا :

میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں

- ایک تو یہ کہ میری تمام اُمت کو ڈبوئے نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی ،

- پھر میں نے دعا کی کہ میرے عام اُمت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی

- پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔

صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے ۔

مسند احمد میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں ہمارے پاس عبداللہ بن عمر بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی ؟

میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟

میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ کی اُمت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی

یہ سن کر حضرت عبداللہ نے فرمایا تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلتی جائیں گی ،

ابن مردویہ میں ہے:

حضور ﷺ بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی ، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی ،میں نے سوال کیا کہ میری اُمت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبو یا نہ جائے ، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ،

ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے ہیں میں بھی آپ کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا ، آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور بڑی لمبی نماز تھی پھر آپ نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ،

نسائی میں حضرت انسؓ سے مروی ہے:

ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ رکعت پڑھیں اور حضرت انس کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ،

نسائی میں ہے:

حضور نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو حضرت خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا آپ نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا ، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی اُمتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری اُمت پر عام طور پر نہ آئیں ۔

تفسیر ابن جریر میں ہے:

حضور ﷺنے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے

مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

میرے لئے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لئے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لئے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری اُمت کی بادشاہت پہنچے گی ، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ،میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری اُمت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں

اور حضور نے فرمایا:

میں اپنی اُمت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری اُمت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ،

ابن مردویہ میں ہے :

جب آپ لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی ، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو ۔ جب آپ فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا

آپﷺ نے فرمایا نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی ، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔

- میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا

- میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری اُمت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی ،

- پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی ۔

چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری اُمت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے

اور حدیث میں ہے:

دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی (ابن مردویہ)

ابن عباسؓ ؓفرماتے ہیں:

جب یہ آیت اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری اُمت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا،

اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی اُمت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے (ابن مردویہ)

ابن ابی کعب سے مروی ہے

دو چیزیں اس اُمت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا ،

آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضورﷺ کی وفات کے پجیس سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی ۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا (احمد )

حضرت حسن اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت قُلْ هُوَ الْقَادِرُ اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے ،

ابن عباسؓ ؓسے مروی ہے:

اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نو کر چاکر ہیں

یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے ، اس کی شہادت میں آیت أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ (۶۷:۱۶) پیش ہو سکتی ہے ،

ایک حدیث میں ہے میری اُمت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہو گا،

اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جابجا آئیں گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے ، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے ،ایک حدیث میں ہے:

یہ اُمت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے ،

ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے ،

انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ (۶۵)

آپ دیکھئے تو سہی ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں۔ شاید وہ سمجھ جائیں۔‏

دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں ۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں ۔اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو،

اس پر لوگوں نے کہا حضور کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟

آپﷺ نے فرمایا ہاں ہاں یہی ہو گا ۔

کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں

اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت وَكَذَّبَ بِهِ اتری ( ابن ابی حاتم اور ابن جریر)

وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ۚ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ (۶۶)

اور آپ کی قوم اس کی تکذیب کرتی ہے حالانکہ وہ یقینی ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم پر تعینات نہیں کیا گیا ہوں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے:

وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ (۱۸:۲۹)

اور اعلان کر دے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔

یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے ، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے،

لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (۶۷)

ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت ہے جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا۔‏

ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے ،

وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينِ (۳۸:۸۸)

یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے ۔

لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ (۱۳:۳۸)

ہر مقررہ وعدے کی ایک لکھت ہے

تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے ،

وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ

اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں

پھر فرمایا جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو ،

اس آیت میں گو فرمان حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے ۔

آپﷺ کی اُمت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بےجا تاویلیں کرتے ہوں ،

وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (۶۸)

اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں

اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہےحدیث شریف میں ہے:

اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبر دستی مجبور کر کے کرائے جائیں ۔

اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَـبِ ۔۔۔ حَتَّى يَخُوضُواْ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِّثْلُهُمْ (۴:۱۴۰)

تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے

ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر ،

مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو،

وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَكِنْ ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (۶۹)

اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر انکی باز پرس کا کوئی اثر نہ پہنچے گا اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کر دینا ہے شاید وہ بھی تقویٰ اختیار کریں ۔

پھر فرمان ہے کہ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں ، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں ،

دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بےگناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ (۴:۱۴۰) سے منسوخ ہے ۔

مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں۔

وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ

اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے انھیں دھوکا میں ڈال رکھا ہے

یعنی بےدینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے

وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ

اور اس قرآن کے ذریعے سے نصیحت بھی کرتے ہیں تاکہ کوئی شخص اپنے کردار میں (اس طرح) پھنس نہ جائے

کہ کوئی غیر اللہ اس کا نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی اور یہ کیفیت ہو کہ اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تب بھی اس سے نہ لیا جائے

اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کر دو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے، جیسے فرمان ہے:

كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ـ إِلاَّ أَصْحَـبَ الْيَمِينِ (۷۴:۳۸،۳۹)

ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہوا ہے مگر داہنے ہاتھ والے،

یاد رکھو کسی کا کوئی والی اور سفارشی نہیں جیسے ارشاد فرمایا:

مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِىَ يَوۡمٌ۬ لَّا بَيۡعٌ۬ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ۬ وَلَا شَفَـٰعَةٌ۬‌ۗ (۲:۲۵۴)

اس سے پہلے کہ کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی نہ شفاعت

کافر پورے ظالم ہیں اگر یہ لوگ قیامت کے دن تمام دنیا کی چیزیں فدئیے یا بدلے میں دے دینا چاہیں تو بھی ان سے نہ فدیہ لیا جائے گا نہ بدلہ۔ کسی چیز کے بدلے وہ عذابوں سے نجات نہیں پا سکتے ۔ جیسے فرمان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الاٌّرْضِ ذَهَبًا (۳:۹۱)

جو لوگ کفر پر جئے اور کفر پر ہی مرے یہ اگر زمین بھر کر سونا بھی دیں تو ناممکن ہے کہ قبول کیا جائے اور انہیں چھوڑا جائے

أُولَئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ

ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے،

پس فرما دیا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے رسوا کر دیئے گئے

لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (۷۰)

ان کے لئے نہایت گرم پانی پینے کے لئے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب۔‏

انہیں گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور انہیں سخت المناک عذاب ہو گا کیونکہ یہ کافر تھے ۔

قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا

آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ وہ نہ ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے

مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آ جاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟

وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ

کیا ہم الٹے پھر جائیں اسکے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کر دی ہے،

اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آ جائیں؟ اور تم جیسے ہی ہو جائیں؟

بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں؟

كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ

جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطان نے کہیں جنگل میں بےراہ کر دیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو اس کے ساتھی بھی ہوں کہ ہمارے پاس آ۔

اگر ہم ایسا کر لیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہو گی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہو گیا شیطان نے اسے پریشان کر دیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے ،

ابن عباسؓؓ فرماتے ہیں :

یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا ۔

اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی ، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گم شدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہو جاتا ہے ، ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں ۔

لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجود ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو ؟

حَيْرَانَ پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لئے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بد نصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا ،

قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى ۖ

آپ کہہ دیجئے کہ یقینی بات ہے کہ راہ راست وہ خاص اللہ ہی کی راہ ہے

سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے ،

وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ (۳۹:۳۷)

وہ جسے اللہ راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ،

چنانچہ خود قرآن میں ہے:

إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّن نَّـصِرِينَ (۱۶:۳۷)

تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لا سکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں ،

وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (۷۱)

اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے مطیع ہوجائیں۔‏

ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی وحدہ لا شریک لہ کے لئے کریں

وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚ

اور یہ کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو

اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں

وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ (۲:۴۶)

یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔

وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (۷۲)

اور وہی ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔‏

قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے،

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ ۚ

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا اور جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا تو ہوجا وہ ہو پڑے گا

اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی

يَوْمَ کا زبر یا تو وَاتَّقُوهُ پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہو جائے گا

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ يَوْمَ کا زبر خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ پر عطف ہونے کی بنا ءپر ہو تو گویا ابتدا پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے ،

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی اذکر اور اس وجہ سے يَوْمَ پر زبر آیا ہو ، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں ۔

قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (۷۳)

اس کا کہنا حق اور با اثر ہے اور ساری حکومت خاص اس کی ہوگی جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت والا پوری خبر رکھنے والا۔‏

ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں ، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے ، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں

يَوْمَ يُنْفَخُ میں يَوْمَ ممکن ہے کہ يَوْمَ يَقُولُ کا بدل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وَلَهُ الْمُلْكُ کا ظرف ہو جیسے اور آیت میں ہے:

لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰:۱۶)

آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی۔

اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے:

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً (۲۵:۲۶)

اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا‏

اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں

بعض کہتے ہیں صُورِ جمع ہے صُورۃ کی جیسے سورہ شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورۃ کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صُورِ سے قرن ہے جسے حضرت اسرافیل پھونکیں گے،

امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں

حضورﷺ کا ارشاد ہے:

حضرت اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الہٰی کے منتظر ہیں ۔

مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابیؓ کے سوال پر حضورﷺ نے فرمایا :

صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا،

طبرانی کی مطولات میں ہے حضورﷺ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعدصور کو پیدا کیا اور اسے حضرت اسرافیل کو دیا وہ اسے لئے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں ۔

حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صور کیا ہے؟

آپﷺ نے فرمایا ایک نرسنگھا ہے

میں نے کہا وہ کیسا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا بہت ہی بڑا ہے واللہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفخے پھونکے جائیں گے ، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العالمیں کے سامنے کھڑے ہونے کا ۔

اول اول جناب باری حضرت اسرافیلؑ کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گااسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے:

وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيۡحَةً۬ وَٲحِدَةً۬ مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ۬ (۳۸:۱۵)

انہیں صرف ایک چیخ کا انتظار ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے

پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہو جائیں گے زمین میں بھونچال آ جائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو ۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیںاسی کا بیان اس آیت میں ہے:

يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ (۷۹:۶)

جس دن کاپنے والی کانپے گی ،

یعنی اس دن زمین جنبش میں آ جائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ جائے گی دل دھڑکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی ، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے بجے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آ جائیں گے ، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پریشان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الہٰی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھٹنی شروع ہو گی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھٹی اب تو ابتر حالت ہو جائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدمہ اور غم ہو گا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا ، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بےنور ہو گیا ہے ، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہو گا

حضرت ابوہریرہ ؓنے سوال کیا کہ یا رسول اللہ قران کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَن فِى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ‌ (۲۷:۸۷) یعنی زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے اس سے مراد کون لوگ ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا

یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا، اسی کا بیان ان آیات میں ہے:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّڪُمۡ‌ۚ ۔۔۔وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٌ۬ (۲۲:۱،۲)

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔‏جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائیگی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے

اور تو دیکھے گا کہ لوگ مد ہوش، دکھائی دیں گے، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہونگے لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے

یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت جبرائیل کو بیہوشی کے نفخے کا حکم دے گا اس نفخہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہو جائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مر جائیں گے ۔

حضرت ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مر گئی مگر جسے تو نے چاہا ،

اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے؟

وہ جواب دیں گے تو باقی ہے تو حی و قیوم ہے تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئیل وہ میکائیل بھی مریں گے؟

اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے چنانچہ یہ دونوں بھی فوت ہو جائیں گے

پھر ملک الموت رب جبار و قہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل بھی انتقال کر گئے ۔

جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ اب باقی کون ہے؟

ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے

اللہ فرمائے گا عرش کے اٹھانے والے بھی مر جائیں گے اس وقت وہ بھی مر جائیں گے،

پھر اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل سے صور کو عرش لے لے گا ،

ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مر گئے

اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اب باقی کون رہا؟

ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کر چکا اب تو بھی مرجا چنانچہ وہ بھی مر جائیں گے۔

اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بےماں باپ اور بے اولاد کے ہے ۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا ۔

پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا میں جبار ہوں میں کبریائی والا ہوں ۔

پھر تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کا مالک کون ہے؟

کوئی نہ ہو گا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا اللہ واحد وقہار۔

پھر دوسرے آسمان و زمین پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور دراز کر دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی ،

پھر ایک الہٰی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آ جائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہو گا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا ، پھر جسموں کو حکم ہو گا کہ وہ اُگیں اور وہ اس طرح اُگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہو جائیں گے

پھر حکم فرمائے گا کہ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں چنانچہ وہ زندہ ہو جائیں گے

پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ صور لے کر منہ سے لگالیں ۔

پھر فرمان ہو گا کہ جبرائیل و میکائیل زندہ ہو جائیں یہ دونوں بھی اٹھیں گے ،

پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مؤمنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا، پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ اب صور پھونک دو چنانچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواح اس طرح نکلیں گی جیسے شہید کی مکھیاں ۔ تمام خلا ان سے بھر جائے گا

پھر رب عالم کا ارشاد ہو گا کہ مجھے اپنی عزت و جلال اکی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے ، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کر جاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی ، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ، سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہو گی ، لوگ نکل کر دوڑ تے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے ،

سب ننگے پیروں ننگے بدن بےختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بےطرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوڑیوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے،

آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ حضرت آدم e سے بہتر کون ہو گا؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔

چنانچہ سب مل کر آپ کے پا س جائیں گے اور سفارش طلب کریں گے لیکن حضرت آدم علیہ السلام صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دیں گے ۔

حضورﷺ فرماتے ہیں پھر سب کے سب میرے پاس آئیں گے ، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا ۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )

میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب ، اللہ عزوجل

باو وجود عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ کیا بات ہے؟

میں کہوں گا یا اللہ توے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لئے تشریف لے آ ۔

رب العالمیں فرمائے گا میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں ۔

میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہو گی ۔

جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے ؟

وہ جواب دیں گے نہیں

پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے ۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الہٰی ہے ۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں ۔

ان کی تسبیح یہ ہے:

سبحان ذی العرش والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لا یموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت سبوح قدوس قدوس قدوس سبہان ربنا الاعلی رب الملا ئکتہ والروہ سبحان ربنا الا علی الذی یمیت الخلائق ولا یموت

پھر اللہ جس جگہ چاہے گا پانی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا اے جنوں اور انسانوں میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے،

پھر بحکم اللہ جہنم میں سے ایک دیکھتی ہوئی گردن نکلے گی

اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کی اولاد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟

اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے ، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں؟

یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہےاے گنہگارو ! آج تم نیک بندوں سے الگ ہو جاؤ،

اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہو جائیں گے تمام اُمتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گی جیسے قران کریم میں ہے کہ تو ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر اُمت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی،

پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعویٰ باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا تم سب مٹی ہو جاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ،

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہو گا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟

پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیوں قتل کیا؟

وہ جواب دیں گے اس لئے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو

اللہ عالی فرمائے گا تم سچے ہو اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہو جائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے

پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے،

ان فیصلوں کے بعدایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے ، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے ، سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں واردنہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے

اب صرف با ایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عبادت کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ ۔

یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجزالہ العالمین کے ۔ ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی ۔

اب ان کے لئے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گر پڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کر سکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہو جائیں گے اور اپنی کمر کے بل گر پڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کر دی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے ۔

پھر اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہو گی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرانک ہو گی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گزر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گزرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے ۔ یا جیسے تیز روگھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں

بعض صحیح سالم گزر جائیں گے بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے بعض کٹ کر جہنم میں گر جائیں گے

جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں؟

دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام سے زیادہ اور کون ہوں گے؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں پس سب لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے سفارش کرانی جاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کر کے جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں ،

لوگ حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں

لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور حضرت موسیٰ کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر تورات نازل فرمائی گئی تھی لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے طلب سفارش کریں گے آپ بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے پاس بھیجیں گے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے میں اس قابل نہیں تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ۔

حضورﷺ فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو ،

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا

میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ کیا کہنا چاہتے ہو؟

میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہو جائے گی ۔واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا

ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالا خانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہو گی اس کا جسم اس قدر نورانی ہو گا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہو گا اس کا دل اس کا آئینہ ہو گا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے ، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا ، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو ، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا ۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں ۔اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بےساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی ساری جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے ،

ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے ،

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اپنی اُمت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے

اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ،

پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا

پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ، پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا،

پھر فرمائے گا انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو ، پھر فرمائے گا ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہو گا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی، پھر فرمائے گا ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی، پھر ارشاد ہو گا انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو ، پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو ،

جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کر لیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہو گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اُگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہو گا کہ یہ رحمٰن کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے ۔

ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا

یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں ۔اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے ، جیسے امام احمد امام ابو حاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں ، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں ،

میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کر دیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے ۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے ، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں واللہ اعلم ۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (۷۴)

اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟

بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔‏

حضرت عباسؓ کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا ۔

آزر سے مراد بت ہے ۔

آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا ۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی کنیز تھیں ۔

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا ۔

مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو ۔ واللہ اعلم

ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں ۔

لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی نے نقل کیا ہے ۔

سلیمان کا قول ہے کہ اسکے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا ۔

ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم ۔

آزَر اور آزُر دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے ۔

پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے ۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بناء پر غیر منصرف ہے

بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود ۔

بعض اسے أَتَتَّخِذُ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں ۔

مقصود یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے باپ کو نصیحت کی عبادت اصنام پر انکی مخالفت کی۔ انہیں اس سے روکا لیکن ان کے باپ باز نہ آئے۔ انہوں نے کہا کیا تم نے صنم کو رب بنا لیا ؟ میں تو تم کو اور تمہارے مسلک پر چلنے والوں کو بڑی گمراہی میں پاتا ہوں۔ اس سے بھٹکتے رہو گے بلکہ حیرت و جہل میں رہو گے۔ ان کی جہالت و گمراہی میں قرار دینا ہر صاحب عقل سلیم کے لئے ایک دلیل واضح ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَٱذۡكُرۡ فِى ٱلۡكِتَـٰبِ إِبۡرَٲهِيمَ‌ۚ إِنَّهُ ۥ كَانَ صِدِّيقً۬ا نَّبِيًّا ۔۔۔۔ وَأَدۡعُواْ رَبِّى عَسَىٰٓ أَلَّآ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّى شَقِيًّ۬ا (۱۹:۴۱،۴۸)

اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کر، بیشک وہ بڑی سچائی والے پیغمبر تھے ۔ جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! آپ انکی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں

میرے مہربان باپ! آپ دیکھیے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا ۔‏

میرے ابا جان آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں شیطان تو رحم و کرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے ۔

ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الہٰی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں

اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ ۔

کہا اچھا تم پر سلام ہو میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے۔‏ میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔

صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا۔‏

چنانچہ حضرت ابراہیمؑ تا حیات اپنے باپ کے ئے استغفار کرتے رہےاور جب باپ شرک پر ہی مر گیا اور حضرت ابراہیمؑ کو معلوم ہو گیا کہ شرک کے لئے استغفار کام نہیں دیتا تو استغفار کرنا چھوڑ دیا۔جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا:

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ ۔۔۔ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ (۹:۱۱۴)

اور ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کرنا وہ صرف وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے ان سے وعدہ کر لیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بےتعلق ہوگئے و اقعی ابراہیم ؑ بڑے نرم دل اور بردبار تھے

حدیث صحیح میں ہے:

قیامت کے رو ز حضرت ابراہیمؑ اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گاتو ابراہیمؑ اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرلئے اس سے بڑی اور کونسی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے

تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے ابراہیم تم اپنے پیچھےدیکھوتو وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے۔ جو کیچڑ میں لتھڑاہوا ہےاور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے۔

وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ (۷۵)

ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں سے ہوجائیں ۔

پھر فرمایاکہ ہم اس طرح ابراہیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کے ملکوت پیش نظر کر دیتے ہیں اور اس کی نظر میں یہ دلیل کر دیتے ہیں کہ کس طرح وحدانیت اللہ عز و جل پر زمین و آسمان کے خلق کی بنیاد ہے جس سے یہ دلیل لی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور رب نہیں۔

ایسی ہی دلالت فی النظر کو ملکوت کہتے ہیں ہیں۔ کیونکہ دلالت فی النظر سب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ ہی کو حاصل رہی۔ جیسا کہ فرمایا:

أَوَلَمۡ يَنظُرُواْ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىۡءٍ۬ (۶:۱۸۵)

اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کیں ہیں

أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ۔۔۔ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ (۳۴:۹)

کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو۔‏

لیکن ملکوت کے بارے میں ابن جریرؒ نے بیان کیا ہے کہ ابراہیمؑ کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیمؑ آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لئے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے ۔

بعض نے اس مضمون کا کا بھی اضافہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں اے ابراہیم میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں۔

ابن عباسؓؓ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے ابراہیمؑ کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔اس لئے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لئے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمدؒ اور امام ترمذیؒ سے مروی ہے:

عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟

میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا

وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ کا واؤ زائد ہے ۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ وَكَذَٲلِكَ نُرِىٓ إِبۡرَٲهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ لِيَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِينَ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت وَكَذَٲلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأَيَـٰتِ وَلِتَسۡتَبِينَ سَبِيلُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ (۶:۵۵) میں۔ اس میں ٱلۡأَيَـٰتِ کے بعد واؤ زائد ہے

اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تا ک وہ دیکھے اور یقین بھی کر لے۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَذَا رَبِّي ۖ

پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا آپ نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے

رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے

فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ (۷۶)

لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا

جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے ۔

فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي ۖ

پھر جب چاند کو دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے

پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں

فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ (۷۷)

لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔‏

جب وہ بھی غروب ہو جاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کر لیتے ہیں ۔

فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ ۖ

پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے

پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں

فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (۷۸)

پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں ۔

جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہو جاتے ہیں ۔

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (۷۹)

میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‏

اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیاہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا،

مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ابن عباسؓؓ سے دوسری بات ہی مروی ہے

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا ۔

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے:

نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں ، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے ، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ،

بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے ۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارےمیں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں

پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی ۔

یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں ۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ ، سورج ، مریخ ، مستری ، زحل ۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا ۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے ۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے ، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں ۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو ۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے

جیسے قرآنی ارشاد ہے:

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ ۔۔۔ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ (۷:۵۴)

تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے

سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے،

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ ۔۔۔ أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ (۲۱:۵۱،۵۲)

ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟

اور آیت میں ہے:

إِنَّ إِبۡرَٲهِيمَ كَانَ أُمَّةً۬ قَانِتً۬ا لِّلَّهِ حَنِيفً۬ا ۔۔۔ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِڪِينَ (۱۶:۱۲۰،۱۲)

بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔‏

ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں۔‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے۔‏

بخاری و مسلم میں ہے ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔

کتاب اللہ میں ہے:

فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡہَا‌ۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِ‌ۚ (۳۰:۳۰)

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے ، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں

اور آیت میں ہے :

وَإِذۡ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمۡ ۔۔۔ قَالُواْ بَلَىٰ‌ۛ شَهِدۡنَآ‌ۛ (۷:۱۷۲)

اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔

پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاء اللہ

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمٰن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے ۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے ۔

آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے ۔

وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ

اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کر دی

ابراہیم علیہ السلام کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں

قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ

آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کے معاملے میں مجھ سے حجت کرتے ہو حالانکہ کہ اس نے مجھے طریقہ بتلایا ہے

تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے

وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ

اور میں ان چیزوں سے جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا

میں یقیناً جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں ، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کر لو ۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو ۔

وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ (۸۰)

ہاں اگر میرا پروردگار ہی ہرچیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا تم پھر بھی خیال نہیں کرتے۔‏

میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں ۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔

حضور ہود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی ۔ قرآن میں موجود ہے:

قَالُواْ يَهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ ۔۔۔ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ (۱۱:۵۳،۵۶)

انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو لایا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود کے بڑے جھپٹے میں آگیا ہے

اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو ۔ اللہ کے سوا اچھا تم سب ملکر میرے خلاف چالیں چل لو مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو ۔

میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے یقیناً میرا رب بالکل صحیح راہ پر ہے ۔

وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ

اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں فرمائی،

سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈروں گا؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو ۔

فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (۸۱)

سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے اگر تم خبر رکھتے ہو۔‏

تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے؟

دلیل میں اعلیٰ کون ہے؟

یہ آیت مثل ان آیات کے ہے :

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُواْ لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ (۴۲:۲۱)

کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں

إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ (۵۳:۲۳)

دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے لئے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔

مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیرو شر کا، نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بےبس اور بےقدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا

الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (۸۲)

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں

جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن و امان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں

جب یہ آیت اتری تو صحابہؓ ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو؟

اس پر آیت إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (۳۱:۱۳) نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے (بخاری شریف)

اور روایت میں ہے کہ حضور نے ان کے اس سوال پر فرمایا کہ کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا

يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (۳۱:۱۳)

اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے ۔

پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے

اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں

اور حدیث میں آپ کا خود بِظُلْمٍ کی تفسیر شرک سے کرنا مروی ہے ۔ بہت سے صحابیوں سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے ۔

مروی ےک جب یہ آیت الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اتری تو حضور ﷺ نے فرمایاکہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو ان ہی ایماندار لوگوں میں سے ہو ۔

جریر ابن عبداللہ کہتے ہیں:

ایک وقت ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور ﷺنے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے

اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا

حضور ﷺنے اس سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟

اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے ۔

دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے؟ کیسے نکلے ہو؟

جواب دیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جستجو میں۔

آپ ﷺنے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں ۔

اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے

اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں،

اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گر پڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کر گئی

حضورﷺ نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو

اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہو چکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہو گئے

آپﷺ نے منہ پھیر لیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہو گا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن و امان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔

اچھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چنانچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے ، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا ۔

یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا :

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر عمل کروں آپ کی حدیثیں لوں۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گھاس پھونس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں ۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے

حضور ﷺنے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑ گیا یہ گر پڑے اور گردن ٹوٹ گئی

آپ ﷺنے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔

یہ بزرگ انہی میں سے تھے ۔ تم نے سنا ہو گا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

عبداللہ بن سنجرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا:

جس کو دیا گیا اور اس نے شکر کیا اور جس کو نہ دیا اور اس نے صبر کیا اور جس نے ظلم کیا پھر مغفرت طلب کی اور جس پر ظلم ہوا اور اس نے بخش دیااتنا کہہ کر آپ ﷺ خاموش ہو گئے تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! اس کو کیا ملے گاتو آپ ﷺ نے فرمایاکہ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن کے اندر آ گئے ہدایت یافتہ یہی ہیں۔

وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ ۚ

اور ہماری حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم ؑ کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی

ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قوم سے مناظرہ کرنا اور دلیلیں لانا سکھایا۔

یعنی یہ حجت ابراہیمی کہ میں تمہارے معبودوں سے کیوں ڈروں جب کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے نہیں ڈرتے جس کی کوئی سند اور دلیل ہی نہیں۔ اب خود جان لو کہ دونوں میں ے کس اپنا زیادہ بچاؤکر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو امن و ہدایت کا نام دیا ہے۔

نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (۸۳)

ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب بڑا حکمت والا بڑا علم والا ہے۔‏

یہاں درجات کا لفظ بالاضافتہ اور بلا ضافتہ دونوں طرح پڑھا گیا ہے جیسا کہ سورہ یوسف میں ہے اور بات دونوں طرح یکساں ہے

وہ اپنے اقوال میں حکیم ہے اور انے افعال میں علیم ہے یعنی جس کو چاہے ہدایت کرے اور جس کو چاہے گمراہ ہونے دےجیسے کہ فرمایا:

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ ـ وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ (۱۰:۹۶،۹۷))

یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔‏ گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں ۔

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ

اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمٰن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے ۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں:

يوَيْلَتَا ءَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ ۔۔۔ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (۱۱:۷۲،۷۳)

ہائے میری کم بختی! میرے ہاں اولاد کیسے ہوسکتی ہے میں خود بڑھیا اور یہ میرے خاوند بھی بہت بڑی عمر کے ہیں یہ یقیناً بڑی عجیب بات ہے

فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہے؟ تم پر اے اس گھر کے لوگوں اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں بیشک اللہ حمد و ثنا کا سزاوار اور بڑی شان والا ہے۔‏

اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہو گا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی ، قرآن کی اور آیت میں بشارت کے الفاظ میں نبیا کا لفظ بھی ہے:

وَبَشَّرْنَـهُ بِإِسْحَـقَ نَبِيّاً مِّنَ الصَّـلِحِينَ (۳۷:۱۱۲)

اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا

پھر لطف یہ ہے کہ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لو گے اسحٰق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہو گی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی ۔

فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ (۱۱:۷۱)

تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحٰق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔‏

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑ ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی ، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے ، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے ۔فرمان الہٰی ہے:

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً (۱۹:۴۹)

جب ابراہیم ؑان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحٰق و یعقوب ؑعطا فرمائے، اور دونوں کو نبی بنا دیا۔‏

كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ

ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانے میں ہم نے نوح کو ہدایت کی

یہاں فرمایا ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی ،

طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر حضرت نوح کی نسل پھیلی انبیاء انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، حضرت ابراہیم کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی جیسے فرمان ہے:

وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ (۲۹:۲۷)

اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی

اور آیت میں ہے:

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ (۵۷:۲۶)

بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ہم نے دونوں کو اولاد پیغمبری اور کتاب جاری رکھی

اور آیت میں ہے:

أُولَـئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم ۔۔۔ خَرُّواْ سُجَّداً وَبُكِيّاً (۱۹:۵۸)

یہی وہ انبیاء ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم کیا جو اولاد آدم میں سے ہیں اور ان لوگوں کی نسل سے ہیں جنہیں ہم نے نوح ؑکے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا، اور اولاد ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔

ان کے سامنے جب اللہ رحمٰن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے روتے گڑ گڑاتے گر پڑتے تھے ۔ سجدہ

وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ ۚ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (۸۴)

اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کواور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔‏

فرمایا ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی ،

اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لئے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے ۔امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں

ہاں اسے حضرت ابراہیم کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لئے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط کا نام اولاد ابراہیم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لئے کہ حضرت لوط خلیل اللہ کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ کے بھتیجے ہوئے

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ باعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ اس آیت میں حضرت اسمٰعیل کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے:

أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ ۔۔۔ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (۲:۱۳۳)

کیا یعقوب ؑکے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔‏

تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔‏

ہاں یہ بھی خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ کو اولاد ابراہیم یا اولاد نوح میں گننا اس بناء پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے،

روایت میں ہے کہ حجاج نے حضرت یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسنؓ حسینؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا ،

آپ نے جواب دیا کیا تونے سورۃ انعام میں آیت وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ نہیں پڑھی

اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے

کہا پھر دیکھو اس میں حضرت عیسیٰ کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے حجاج نے کہا بیشک آپ سچے ہیں

اسی لئے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لئے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے ۔

بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب

ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں

اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نسبت فرمایا میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاء اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا،

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے ،

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ (۸۵)

اور (نیز) زکریا کو یحییٰ کو عیسیٰ اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں شامل تھے۔‏

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ (۸۶)

اور نیز اسماعیل کو اور یسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور ہر ایک کو تمام جہان والوں پر ہم نے فضیلت دی۔‏

وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۸۷)

اور نیز ان کے کچھ باپ دادوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی۔‏

فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آ گیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے ، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں ۔

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ

اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے

یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے ۔

وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۸۸)

اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب اکارت ہوجاتے۔‏

فرمایا کہ اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں جیسے ارشاد ہے:

وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ (۳۹:۶۵)

تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے

یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ضروری نہیں جیسے فرمان ہے:

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ (۴۳:۸۱)

اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں

جیسے اور آیت میں ہے:

لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْواً لاَّتَّخَذْنَـهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـعِلِينَ (۲۱:۱۷)

اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے

اور فرمان ہے:

لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ (۳۹:۴)

اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے ،

أُولَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ

یہ لوگ ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی

پھر فرمایا بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی

فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ (۸۹)

سو اگر یہ لوگ نبوت کا انکار کریں تو ہم نے اس کے لئے ایسے بہت سے لوگ مقرر کر دیئے ہیں۔ جو اس کے منکر نہیں ہیں ۔

پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں ۔

ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی ۔ یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے ،

أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ

یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے

پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اب تم ان ہی کی اقتدا اور اتباع کرو اور جب یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی اُمت بطور اولیٰ اس میں داخل ہےصحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں ۔

حضرت ابن عباسؓ سے آپ کے شاگرد رشید حضرت مجاہد ؒ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟

آپ نے فرمایا ہاں ہے

پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے ۔

قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ (۹۰)

آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے

پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ان میں اعلان کر دو کہ میں تو یہ قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا ۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں ۔

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ ۗ

اور ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنا واجب تھی ویسی قدر نہ کی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی

اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں ۔

عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے

اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے ۔

صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لئے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لئے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے ، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور کی رسالت کے قائل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہو سکتا جیسے قران انکا تعجب نقل کرتا ہے

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ (۱۰:۲)

کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی نزول فرمائی کہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے

اور آیت میں ہے:

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُواْ إِذْ جَآءَهُمُ الْهُدَى ۔۔۔ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُولاً (۱۷:۹۴)

لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکنے کے بعد ایمان سے روکنے والی صرف یہی چیز رہی کہ انہوں نے کہا کیا اللہ نے ایک انسان کو ہی رسول بنا کر بھیجا؟

آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے

قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ ۖ

آپ یہ کہئے وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ نور ہے اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت ہے

یہاں بھی کفار کا یہی اعتراض بیان کر کے فرماتا ہے کہ انہیں جواب دو کہ تم جو بالکل انکار کرتے ہو کہ کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا یہ تمہاری کیسی کھلی غلطی ہے ؟ بھلا بتلاؤ موسیٰؑ پر تورات کس نے اتاری تھی جو سراسر نور و ہدایت تھی

تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ

جس کو تم نے ان متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو

الغرض تورات کے تم سب قائل ہو جو مشکل مسائل آسان کرنے والی ، کفر کے اندھیروں کو چھانٹنے ، شبہ کو ہٹانے اور راہ راست دکھانے والی ہے ، تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں صحیح اور اصلی کتاب میں سے بہت سا حصہ چھپا رکھا ہے کچھ اس میں سے لکھ لاتے ہو اور پھر اسے بھی تحریف کر کے لوگوں کو بتا رہے ہو ، اپنی باتوں اپنے خیالات کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کرتے ہو ،

وَعُلِّمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ۖ

اور تم کو بہت سی ایسی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نہ تمہارے بڑے۔

قرآن تو وہ ہے جو تمہارے سامنے وہ علوم پیش کرتا ہے جن سے تم اور تمہارے اگلے اور تمہارے بڑے سب محروم تھے، پچھلی سچی خبریں اس میں موجود ، آنے والے واقعات کی صحیح خبریں اس میں موجود ہیں جو آج تک دنیا کے علم میں نہیں آئی تھیں

کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے مراد مسلمان ہیں ۔

قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ (۹۱)

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے نازل فرمایا پھر ان کو ان کے خرافات میں کھیلتے رہنے دیجئے۔‏

پھر حکم دیتا ہے کہ یہ لوگ تو اس کا جواب کیا دیں گے کہ تورات کس نے اتاری؟

تو خود کہہ دے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر انہیں ان کی جہالت و ضلالت میں ہی کھیلتا ہوا چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں موت آئے اور یقین کی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں کہ اس جہان میں یہ اچھے رہتے ہیں یا مسلمان متقی ؟

وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ

اور یہ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈرائیں۔

یہ کتاب یعنی قران کریم ہمارا اتارا ہوا ہے ، یہ بابرکت ہے یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے ہم نے اسے تیری طرف اس لئے نازل فرمایا کہ تو اہل مکہ کو ، اس کے پاس والوں کو یعنی عرب کے قبائل اور عجمیوں کو ہوشیار کر دے اور ڈراوا دے دے ۔

مَنْ حَوْلَهَا سے مراد ساری دنیا ہے اور آیت میں ہے:

قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (۱۷:۱۵۸)

اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں

اور آیت میں ہے:

لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ (۶:۱۹)

تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں

اور فرمان ہے:

وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ (۱۱:۱۷)

جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے

اور آیت میں فرمایا گیا :

تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً (۲۵:۱)

اللہ برکتوں والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو آگاہ کر دے

اور آیت میں ارشاد ہے:

وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ ۔۔۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (۳:۲۰)

اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے سب سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر قبول کر لیں تو راہ راست پر ہیں اور اگر منہ موڑ لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اللہ اپنے بندے کو خوب دیکھ رہا ہے ،

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (۹۲)

اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وہ اپنی نماز پر مداومت رکھتے ہیں۔‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ایک یہ بیان فرمایا کہ ہر نبی صرف ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں

اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوا کہ قیامت کے معتقد تو اسے مانتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور وہ نمازیں بھی صحیح وقتوں پر برابر پڑھا کرتے ہیں اللہ کے اس فرض کے قیام میں اور اس کی حفاظت میں سستی اور کاہلی نہیں کرتے ۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی

اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں ۔ خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو

وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ ۗ

اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی لاتا ہوں

اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو ۔

چنانچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے:

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُواْ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاء لَقُلْنَا مِثْلَ هَـذَا (۸:۳۱)

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں

وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ ۖ

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہونگے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہونگے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو،

کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے ، یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے ، جیسے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت ہے:

لَئِن بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى (۵:۲۸)

گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے

اور آیت میں ہے:

وَيَبْسُطُواْ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ (۶۰:۲)

اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں

ضحاک اور ابو صالح کہتے ہیں کہ عذاب کے لئے اٹھانا مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُواْ الْمَلَـئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـرَهُمْ (۸:۵۰)

کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں انکے منہ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں

یہی بیان یہاں ہے کہ فرشتے ان کی جان نکالنے کیلئے انہیں مار پیٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکا لو ۔

الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ (۹۳)

آج تمہیں ذلت کی سزا دی جائیگی اس سبب سے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے

کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی ، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی ، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہو گی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے ۔

مؤمن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (۱۴:۲۷) کی تفسیر میں ہے ،

ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے واللہ اعلم،

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ

اور تم ہمارے پاس تن تنہا آگئے جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس دن انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اس دن ان سے کہا جائے گا کہ تم تو اسے بہت دور اور محال مانتے تھے تو اب دیکھ لو جس طرح شروع شروع میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اوب دوبارہ بھی پیدا کر دیا ۔

وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (۱۸:۴۸)

اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کیے جائیں گے۔یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا

جو کچھ مال متاع ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا سب تم وہیں اپنے پیچھے چھوڑ آ ئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھاپی لیا وہ تو فنا ہو گیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائع ہو گیا یا تو نے نام مولیٰ پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو اوروں کے لئے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے ۔

حسن بصری فرماتے ہیں:

انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے؟یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں ۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم پیچھے چھوڑا ہوا تو یہاں نہیں ہے البتہ آگے بھیجا ہوا یہاں موجود ہے

اب جو یہ دیکھے گا تو کچھ بھی نہ پائے گا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ،

وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ

اور ہم تمہارے ہمراہ تمہارے ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جنکی نسبت تم دعویٰ رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں شریک ہیں۔

پھر انہیں ان کا شرک یاد دلا کر دھمکایا جائے گا کہ جنہیں تم اپنا شریک سمجھ رہے تھے اور جن پر ناز کر رہے تھے کہ ہمیں بچا لیں گے اور نفع دیں گے وہ آج تمہارے ساتھ کیوں نہیں؟

أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ (۲۸:۶۲)

تم جنہیں اپنے گمان میں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے کہاں ہیں

حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا

وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ـ مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ (۲۶:۹۲،۹۳)

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وہ کہاں ہیں؟‏ جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں

لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ (۹۴)

واقع تمہارے آپس میں قطع تعلق تو ہوگیا اور تمہارا دعویٰ سب تم سے گیا گزرا ہوا ہے۔‏

بَيْنَكُمْ کی ایک قرأت بَيْنُكُمْ بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہو گئے جیسے فرمان باری ہے:

إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَ ۔۔۔ وَمَا هُم بِخَـرِجِينَ مِنَ النَّارِ (۲:۱۶۶،۱۶۷)

جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہوجائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے۔

اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوبارہ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دلانے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہیں نکلیں گے۔

اور آیت میں ہے:

فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ (۲۳:۱۰۱)

پس جب صور پھونک دیا جائیگا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ

اور آیت میں ہے:

إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ ۔۔۔ وَمَا لَكُمْ مِّن نَّـصِرِينَ (۲۹:۲۵)

(حضرت ابراہیم ؑ نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیاوی دوستی کی بنا ٹھہرالی ہے تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے

اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہارا سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔‏

اور آیت میں ہے:

وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُواْ لَهُمْ (۲۸:۶۴)

کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ وہ بلائیں گے لیکن انہیں وہ جواب تک نہ دیں گے

اور آیت میں ہے:

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا ۔۔۔ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (۱۰:۲۸،۳۰)

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان کی آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے ا

ور ان کے وہ شرکا کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے؟‏سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی ہے گواہ کے طور پر کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی ۔

اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کی جانچ کر لے گااور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے ۔

اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں ۔

إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى ۖ

بیشک اللہ تعالیٰ دانہ کو اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے

دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اُگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے ۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں ۔

يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ

وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے اور وہ بےجان کو جاندار سے نکالنے والا ہے

پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور