Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Takathur

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ(1)

ز یادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا

الھیٰ یلھی کے معنی ہیں،غافل کردینا۔

تکاثر، زیادتی کی خواہش۔ یہ عام ہے، مال، اولاد، اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش و خواش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔

یہاں اللہ تعالیٰ انسان کی اس کمزوری کو بیان کر رہا ہے۔ جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔

حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ(2)

یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔

اس کا مطلب ہے کہ حصول کی خاطر محنت کرتے کرتے تمہیں موت آ گئی اور تم قبروں میں جا پہنچے۔

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ(3)

ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے۔‏

یعنی تم جن تکاثر و تفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ(4)

ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا

‏ اس کا انجام عنقریب تم جان لو گے، یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا۔

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ(5)

ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔

مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس غفلت کا انجام اسطرح یقینی طور پر جان لو جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تم یقین کرتے ہو تو تم یقینا ً تکاثر وتفاخر میں مبتلا نہ ہو۔

لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ(6)

تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔

یہ قسم مخذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ(7)

اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔

پہلا دیکھنا دور سے ہوگا یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لیے اسے عین الیقین (جس کا یقین مشاہدہ عین سے حاصل ہو) کہا گیا۔

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ(8)

پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا

یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہونگی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن اور صحت، مال و دولت اور اولاد وغیرہ۔

بعض کہتے ہیں کہ یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا

بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک سے ہوگا۔

بعض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کیا ہوگا وہ عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا وہ دھر لیے جائیں گے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com