Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Alaq

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (۱)

پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا

پہلی وحی

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارہ کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں شروع شروع میں وحی آئی 

فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اقْرَأْ یعنی پڑھیے

آپ فرماتے ہیں ، میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔

 فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچایہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا پڑھو میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے مَا لَمْ يَعْلَمْ پڑھا۔

آپﷺ ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے اور فرمایا مجھے کپڑا اڑھا دو چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا مجھے اپنی جان جانے کا خو ف ہے ، حضرت خدیجہؓ نے کہا حضورآپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا آپ صلہ رحمی کرتے ہیں سچی باتیں کرتے ہیں دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں ۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں

پھر حضرت خدیجہؓ آپ کولے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہوگئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں حضرت خدیجہؓ نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے،

ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔

ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ راز داں فرشتہ ہے جو حضرت عیسیٰ کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا ، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتاجبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟

ورقہ نے کہا ہاں ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آگیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے

ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ نے پہاڑ کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت حضرت جبرائیل آجاتے اور فرما دیتے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ اس سے آپ کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آجاتے۔ (مسند احمد)

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے ۔

پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی ۔

خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۲)

جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ ‏

اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (۳)

تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے

الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (۴)

جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔ ‏

عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (۵)

جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔

اس میں تنبیہہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا

علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے پس علم کی تین قسمیں ہوئیں

-       ذہنی ،

-       لفظی اور

-       رسمی

 رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا :

 پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھامعلوم کرادیا۔

ایک اثر میں و ارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو،

 اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا۔

كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى (۶)

سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔‏

أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى (۷)

اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بےپرواہ (یا تونگر) سمجھتا ہے۔‏

إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى (۸)

یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے۔‏

اللہ سے ڈرنا

فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور ، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے ۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا؟

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا

-       ایک طالبعلم اور

-        دوسرا طالب دنیا ۔

ان دونوں میں بڑافرق ہے ۔

علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی

 انما یخشی اللّٰہ من عبادہ العما ءُ

یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے

-       طالب علم اور

-       طالب دنیا

أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى (۹)

(بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے۔‏

عَبْدًا إِذَا صَلَّى (۱۰)

جبکہ وہ بندہ نماز ادا کرتا ہے ۔‏

أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى (۱۱)

بھلا بتلا تو اگر وہ ہدایت پر ہو ‏

أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى (۱۲)

یا پرہیزگاری کا حکم دیتا ہو۔

شان نزول

یہ آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سے  سمجھایا گیا کہ جنہیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقویٰ کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں ؟

 کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا ،

أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (۱۳)

بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو

أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى (۱۴)

کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ ‏

كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (۱۵)

یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (۱۶)

ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے۔‏

فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ (۱۷)

یہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے۔‏

سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ  (۱۸)

ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلا لیں گے۔‏

اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرارہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت ، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑ دی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں ، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلالے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے ۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟

ابوجہل گا واقعہ

صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا :

اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے

دوسری روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کردیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری :

فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ

اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔  (ترمذی)

مسند احمد میں ابن عباس سے مروی ہے :

 ابوجہل نے کہا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لونگا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے نہ اپنے بال بچوں کو پاتے ۔

ابن جریر میں ہے :

 ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟

اس نے کہا کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہوگئے ۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے

ابن جریر کی اور روایت میں ہے:

 ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تمھارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟

لوگوں نے کہا ہاں تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملادوں گا

 ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بد حواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے ؟

 کہنے لگا کہ میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ

اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ ذرا قریب آجاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے پس یہ آیتیں كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔

  یہ حدیث مسند مسلم ، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے

كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ  (۱۹)۩

خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔

پھر فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔

 اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ وناصر ہے ۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا ، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو

پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ اذالسماء نشقت میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com