Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Masad

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ  (1)

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا

یدا، ید (ہاتھ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک اور برباد ہو جائے

یہ بد دعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔

 وَ تَبَّ (اور وہ ہلاک ہوگیا) یہ خبر ہے

یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر دے دی،چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوگیا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ تین دن تک اسکی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہوگئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔(ایسر التفاسیر)

مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ  (2)

نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔

کمائی میں اس کی رئیسانہ حثییت اور جاہ ومنصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔

سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ  (3)

وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا۔‏

وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ  (4)

اور اس کی بیوی بھی (جائے گی) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے

‏ یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ مزید آگ بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر وعناد میں مددگار تھی آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مددگار ہوگی۔ (ابن کثیر)

بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی کریم کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔

 اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت کرتی اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر اکساتی تھی۔(فتح الباری)

فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ  (5)

اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔‏

جید گردن۔

 مسد، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے

بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہوگا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہوگا۔

مسدسے تشبیہ اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com