Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Ghashiyah

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ(١)

تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے ۔‏

غاشیہ سے مراد قیامت ہے، اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ (۲)

اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہونگے۔

یعنی کافروں کے چہرے،

خاشعۃ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل، جیسے نمازی، نماز کی حالت میں عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔

عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (۳)

(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہونگے

یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہوگا۔

 اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کر کے تھکے ہوئے ہونگے یعنی بہت عمل کرتے رہے، لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق بدعات پر مبنی ہونگے، اس لئے عبادت اور سخت اعمال کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔

چنانچہ اس مفہوم کی روح سے حضرت ابن عباس نے عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحیح بخاری)

تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (۴)

اور دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔‏

تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ (۵)

نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا۔

یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ (فتح القدیر)

لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ (۶)

ان کے لئے کانٹے دار درختوں کے سوا اور کچھ کھانا نہ ہوگا۔

یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے،

 بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ (۷)

نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‏

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ (۸)

بہت سے چہرے اس دن تروتازہ اور (آسودہ) حال ہونگے۔‏

لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ (۹)

اپنی کوشش پر خوش ہونگے۔‏

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ (۱۰)

بلند و بالا جنتوں میں ہونگے۔‏

لَا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً (۱١)

جہاں کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے۔‏

فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ (۱١)

جہاں بہتا ہوا چشمہ ہوگا۔‏

فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ (۱۳)

(اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہونگے۔‏

وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ (۱۴)

اور پینے کے برتن رکھے ہوئے (ہونگے)۔‏

وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ (١۵)

اور قطار میں لگے ہوئے تکیے ہونگے۔

یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرور ہوں گے۔

وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ (۱۶)

اور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہونگی۔‏

أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (۱۷)

یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے وہ کس طرح پیدا کئے

اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہ تھی، اس لیے اللہ نے اس کا تذکرہ کیا

یعنی اونٹ کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا اور کتنی قوت و طاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو وہ انکار نہیں کرے گا اور تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا

علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے لئے، اسکا دودھ تمہارے پینے کے لئے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔

وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ (۱۸)

اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا۔

یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے پانچ سو سال کی مسافت پر پھر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے اس میں کوئی شگاف اور کجی نہیں

نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔

وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ(۱۹)

اور پہاڑوں کی طرف کس طرح گاڑھ دیئے گئے ہیں۔

یعنی کس طرح اس کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑھ دیا تاکہ زمین حرکت نہ کرے،

نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔

وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ  (۲۰)

اور زمین کی طرف کس طرح بچھائی گئی ہے۔

یعنی کس طرح اسے ہموار کر کے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے وہ اس پر چلتا پھرتا ہے کاروبار کرتا ہے اور فلک بوس عمارتیں بناتا ہے۔

فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ (۲۱)

پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں

یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔

لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (۲۲)

آپ کچھ ان پر دروغہ نہیں ہیں۔‏

إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ (۲۳)

ہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے۔‏

فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ (۲۴)

اسے اللہ بہت بڑا عذاب دے گا۔

یعنی جہنم کا دائمی عذاب۔

إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ (۲۵)

بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔‏

ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (۲۶)

اور بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔

مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللھم حاسبنا حسابا یسیرا۔ پڑھا جائے،

 یہ دعا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جو آپ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورۃ انشقاق میں گزرا لیکن اس کے جواب میں پڑھنا یہ آپ سے ثابت نہیں۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com