Quran4UQuran4U

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

Surah Al Mutaffifin

Translated by Muhammad Sahib Juna Garhi

Noting by Maulana Salahuddin Yusuf

For Better Viewing Download Arabic / Urdu Fonts

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے


وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ

بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔‏   (۱)‏ 

الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ 

کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔‏   (۲)‏ 

وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ 

جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں   (۳)‏ 

یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے،

جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے۔

أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ 

کیا انہیں مرنے کے بعد اٹھنے کا خیال نہیں۔‏  (۴)‏ 

لِيَوْمٍ عَظِيمٍ 

اس عظیم دن کے لئے۔‏  (۵)‏ 

يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ 

جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔‏  (۶)‏ 

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ 

یقیناً بدکاروں کا اعمالنامہ سجین میں ہے   (۷)‏ 

سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے

 اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ 

تجھے کیا معلوم سجین کیا ہے۔‏  (۸)‏ 

كِتَابٌ مَرْقُومٌ 

(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔‏  (۹)‏ 

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ 

اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔‏   (۱۰)‏ 

الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ 

جو جزا اور سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے۔‏   (۱۱)‏ 

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ 

اسے صرف وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے آگے نکل جانے والا (اور) گناہگار ہوتا ہے۔‏   (۱۲)‏ 

إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِي  ‏

جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں    (۱۳)‏ 

یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔

كَلَّا ۖ

یوں نہیں

یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں ، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل علیہ السلام امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔

بَلْ ۜ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ 

بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے ‏ (۱۴)

یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الہٰی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑگئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں    ۔

 رین گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے

بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کر دی جاتی ہے، اور اگر توبہ کی بجائے، گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی پڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔

(ترمذی، باب تفسیر سورۃ المطففین، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالذنوب۔ مسند أحمد۲۹۷/۲)

كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ 

ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے  ‏   (۱۵)‏  

ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔

ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ 

پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے۔‏   (۱۶)‏ 

ثُمَّ يُقَالُ هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ 

پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔‏   (۱۷)‏ 

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ 

یقیناً نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے   (۱۸)‏ 

عِلَیِئیْنُ ، بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہٰی یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ 

تجھے کیا پتہ کہ علیین کیا ہے؟‏   (۱۹)‏ 

كِتَابٌ مَرْقُومٌ  ‏

(وہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔‏  (۲۰)‏   

يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ  

مقرب (فرشتے) اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔‏  (۲۱)‏   

إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ 

یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہونگے۔‏  (۲۲)‏   

عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ 

مسہریوں میں بیٹھے دیکھ رہے ہونگے۔‏  (۲۳)‏   

تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ 

تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی ترو تازگی پہچان لے گا۔‏  (۲۴)‏  

يُسْقَوْنَ مِنْ رَحِيقٍ مَخْتُومٍ 

یہ لوگ سر بمہر خالص شراب پلائے جائیں گے۔‏  (۲۵)‏   

خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ

جس پر مشک کی مہر ہوگی،

وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ 

سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہیے   (۲۶)‏   

یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا،

لِمِثلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ (الصافات۔ ٦١

وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ 

اور اس کی آمیزش تسنیم ہوگی   (۲۷)‏   

اس میں تسنیم شراب کی آمیزش ہوگی جو جنت کے بالائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہوگی۔

عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ 

وہ چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے۔‏  (۲۸)‏   

إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ 

گنہگار لوگ ایمانداروں کی ہنسی اڑیا کرتے تھے   (۲۹)‏   

یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ 

ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کے اشارے کرتے تھے۔‏  (۳۰)‏ 

وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِهِينَ 

اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے     (۳۱)‏

یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔

 دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)

وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَالُّونَ 

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراہ (بے راہ) ہیں۔‏   (۳۲)‏   

وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ

یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے      (۳۳)‏   

یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصرہ کرتے رہیں۔

فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ

پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے۔‏   (۳۴)‏   

عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ

تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہونگے۔‏     (۳۵)‏   

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پا لیا    (۳۶)‏     

کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔



© Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana,

Lahore, Pakistan

Enail: [email protected]

Visits wef Sep 2024

Tafsir Ibn Kathir in Urdu, Juzz 30, surahs 78 to 114, printed edition

In print

Tafsir Ibn Kathir, Urdu

Juzz 30, surahs 78 to 114

You are reading this free. The printed Urdu commentary for this surah is also available.

See this volume on Amazon

As an Amazon Associate we earn from qualifying purchases.

© Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana · Lahore, Pakistan · [email protected]

Lt Col (R) Muhammad Ashraf Javed (Late)
Founder, www.quran4u.com

Home · About · Contact · Privacy