Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Masad

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


بدترین اور بدنصیب میاں بیوی

 صحیح بخاری شریف میں ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحا میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے یاصباحاہ یاصباحاہ کہنے لگے قریش سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟

 سب نے جواب دیا جی ہاں۔

آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں تو ابولہب کہنے لگا تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟

 اس پر یہ سورت اتری۔  (بخاری)

ابولہب

یہ ابولہب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزٰی بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذاء دہی تکلیف رسائی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا،

ربیعہ بن عباد ویلی اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ فرما رہے ہیں لوگو لا الہ الا اللہ کہو تو فلاح پاؤ گے لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا لوگو یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔

غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟

 لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے (مسند احمد)

 ابوالزنادنے راوی حدیث حضرت ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے

 فرمایا نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا،

 دوسری روایت میں ہے:

 میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے لوگو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے،

آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تو تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہوں اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں بھی گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا  (احمد و طبرانی)

تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ  (۱)

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا  ‏

مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ  (۲)

نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔

اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔

ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابو لہب کہنے لگا

 اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس کے عذاب سے چھوٹ جاؤں گا

 اس پر آیت مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ، اتری،

سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ  (۳)

وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا۔‏

فرمایا کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا،

وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ   (۴)

اور اس کی بیوی بھی (جائے گی) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے  ‏

اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اسی لئے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی اور جہنم کا ایندھن سمیٹتی رہے گی،

یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ   سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر اسی کو پسند کرتے ہیں،

 ابن عباس ؓ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی،

یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا،

لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے، واللہ اعلم۔

سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔

فِى جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍۭ  (۵)

اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔‏

مَّسَد کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔

حضرت عروہ فرماتے ہیں یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔

 ثوری فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔

جوہری فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔

مجاہد فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے :

 جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوک دار پتھر لئے یوں کہتی ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔

ہم مذمم کے منکر ہیں ، اس کے دین کے دشمن ہیں اور اس کے نافرمان ہیں۔

اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبتہ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے صدیق اکبر نے اسے اس حالت میں دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے ،

آپ ﷺنے فرمایا :

صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں ،

 خود قرآن فرماتا ہے

وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرءَانَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا (۱۷:۴۵)

جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردے ڈال دیتے ہیں۔

 یہ ڈائن آ کر حضرت ابوبکر کے پاس کھڑی ہو گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت صدیق اکبر کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن قدرتی حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔

اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں نہیں رب البیت کی قسم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں (ابن ابی حاتم)

 ایک مرتبہ یہ اپنی لمبی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔

 ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سارے ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔

بزار میں ہے :

 اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو حضرت صدیق نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد حضرت صدیقؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟

 آپ نے فرمایا فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی،

بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں پہنچایا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا،

 ڈول کی رسی کو عرب مَسَد کہدیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے،

 ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے نہ باطن میں نہ چھپے نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com