Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Dahr

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا (۱)

یقیناً گزرا ہے انسان ایک وقت زمانے میں  جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔‏

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ ا پنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے،

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لئےپیدا کیا

اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں،

جیسے اور جگہ ہے:

لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (۶۷:۲)

تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟

فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (۲)

اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا

پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو ۔

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (۳)

ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔ ‏

ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا،

جیسے اور جگہ ہے:

وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى (۴۱:۱۷)

ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی

 اور جگہ ہے:

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ (۹۰:۱۰)

ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں،

یعنی بھلائی برائی کی،

 اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابو صالح ضحاک اور سدی سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی ، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے

 شَاكِرًا اور كَفُورًا کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال ہ کی ضمیر ہے جو إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ میں ہے، یعنی وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے، جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے :

 ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خریدوفروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے،

 مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ نے فرمایا:

 اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے

حضرت کعب ؓنے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟

فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے

 اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے

 اے کعب روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا کہ دلیل نجات ہے۔

اے کعب وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے،

 اے کعب لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے،

سورہ روم کی آیت فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡہَا‌ (۳۰:۳۰)کی تفسیر میں حضرت جابر کی روایت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے:

 ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا،

 مسند احمد کی اور حدیث میں ہے:

 جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں دوسرا شیطان کے ہاتھ میں پس اگر وہ اس کام کے لئے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لئے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لئے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے۔

إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا (۴)

یقیناً ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے،

 جیسے اور جگہ ہے:

إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ(۴۰:۷۱،۷۲)

جب انکی گردنوں میں طوق ہونگے اور زنجریں ہوں گی گھسیٹے جائیں گے کھولتے ہوئے پانی میں اور پھر جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے۔‏

 ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے

إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا (۵)

بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے۔

انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب كَافُورًا نامی نہر کے پانی کا ہو گا، ذائقہ بھی اعلیٰ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر كَافُورًا کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو خوشبو،

عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا (۶)

جو ایک چشمہ ہےجس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (جدھر چاہیں)۔‏

كَافُورًا ایک نہر کا نام ہے جس سے اللہ کے خاص بندے پانی پیتے ہیں اور صرف اسی سے آسودگی حاصل کرتے ہیں اسی لئے یہاں اسے "ب" سے متعدی کیا اور تمیز کی بنا پر عَيْنًا پر نصب دیا، یہ پانی اپنی خوشبو میں مثل كَافُورًا کے ہے یا یہ ٹھیک كَافُورًا ہی ہے اور عَيْنًا کا زبر يَشْرَبُ کی وجہ سے ہے

پھر اس نہر تک انہیں آنے کی ضرورت نہیں یہ اپنے باغات مکانات، مجلسوں اور بیٹھکوں میں جہاں بھی جائیں گے اس لے جائیں گے اور وہیں وہ پہنچ جائے گی،

 تَفْجِيرًا کے معنی روانی اور اجرا کے ہیں، جیسے آیت حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا (۱۷:۹۰) اور وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا(۱۸:۳۳) میں ۔

يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا (۷)

جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے ۔‏

ان لوگوں کی نیکیاں بیان ہو رہی ہیں کہ جو عبادت اللہ کی طرف سے ان کے ذمہ تھی وہ بجا لاتے تھے بلکہ جو چیز یہ اپنے اوپر کر لیتے اسے بھی بجا لاتے یعنی نذر بھی پوری کرتے۔

حدیث میں ہے:

 جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ پوری کرے اور جو نافرمانی کی نذر مانے اسے پورا نہ کرے۔

 امام بخاری نے اسے امام مالک کی روایت سے بیان فرمایا

اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بھاگتے رہتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن کا ڈر ہے جس کی گھبراہٹ عام طور پر سب کو گھیر لے گی اور ہر ایک الجھن میں پڑ جائے گا مگر جس پر اللہ کا رحم و کرم ہو، زمین و آسمان تک ہول رہے ہوں گے،

 استطار کے معنی ہی ہیں پھیل جانے والی اور اطراف کو گھیر لینے والی کے ہیں،

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (۸)

اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو۔‏

إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (۹)

ہم تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔‏

یہ نیکو کار اللہ کی محبت میں مستحق لوگوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ بھی کرتے رہتے تھے

 اور ہ کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے طعام کو بھی کہا ہے لفظاً زیادہ ظاہر بھی یہی ہے، یعنی باوجود طعام کی محبت اور خواہش ضرورت کے راہ اللہ غرباء اور حاجت مندوں کو دے دیتے ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے

وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ (۲:۱۷۷)

مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ دیتے رہتے ہیں

 اور فرمان ہے:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (۳:۹۲)

تم ہرگز بھلائی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی چاہت کی چیزیں راہ اللہ خرچ نہ کرو،

حضرت نافع فرماتے ہیں :

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے آپ کی بیماری میں انگور کا موسم آیا جب انگور بکنے لگے تو آپ کا دل بھی چاہا کہ میں انگور کھاؤں، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت صفیہؓ نے ایک درہم کے انگور منگائے، آدمی لے کر آیا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائل بھی آ گیا اور اس نے آواز دی کہ میں سائل ہوں حضرت عبد اللہ ؓنے فرمایا یہ سب اسی کو دے دو، چنانچہ دے دیئے گئے

پھر دوبارہ آدمی گیا اور انگور خرید لایا اب کی مرتبہ بھی سائل آ گیا اور اس کے سوال پر اسی کو سب کے سب انگور دے دیئے گئے، لیکن اب کی مرتبہ حضرت صفیہؓ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اگر اب آئے تو تمہیں کچھ نہ ملے گا چنانچہ تیسری مرتبہ ایک درہم کے انگور منگوائے گئے (بیہقی)

 صحیح حدیث میں ہے :

 افضل صدقہ وہ ہے جو تو اپنی صحت کی حالت میں مال کی محبت امیری کی چاہت اور افلاس کے خوف کے باوجود راہ اللہ دے،

 یعنی مال کی حرص، حب بھی اور چاہت و ضرورت بھی ہو پھر بھی راہ اللہ اسے قربان کر دے۔

 یتیم اور مسکین کسے کہتے ہیں؟

 اس کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے،

قیدی کی نسبت حضرت سعید وغیرہ تو فرماتے ہیں مسلمان اہل قبلہ قیدی مراد ہے،

 لیکن ابن عباسؓ وغیرہ کا فرمان ہے اس وقت قیدیوں میں سوائے مشرکین کے اور کوئی مسلم نہ تھا، اور اسی کی تائید اس حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو فرمایا تھا کہ ان کا اکرام کرو چنانچہ کھانے پینے میں صحابہ خود اپنی جان سے بھی زیادہ ان کا خیال رکھتے تھے۔

حضرت عکرمہؒ فرماتے ہیں اس سے مراد غلام ہیں،

 امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بہ سبب آیت کے عام ہونے کے اسی کو پسند کرتے ہیں اور مسلمؒ مشرک سب کو شامل کرتے ہیں،

غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی تاکید بہت سی احادیث میں آئی ہے، بلکہ رسول اکرم محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اپنی امت کو یہی ہے :

 نمازوں کی نگہبانی کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کا پورا خیال رکھو۔

إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (۱۰)

بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں  جو اداسی اور سختی والا ہوگا۔‏

یہ اس نیک سلوک کا نہ تو ان لوگوں سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، بلکہ اپنے حال سے گویا اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف راہ اللہ دیتے ہیں اس میں ہماری ہی بہتری ہے کہ اس سے رضائے رب اور مرضی مولا ہمیں حاصل ہو جائے، ہم ثواب اور اجر کے مستحق ہو جائیں،

حضرت سعید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ بات وہ لوگ منہ سے نہیں نکالتے یہ دلی ارادہ ہوتا ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ نے اسے ظاہر فرما دیا کہ اور لوگوں کی رغبت کا باعث بنے،یہ پاک باز جماعت خیرات و صدقات کر کے اس دن کے عذاب اور ہولناکیوں سے بچنا چاہتی ہے جو ترش رو تنگ و تاریک اور طول طویل ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ اس بنا پر اللہ ان پر رحم کرے گا اور اس محتاجی اور بےکسی والے دن ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی،

حضرت ابن عباس سے عَبُوس کے معنی تنگی والا اور قَمْطَرِيرا کے معنی طول طویل مروی ہے،

 عکرمہؒ فرماتے ہیں کافر کا منہ اس دن بگڑ جائے گا اس کے تیوری چڑھ جائے گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے عرق بہنے لگے گا جو مثل روغن گندھک کے ہو گا،

مجاہد ؒفرماتے ہیں ہونٹ چڑھ جائیں گے اور چہرہ سمٹ جائے گا،

حضرت سعید اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ بوجہ گھبراہٹ اور ہولناکیوں کے صورت بگڑ جائے گی پیشانی تنگ ہو جائے گی،

ابن زید فرماتے ہیں برائی اور سختی والا دن ہو گا،

 لیکن سب سے واضح بہتر نہایت مناسب بالکل ٹھیک قول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا ہے،

قَمْطَرِير کے لغوی معنی امام ابن جریر نے شدید کے کئے ہیں یعنی بہت سختی والا۔

فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (۱۱)

پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا  اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔ ‏

ان کی اس نیک نیتی اور پاک عمل کی وجہ سے اللہ نے انہیں اس دن کی برائی سے بال بال بچا لیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بجائے ترش روئی کے خندہ پیشانی اور بجائے دل کی ہولناکی کے اطمینان و سرور قلب عطا فرمایا، خیال کیجئے کہ یہاں عبارت میں کس قدر بلیغ تجانس کا استعمال کیا گیا ہے

 اور جگہ ہے:

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ  ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ (۸۰:۳۸،۳۹)

اس دن بہت سے چہرے چمکدار ہوں گے، جو ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے ہوں گے،

یہ ظاہر ہے کہ جب دل مسرور ہو گا تو چہرہ کھلا ہوا ہو گا،

حضرت کعب بن مالکؓ کی لمبی حدیث میں ہے :

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ چمکنے لگتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے،

حضرت عائشہؓ کی لمبی حدیث میں ہے :

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے چہرہ خوشی سے منور ہو رہا تھا اور مکھڑے مبارک کی رگیں چمک رہی تھیں۔

وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا (۱۲)

اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔‏

پھر فرماتا ہے ان کے صبر کے اجر میں انہیں رہنے سہنے کو وسیع جنت پاک زندگی اور پہننے اوڑھنے کو ریشمی لباس ملا،

ابن عساکر میں ہے کہ ابو سلیمان دارانی کے سامنے اس سورت کی کی تلاوت ہوئی جب قاری نے اس آیت کو پڑھا تو آپ نے فرمایا انہوں نے دنیاوی خواہشوں کو چھوڑ رکھا تھا پھر یہ اشعار پڑھے۔

افسوس شہوت نفس نے اور بھلائیوں کے خلا برائیوں کی چاہت نے بہت سے گواہوں کا گلا گھونٹ دیا

اور کئی ایک کو پابجولاں کر دیا،نفسانی خواہشیں ہی ہیں جو انسان کو بدترین ذلت و رسوائی اور بلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہیں۔

مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ

یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔

جنتیوں پر انعامات کی بارش

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت، راحت، انکے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے

یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے،

سورہ والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ اتکا سے مراد

-   لیٹنا ہے

-    یا کہنیاں ٹکانا ہے

-   یا چار زانو بیٹھنا ہے

-    یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے،

اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ أَرَائِكِ چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں،

لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا (۱۳)

نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ سردی کی سختی۔ ‏

پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں،

وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا

ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہونگے

جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی

وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا (۱۴)

اور ان کے میوے اور گچھے نیچے لٹکے ہوئے ہونگے۔‏

اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے،

حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہے بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہے کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے

وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِآنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا (۱۵)

اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا  جو شیشے کے ہونگے۔‏

ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے۔

 دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں،

قَوَارِيرَ مِنْ فِضَّةٍ

شیشے بھی چاندی کے

یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے،

 دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفا ف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی،

ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قَوَارِيرَ پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا توبدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر،

قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا (۱۶)

جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا

پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔

وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا (۱۷)

اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی ‏

ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے،

یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے،

عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا (۱۸)

جنت کی ایک نہر جس کا نام سلسبیل ہے ‏

سَلْسَبِيل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہریا چال بہہ رہا ہے، اس کا پانی بڑا ہلکا، نہایت شیریں ، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے۔

وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا (۱۹)

اور جنکے ارد گرد گھو متے پھرتے ہونگے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں ‏

ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں۔

حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں،

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے۔

وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا (۲۰)

تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔‏

اللہ فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے :

 سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا،

 اور حضرت ابن عمرؓ کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے :

 ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بیک نظر یکساں نگاہیں ہوں گی،

یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا؟

 اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی

اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گزار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں، آمین۔

طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے :

 ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا، آپ ﷺنے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صورت، شکل، رنگ، روپ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟

 آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا

پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا:

 جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے

 اور جو شخص سبحان اللہ و بحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں،

تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیسے ہلا ک ہوں گے؟

آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت وَمُلْكًا كَبِيرًا تک اتری

 اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟

 آپ نے فرمایا ہاں ہاں،

 بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے دفن کیا ۔

عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ

ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے

پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا،

 سُنْدُسٍ اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا،

اور إِسْتَبْرَقٌ عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنچایا جائے گا،

وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ

اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا

ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے، یہ لباس ابرار کا ہے، اور مقربین خاص کے بارے میں

 اور جگہ ارشاد ہے:

يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ (۲۲:۲۳)

انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہو گا،

وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا (۲۱)

 اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا‏

ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف، بالذت ، سرور والی، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے ،

جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

 جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہو گا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔

إِنَّ هَذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُورًا (۲۲)

(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی۔‏

پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے،

 جیسے اور جگہ ہے:

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ (۹:۲۴)

دنیا میں جو اعمال تم نے کئے انکی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان سےکھاتے پیتے رہو،

 اور فرمان ہے:

وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۷:۴۳)

منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے،

یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنْزِيلًا (۲۳)

بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے ‏

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا (۲۴)

پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم رہ  اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہنا نہ مان۔‏

اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں ۔ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تھکان کے بغیر ہر وقت وعظ، نصیحت، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو

 میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں،

 فاجر کہتے ہیں، بد اعمال عاصی کو اور كفور کہتے ہیں دل کے منکر کو،

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (۲۵)

اور اپنے رب کے نام کا صبح شام ذکر کیا کر۔

دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو،

وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا (۲۶)

اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔ ‏

راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو،

 جیسے اور جگہ فرمایا :

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (۱۷:۷۹)

رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا،

سورہ مزمل کے شروع میں فرمایا:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا  (۷۳:۱،۴)

اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات ، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ۔

إِنَّ هَؤُلَاءِ يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا (۲۷)

بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں ۔‏

پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں

نَحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ ۖ

ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بند ھن مضبوط کئے

پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں

وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا (۲۸)

اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل لائیں۔‏

اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی

 اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں۔

جیسے اور جگہ ہے:

إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ قَدِيرًا (۴:۱۳۳)

اگر اسے منظور ہو تو اے لوگو! وہ تم سب کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے، اللہ تعالیٰ اس پر پوری قدرت رکھنے والا ہے

إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ (۱۴:۱۹،۲۰)

اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے۔‏اللہ پر یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں ۔‏

إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ ۖ

یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے

پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے،

فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا (۲۹)

پس جو چاہے اپنے رب کی راہ لے لے ‏

جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے، جیسے اور جگہ فرمان ہے:

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (۴:۳۹)

بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ

اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے

پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی،

إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (۳۰)

بیشک اللہ تعالیٰ علم والا با حکمت ہے۔‏

اللہ علیم و حکیم ہے

يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ

جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر لے،

متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے ۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے،

وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (۳۱)

اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اس کے عذاب ظالموں اور نا انصافیوں سے ہی مخصوص ہیں،

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com