Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Balad

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ  (۱)

میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں ‏

وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ  (۲)

اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں ‏

مکہ مکرمہ کی قسم

اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآ نحالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں

 لَا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہو گا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہو گا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے

صحیح حدیث میں بھی ہے :

 اس بابرکت شہرمکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہ کاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی ہر حاضر کو چاہیے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے

 ایک روایت میں ہے:

 اگر یہاں کے جنگ و جدال کے جواز کی دلیل میں کوئی میری لڑائی پیش کرے تو کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں نہیں دی

وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ  (۳)

اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اولاد کی ‏

پھر اللہ تعالیٰ قسم کھاتا ہے باپ کی اور اولاد کی

بعض نے تو کہا ہے کہ مَا وَلَدَ  میں مَا نافیہ ہے یعنی قسم ہے اس کی جو اولاد والا ہے اور قسم ہے اس کی جو بے اولاد ہے یعنی عیالدار اور بانجھ

 مَا کو موصولہ مانا جائے تو معنی یہ ہوئے کہ باپ کی اور اولاد کی قسم ،

باپ سے مراد حضرت آدمؑ اور اولاد سے مراد کل انسان، زیادہ قوی اور بہتر بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے قسم ہے مکہ کی جو تمام زمین اور کل بستیوں کی ماں ہے تو اس کے بعد اس کے رہنے والوں کی قسم کھائی اور رہنے والوں یعنی انسان کے اصل اور اس کی جڑ یعنی حضرت آدم ؑکی پھر ان کی اولاد کی قسم کھائی

 ابو عمران فرماتے ہیں مراد حضرت ابراہیم ؑاور آپ کی اولاد ہے

 امام ابن جریرؒ فرماتے ہیں عام ہے یعنی ہر باپ اور ہر اولاد

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ  (۴)

یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو بالکل درست قامت جچے تلے اعضاء والاٹھیک ٹھاک پیدا کیا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں ہی اسے یہ پاکیزہ ترتیب اور عمدہ ترکیب دے دی جاتی ہے جیسے فرمایا

ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ۔ وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ  (۸۷:۲،۳)

اس اللہ نے تجھے پیدا کیا درست کیا ٹھیک ٹھاک بنایا اور پھر جس صورت میں چاہا ترکیب دی

 اور جگہ ہے

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَـٰنَ فِىٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٍ۬ (۹۵:۴)

ہم نے انسان کو بہترین صورت پر بنایا ہے

ابن عباسؓ سے مروی ہے:

 قوت طاقت والا پیدا کیا ہے خود اسے دیکھو اس کی پیدائش کی طرف غور کرو اس کے دانتوں کا نکلنا دیکھو وغیرہ

حضرت مجاہد فرماتے ہیں پہلے نطفہ پھر خون بستہ پھر گوشت کا لوتھڑا غرض اپنی پیدائش میں خوب مشقتیں برداشت کی بلکہ دودھ پلانے میں بھی مشقت اور معیشت میں بھی تکلیف

حضرت قتادہ فرماتے ہیں سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے

عکرمہ فرماتے ہیں شدت اور طول میں پیدا ہوا ہے

قتادہ فرماتے ہیں سختی اور طلب کسب میں پیدا کیا گیا ہے

یہ بھی مروی ہے اعتدال اور قیام میں دنیا اور آخرت میں سختیاں سہنی پڑتی ہیں

أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ  (۵)

کیا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کسی کے بس میں نہیں

حضرت آدمؑ چونکہ آسمان میں پیدا ہوئے تھے اس لیے یہ کہا گیا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال کے لینے پر کوئی قادر نہیں اس پر کسی کا بس نہیں کیا وہ نہ پوچھا جائے گا کہ کہاں سے مال لایا اور کہاں خرچ کیا ؟

یقیناً اس پر اللہ کا بس ہے اور وہ پوری طرح اس پر قادر ہے

يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُبَدًا  (۶)

کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے بہت کچھ مال خرچ کر ڈالا ‏

أَيَحْسَبُ أَنْ لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ  (۷)

کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ ‏

پھر کہتا ہے کہ میں نے بڑے وارے نیارے کیے ہزاروں لاکھوں خرچ کر ڈالے کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا؟

 یعنی اللہ کی نظروں سے وہ اپنے آپ کو غائب سمجھتا ہے

أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ  (۸)

کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں

وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ  (۹)

زبان اور ہونٹ (نہیں) بنائے۔ ‏

کیا ہم نے اس انسان کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں دیں؟

 اور دل کی باتوں کے اظہار کے لیے زبان عطا نہیں فرمائی؟

 اور دو ہونٹ نہیں دئیے؟

جن سے کلام کرنے میں مدد ملے کھانا کھانے میں مدد ملے اور چہرے کی خوبصورتی بھی ہو اور منہ کی بھی

 ابن عساکر میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میں نے بڑی بڑی بیحد نعمتیں تجھ پر انعام کیں جنہیں تو گن بھی نہیں سکتا نہ اس کے شکر کی تجھ میں طاقت ہے

-       میری ہی یہ نعمت بھی ہے کہ میں نے تجھے دیکھنے کو دو آنکھیں دیں پھر میں نے ان پر پلکوں کا غلاف بنا دیا ہے پس ان آنکھوں سے میری حلال کردہ چیزیں دیکھ اگر حرام چیزیں تیرے سامنے آئیں تو ان دونوں کو بند کر لے

-       میں نے تجھے زبان دی ہے اور اس کا غلاف بھی عنایت فرمایا ہے میری مرضی کی باتیں زبان سے نکال اور میری منع کی ہوئی باتوں سے زبان بند کر لے

-       میں نے تجھے شرمگاہ دی ہے اور اس کا پردہ بھی عطا فرمایا ہے حلال جگہ تو بیشک استعمال کر لیکن حرام جگہ پردہ ڈال لے

 اے ابن آدم تو میری ناراضگی نہیں اٹھا سکتا اور میرے عذاب کے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ  (۱۰)

ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے

پھر فرمایا کہ ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے بھلائی کا اور برائی کا

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 دو راستے ہیں پھر تمہیں برائی کا راستہ بھلائی کے راستے سے زیادہ اچھا کیوں لگتا ہے؟

 یہ حدیث بہت ضعیف ہے

یہ حدیث مرسل طریقے سے بھی مروی ہے

 ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے دونوں دودھ ہیں اور مفسرین نے بھی یہی کہا ہے

 امام ابن جریر فرماتے ہیں ٹھیک قول پہلا ہی ہے جیسے اور جگہ ہے

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا۔ إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (۷۶:۲،۳)

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کیلئے  پیدا کیا اور اسکو سنتا دیکھتا بنایا ‏ ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ  (۱۱)

سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا

حضرت ابن عمر ؓفرماتے ہیں الْعَقَبَةَ  جہنم کے ایک پھسلنے والے پہاڑ کا نام ہے

حضرت کعب احبارؓ فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں

قتادہؓ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہو جاؤ

وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ  (۱۲)

اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟‏

پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟

فَكُّ رَقَبَةٍ  (۱۳)

کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا۔‏

تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا

 ابن زیدؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا؟

 پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو الْعَقَبَةُ  کیا ہے؟

آزادگی گردن یا صدقہ طعام

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو کسی مسلمان کی گردن چھڑوائے اللہ تعالیٰ اس کاہرایک عضو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ

حضرت امام زید العابدینؒ نے جب یہ حدیث سنی تو سعید بن مرجانہ راوی حدیث سے پوچھا کہ کیا تم نے خود حضرت ابوہریرہؓ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے؟

آپ نے فرمایا ہاں

 تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا کہ مطرف کو بلا لو جب وہ سامنے آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ تم اللہ کے نام پر آزاد ہو

بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے

صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ یہ غلام دس ہزار درہم کا خریدا ہوا تھا

مسند میں ہے:

-       جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے

-       اور جو مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے

-        جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو اسے قیامت کے دن نور ملے گا۔

 اور روایت میں یہ بھی ہے :

 جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے خواہ وہ لگے یا نہ لگے اسے اولاد اسمٰعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب ملے گا

 اور حدیث میں ہے :

جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے مر جائیں اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کریگا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑے دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا جس سے چاہے چلا جائے

ان تمام احادیث کی سندیں نہایت عمدہ ہیں۔

ابو داؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت واثلہ بن اسقع سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے تم میں سے کوئی پڑھے اور اس کا قرآن شریف اس کے گھر میں ہو تو کیا وہ کمی زیادتی کرتا ہے؟

ہم نے کہا حضرت ہمارا مطلب یہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہمیں سناؤ ،

آپ نے فرمایا ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کر لی تھی تو آپ نے فرمایا:

 اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا ،

یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے ،

اور حدیث میں ہے

 جو شخص کسی کی گردن آزاد کرائے اللہ تعالیٰ اسے اس کا فدیہ بنا دیتا ہے ۔

 ایسی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں ،

مسند احمد میں ہے :

ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسا کام بتادیجئے جس سے میں جنت میں جا سکوں؟

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھوڑے سے الفاظ میں بہت ساری باتیں تو پوچھ بیٹھا ۔ نسمہ آزاد کر ، رقبتہ چھڑا،

اس نے کہا حضرت کیا یہ دونوں ایک چیز نہیں ؟

آپ نے فرمایا :

نہیں نسمہ کی آزادی کے معنی تو ہیں اکیلا ایک غلام آزاد کرے اور فک رقبۃٍ کے معنی ہیں کہ تھوڑی بہت مدد کرے

 دودھ والا جانور دودھ پینے کے لیے کسی مسکین کو دینا، ظالم رشتہ دار سے نیک سلوک کرنا، یہ جنت کے کام ہیں، اگر اس کی تجھے طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلا، پیاسے کو پلا، نیکیوں کا حکم کر، برائیوں سے روک، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سوائے بھلائی کے اور نیک بات کے اور کوئی کلمہ زبان سے نہ نکال۔

أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ  (۱۴)

یا بھوکے کو کھانا کھلانا۔‏

ذِي مَسْغَبَةٍ کے معنی ہیں بھوک والا، جبکہ کھانے کی اشتہا ہو ، غرض بھوک کے وقت کا کھلانا

يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ  (۱۵)

کسی رشتہ دار یتیم کو۔‏

أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ  (۱۶)

یا خاکسار مسکین کو۔

اور وہ بھی اسے جو نادان بچہ ہے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی ہے ،

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

مسکین کو صدقہ دینا اکہرا ثواب رکھتا ہے ، اور رشتے ادر کو دینا دوہرا اجر دلواتا ہے ، (مسند احمد)

 یا ایسے مسکین کو دینا جو

-       خاک آلود ہو،

-        راستے میں پڑا ہوا ہو

-        گھر ورنہ ہو ،

-        بربستر نہ ہو ،

-        بھوک کی وجہ سے پیٹھ زمین دوز ہو رہی ہو ،

-        اپنے گھر سے دور ہو ،

-       مسافرت میں ہو ،

-       فقیر ، مسکین ، محتاج ،

-       مقروض ،

-       مفلس ہو کوئی پرسان حال بھی نہ ہو ،

-        اہل و عیال والا ہو ،

یہ سب معنی قریب قریب ایک ہی ہیں

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا

پھر ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جو ایمان لاتے

پھر یہ شخص باوجود ان نیک کاموں کے دل میں ایمان رکھتا ہو ان نیکیوں پر اللہ سے اجر کا طالب ہو جیسے اور جگہ ہے

وَمَنْ أَرَادَ الاٌّخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا (۱۷:۱۹)

جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے کوشش کرے اور ہو بھی باایمان تو ان کی کوشش اللہ کے ہاں مشکورہے

اور جگہ ہے ۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (۱۶:۹۷)

ایمان والوں میں سے جو مرد عورت مطابق سنت عمل کرے یہ جنت میں جائیں گےاور وہاں بےحساب روزیاں پائیں گے

وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ  (۱۷)

اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں ‏

پھر ان کا وصف بیان ہو رہا ہے کہ لوگوں کے صدمات سہنے اور ان پر رحم و کرم کرنے کی یہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرتے ہیں

جیسے کہ حدیث میں ہے:

 رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے ، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا

 اور حدیث میں ہے:

 جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں کیا جاتا،

 ابو داؤد میں ہے:

 جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کے حق کو نہ سمجھے وہ ہم میں سے نہیں ،

أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ  (۱۸)

یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے)۔‏

فرمایا کہ یہ لوگ وہ ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا

وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ  (۱۹)

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں۔‏

عَلَيْهِمْ نَارٌ مُؤْصَدَةٌ  (۲۰)

انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہوگی۔

اور ہماری آیتوں کے جھٹلانے والوں کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا ، اور سر بند تہہ بہ تہہ آگ میں جائیں گے ، جس سے نہ کبھی چھٹکارا ملے گا نہ نجات نہ راحت نہ آرام ، اس آگ کے دروازے ان پر بند رہیں گے

مزید بیان اس کا سورہ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ، میں آئے گا انشاء اللہ ۔

حضرت قتادہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں روشنی ہو گی نہ سوراخ ہو گا نہ کبھی وہاں سے نکلنا ملے گا ،

حضرت ابو عمران جوئی فرماتے ہیں:

 جب قیامت کا دن آئے گا اللہ حکم دے گا اور ہر سرکش کو، ہر ایک شیطان کو اور ہر اس شخص کو جس کی شرارت سے لوگ دنیا میں ڈرتے رہتے تھے ۔ لوہے کی زنجیروں سے مضبوط باندھ دیا جائے گا، پھر جہنم میں جھونک دیا جائے گا پھر جہنم بند کر دی جائے گی ۔

 اللہ کی قسم کبھی ان کے قدم ٹکیں گے ہی نہیں

اللہ کی قسم انہیں کبھی آسمان کی صورت ہی دکھائی نہ دے گی

 اللہ کی قسم کبھی آرام سے ان کی آنکھ لگے گی ہی نہیں

اللہ کی قسم انہیں کبھی کوئی مزے کی چیز کھانے پینے کو ملے گی ہی نہیں (ابن ابی حاتم)

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com