Tafsir Ibn Kathir

الْقُرْآن الْحَكِيمٌ

Quran Tafsir تفسير

 مولانا صلاح الدين يوسف

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Sajdah

Urdu Translation اردو ترجمہ   Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


الم (۱)

الف لام میم‏

تَنْزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۲)

بلا شبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے (١)‏

حدیث میں آتا ہے کہ نبیﷺ جمعہ کے دن فجر نماز میں الَمَّ السَّجْدَہ اور دوسری رکعت  میں سُوْرَۃ دہر پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح بخاری

اسی طرح یہ بھی سند سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے قبل سورۃ الم السجدہ اور سورہ ملک پڑھا کرتے تھے۔ ترمذی

۱۔ مطلب یہ ہے کہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے آسمانی کتاب ہدایت ہے۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۚ

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے گھڑ لیا ہے

یہ بطور توبیخ کے ہے کہ کیا رب العالمین کے نازل کردہ اس کلام بلاغت نظام کی بابت یہ کہتے ہیں کہ اسے (محمد ﷺ) نے گھڑ لیا ہے؟

بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أَتَاهُمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ (۳)

 (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے

 تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جنکے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا (۱) تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔‏

یہ نزول قرآن کی علت ہے۔

اس سے معلوم ہوا (جیسا کہ پہلے بھی وضاحت گزر چکی ہے) کہ عربوں میں نبیﷺ پہلے نبی تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو بھی عربوں میں مبعوث نبی قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔

اس اعتبار سے قوم سے مراد پھرخاص قریش ہوں گے جن کی طرف کوئی نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نہیں آیا۔

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ۖ

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا

اس کے لئے دیکھئے سورہ اعراف ٥٤ کا حاشیہ

یہاں اس مضمون کو دہرانے سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور عجائب صنعت کے ذکر سے شاید وہ قرآن کو سنیں اور اس پر غور کریں۔

مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ

تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں

یعنی وہاں کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا، جو تمہاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ کے عذاب کو ٹال دے، نہ وہاں کوئی سفارشی ہی ایسا ہوگا جو تمہاری سفارش کر سکے۔

أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ (۳)

کیا اس پر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔

یعنی اے غیر اللہ کے پجاریو اور دوسروں پر بھروسہ رکھنے والو! کیا پھر تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ

وہ آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے

آسمان سے، جہاں اللہ کا عرش اور لوح محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ زمین پر احکام نازل فرماتا ہے یعنی تدبیر کرتا اور زمین پر ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جیسے موت اور زندگی، صحت اور مرض، عطا اور منع، غنا اور فقر، جنگ اور صلح، عزت اور ذلت، وغیرہ، اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے اپنی تقدیر کے مطابق یہ تدبیریں اور تصرفات کرتا ہے۔

ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (۵)

پھر (وہ کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازہ تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔

یعنی پھر اس کی یہ تدبیر یا امر اس کی طرف واپس لوٹتا ہے ایک ہی دن میں جسے فرشتے لے کر جاتے ہیں اور آنے جانے کا فاصلہ اتنا ہے کہ غیر فرشتہ ہزار سال میں طے کرے۔

 یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن انسانوں کے سارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔

اس یوم کی تعیین و تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے امام شوکانی نے ۱۵،۱٦ اقوال اس ضمن میں ذکر کیے ہیں اس لیے حضرت ابن عباسؓ نے اس کے بارے میں توقف کو پسند فرمایا اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔

 صاحب ایسر التفاسیر لکھتے ہیں کہ قرآن میں یہ تین مقامات پر آیا ہے اور تینوں جگہ الگ الگ دن مراد ہے۔

 سورہ حج آیت ٤۷ میں یوم کا لفظ عبارت ہے اس زمانہ اور مدت سے جو اللہ کے ہاں اور سورہ معارج میں جہاں یوم کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے یوم حساب مراد ہے اور اس مقام زیر بحث میں یوم سے مراد دنیا کا آخری دن ہے جب دنیا کے تمام معاملات فنا ہو کر اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔

ذَلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (۶)

یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے والا، زبردست غالب بہت ہی مہربان۔‏

الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (۷)

جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی (١) اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی ۔‏(٢)

۱۔ یعنی جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، وہ چونکہ اس کی حکمت و مصلحت کا اعتدال ہے، اس لئے اس میں اپنا ایک حسن اور انفرادیت ہے۔ یوں اس کی بنائی ہوئی ہرچیز حسین ہے

 اور بعض نے أَحْسَنَ کے معنی اَتْکُنَ و اَحْکَمَ کے کئے ہیں، یعنی ہرچیز مضبوط اور پختہ بنائی۔

 بعض نے اسے اَ لْھَمَ کے مفہوم میں لیا یعنی ہر مخلوق کو ان چیزوں کا الہام کر دیا جس کی وہ محتاج ہے۔

۲۔ یعنی انسان اول آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا جن سے انسانوں کا آغاز ہوا اور اس کی زوجہ حضرت حوا کو آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا کر دیا جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (۸)

پھر اس کی نسل ایک بےوقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی

یعنی منی کے قطرے سے،

مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی جوڑا بنانے کے بعد، اس کی نسل کے لئے ہم نے یہ طریقہ مقرر کر دیا کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کریں، ان کے جنسی ملاپ سے جو قطرہ آب، عورت کے رحم میں جائے گا، اس سے ہم ایک انسانی پیکر تراش کر باہر بھیجتے رہیں گے۔

ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ

جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اس نے روح پھونکی (١) اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (٢)

یعنی اس بچے کی ماں کے پیٹ میں نشو و نما کرتے، اس کے اعضا بناتے، سنوارتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکتے ہیں۔

یعنی ساری چیزیں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی تخلیق کی تکمیل کر دے، پس تم سننے والی بات کو سن سکو دیکھنے والی چیز کو دیکھ سکو اور ہر عقل و فہم میں آنے والی بات کو سمجھ سکو۔

قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (۹)

 (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو

یعنی اتنے احسانات کے باوجود انسان اتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بہت ہی کم ادا کرتا ہے یا شکر کرنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں۔

وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۚ

اور انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے (١) کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟

جب کسی چیز پر کوئی دوسری چیز غالب آجائے اور پہلی کے تمام اثرات مٹ جائیں تو اس کو ضلالت (گم ہو جانے) سے تعبیر کرتے ہیں

 ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ کے معنی ہوں گے  کہ جب مٹی میں مل کر ہمارا وجود زمین میں غائب ہو جائے گا۔

بَلْ هُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ (۱۰)

 بلکہ (بات یہ ہے) کہ وہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں۔‏

قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ (۱۱)

کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے (١) پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‏

یعنی اس کی ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ جب تمہاری موت کا وقت آجائے تو وہ آکر روح قبض کر لے۔

وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ

کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناہگار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے،

یعنی اپنے کفر و شرک اور معصیت کی وجہ سے مارے ندامت کے۔

رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (۱۲)

کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب (٢) تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں (٢)

۱۔  یعنی جس کو جھٹلایا کرتے تھے، اسے دیکھ لیا، جس کا انکار کرتے تھے، اسے سن لیا۔

یا تیری وعیدوں کی سچائی کو دیکھ لیا اور پیغمبروں کی تصدیق کو سن لیا،

لیکن اس وقت کا دیکھنا، سننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔

۲۔  لیکن اب یقین کیا تو کس کام کا؟

اب تو اللہ کا عذاب ان پر ثابت ہو چکا جسے بھگتنا ہوگا۔

وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا

اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے،

یعنی دنیا میں، لیکن یہ ہدایت جبری ہوتی، جس میں امتحان کی گنجائش نہ ہوتی۔

وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (۱۳)

لیکن میری بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا ۔

 یعنی انسانوں کی دو قسموں میں سے جو جہنم میں جانے والے ہیں، ان سے جہنم کو بھرنے والی میری بات سچ ثابت ہوگی۔

فَذُوقُوا بِمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ

اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزہ چکھوِ ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا

یعنی جس طرح تم ہمیں دنیا میں بھلائے رہے، آج ہم بھی تم سے ایسا ہی معاملہ کریں گے ورنہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تو بھولنے والا نہیں ہے۔

وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۱۴)

اور اپنے کئے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ہمیشہ عذاب کا مزہ چکھو۔‏

إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا

ہماری آیاتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں (١) جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں (٢)

۱۔ یعنی تصدیق کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

۲۔ یعنی اللہ کی آیات کی تعظیم اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔

وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (۱۵)  ۩

اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں (١) اور تکبر نہیں کرتے (٢)  سجدہ

۱۔  یعنی رب کو ان چیزوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور اس کے ساتھ اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں جن میں سے سب سے بڑی اور کامل نعمت ایمان کی ہدایت ہے۔ یعنی وہ اپنے سجدوں میں، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعٰلٰی وَ بَحَمْدِہٖ  کلمات پڑھتے ہیں۔

۲۔ یعنی اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاہلوں اور کافروں کی طرح تکبر نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا، جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ اس لیے اہل ایمان کا معاملہ ان کے برعکس ہوتا ہے وہ اللہ کے سامنے ہر وقت عاجزی ذلت ومسکینی اور خشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہیں۔

تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا

ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں (١) اپنے رب کے خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں (۲)

۱۔ یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل (تہجد) پڑھتے توبہ استغفار، تسبیح تحمید اور دعا الحاح و زاری کرتے ہیں۔

۲۔  یعنی اس کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و غضب اور مؤاخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی نہیں رکھتے کہ عمل سے بےپرواہ ہو جائیں جیسے بےعمل اور بدعمل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کر لیتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ہی مایوس ہو جائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر وضلالت ہے۔

وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (۱۶)

اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں

یعنی انفاق میں صدقات واجبہ (زکوٰۃ) اور عام صدقہ و خیرات دونوں شامل ہیں، اہل ایمان دونوں کا حسب استطاعت اہتمام کرتے ہیں۔

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۷)

کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے (۱) جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے (۲)‏

۱۔ نَفْسٌ نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔

اس کی تفسیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں کسی کان نے ان کو سنا نہیں نہ کسی انسان کے وہم و گمان میں ان کا گزر ہوا۔

۲۔  اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔

أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ۚ

کیا جو مؤمن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟

یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مؤمن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق و تفاوت ہوگا

مؤمن اللہ کے مہمان ہوں گے۔ اور اعزاز و کرام کے مستحق اور فاسق و کافر تعزیر و عقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ جاثیہ۔ ٢١ سورہ ص۔٢٨ سورہ حشر۔ ٢٠ وغیرہ۔

لَا يَسْتَوُونَ (۱۸)

یہ برابر نہیں ہو سکتے۔‏

أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَى نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۹)

جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے انکے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے انکے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے۔‏

وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ

لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے،

كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ (۲۰)

 جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے (١) اور کہہ دیا جائیگا کہ (٢) اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو۔‏

۱۔ یعنی جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو فرشتے پھر جہنم کی گہرائیں میں دھکیل دیں گے۔

۲۔  یہ فرشتے کہیں گے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی، بہرحال اس میں مکذبین کی ذلت و رسوائی کا جو سامان ہے وہ چھپا ہوا نہیں۔

وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (۲۱)

بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب (۱) اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وہ لوٹ آئیں (۲)‏

۱۔ عَذَابِ الْأَدْنَى (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔

 بعض کے نزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔

 امام شوکانی فرماتے ہیں۔ تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔

۲۔ یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر و شرک اور معصیت سے باز آجائیں۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعظ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا

یعنی اللہ کی آیتیں سن کر جو ایمان و اطاعت کی موجب ہیں، جو شخص ان سے اعراض کرتا ہے، اس سے بڑا ظالم کون ہے؟

إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ (۲۲)

 (یقین مانو) کہ ہم بھی گناہ گار سے انتقام لینے والے ہیں۔‏

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ ۖ

بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا چاہیے

کہا جاتا ہے کہ اشارہ ہے اس ملاقات کی طرف جو معراج کی رات نبی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان ہوئی، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نمازوں میں تخفیف کرانے کا مشورہ دیا تھاـ

وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ (۲۳)

اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا۔‏

' اس ' سے مراد کتاب (تورات) ہے یا خود حضرت موسیٰ علیہ السلام۔

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ

اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے،

وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ (۲۴)

 اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اس آیت سے صبر کی فضیلت واضح ہے، صبر کا مطلب اللہ کے اوامر کے بجا لانے اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق اور ان کے پیروی میں جو تکلیفیں آئیں، انہیں خندہ پیشانی سے جھیلنا،

 اللہ نے فرمایا، ان کے صبر کرنے اور آیات الٰہی پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم نے ان کو دینی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز کیا۔ لیکن جب انہوں نے اس کے برعکس تبدیل و تحریف کا ارتکاب شروع کر دیا، تو ان سے یہ مقام سلب کر لیا گیا، چنانچہ اس کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے، پھر ان کا عمل صالح رہا اور نہ اعتقاد صحیح۔

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (۲۵)

آپ کا رب ان (سب) کے درمیاں ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں

اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو اہل کتاب میں باہم برپا تھا، ضمناً وہ اختلاف بھی آجاتے ہیں۔ جو اہل ایمان کفر، اہل حق اور اہل باطل کے درمیان دنیا میں رہے اور ہیں دنیا میں تو ہر گروہ اپنے دلائل پر مطمئن اور اپنی ڈگر پر قائم رہے۔ اس لئے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل کفر و باطل کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ ۚ

کیا اس بات نے بھی انہیں کوئی ہدایت نہیں دی کہ ہم نے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں

یعنی پچھلی امتیں جو جھٹلانے اور عدم ایمان کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ آج ان کا وجود دنیا میں نہیں، البتہ ان کے مکانات ہیں جن کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں۔

 مطلب اس سے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی یہی ہو سکتا ہے، اگر ایمان نہ لائے۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ (۲۶)

اس میں تو بڑی بڑی نشانیاں ہیں، کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟‏

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ ۖ

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں

جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں

پانی سے مراد آسمانی بارش اور چشموں نالوں اور وادیوں کا پانی ہے، جسے اللہ تعالیٰ بنجر زمین کے علاقوں کی طرف بہا کر لے جاتا ہے اس سے پیداوار ہوتی ہے جو انسان کھاتے ہیں اور جو بھوسا چارہ ہوتا ہے وہ جانور کھاتے ہیں

اس سے مراد کوئی خاص زمین یا علاقہ مراد نہیں ہے بلکہ عام ہے۔

جُرُز بےآباد، بنجر اور چٹیل زمین کو شامل ہے۔

أَفَلَا يُبْصِرُونَ (۲۷)

کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے ـ۔‏

وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (۲۸)

اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا، اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ۔‏

اس فیصلے (الْفَتْحُ) سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے اللہ کی مدد کب آئے گی؟ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ فی الحال تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تجھ پر ایمان لانے والے چھپے پھرتے ہیں۔

قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ (۲۹)

جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان لانا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی ۔

يَوْمَ الْفَتْح سے مراد آخرت کے  فیصلے کا دن، جہاں ایمان مقبول ہوگا اور نہ مہلت دی جائے گی۔ فتح مکہ کے دن مراد نہیں ہے کیونکہ اس دن طلقاء کا اسلام قبول کر لیا تھا، جن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی ۔ (ابن کثیر)

طلقاء سے مراد وہ اہل مکہ ہیں جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن سزا و تعزیر کے بجائے معاف فرما دیا تھا اور یہ کہہ کر آزاد کر دیا تھا کہ آج تم سے تمہاری پچھلی ظالمانہ کاروائیوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چنانچہ ان کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی۔

فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانْتَظِرْ إِنَّهُمْ مُنْتَظِرُونَ (۳۰)

اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں (١) اور منتظر رہیں (۲) یہ بھی منتظر رہیں ۔‏(٣)

۱۔ یعنی ان مشرکین سے اعراض کرلیں اور تبلیغ و دعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا:

اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (۶:۱۰۶)

آپ خود اس طریقت پر چلتے رہیے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے

 اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔

٣٠۔٢ یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے؟ یقیناً وہ پورا ہو کر رہے گا۔

٣٠۔٣ یعنی کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہو جائے اور اس کی دعوت ختم ہو جائے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا اور آپ پر گردشوں کے منتظر مخالفوں کو ذلیل خوار کیا یا ان کو آپ کا غلام بنایا دیا۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com